Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2658

2513 - حدثنا على بن معبد قال ثنا إسحاق بن منصور قال ثنا إسرائيل عن أبى يحيى عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما قال خرج النبي صلى الله عليه و سلم فرأى فخذ رجل فقال فخذ الرجل من عورته

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے ایک آدمی کے ران کو دیکھا تو فرمایا کہ آدمی کا ران اس کا ستر ہے ۔

فخذ الرجل من عورته ← خرج النبي صلى الله عليه و سلم فرأى فخذ رجل ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 2658

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2659

2514 - وحدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال حدثني حفص بن ميسرة عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبى كثير عن محمد بن جحش أن رسول صلى الله عليه و سلم مر على معمر بفناء المسجد كاشفا عن طرف فخذه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خمر فخذك يا معمر ان الفخذين عورة

ابو کثیر نے محمد بن حجش رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزر معمر کے پاس سے ہوا جبکہ وہ مسجد کے صحن میں تھا اور اس کے ران کی ایک جانب کھلی ہوئی تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معمر اپنی ران کو ڈھانپ ۔ دونوں ران ستر ہیں ۔

محمد بن جحش ← أَبِي کَثِيرٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Hadith 2659

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2660

2515 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء عن أبى كثير مولى محمد بن جحش عن محمد بن جحش عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو کثیر مولیٰ محمد بن حجش نے محمدبن حجش رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← محمد بن جحش ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← الْعَلَاءِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2660

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2661

2516 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا سليمان بن بلال وعبد العزيز قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبى كثير مولى محمد بن عبد الله عن محمد بن عبد الله بن جحش قال كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم أمشي في السوق فمر بمعمر جالسا على بابه مكشوفة فخذه فقال خمر فخذك أما علمت أنها من العورة

ابو کثیر مولیٰ محمد بن عبداللہ نے محمد بن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بازار جارہا تھا آپ کا گزر معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے دروازے پر بیٹھے تھے اور ان کو ران کھلی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ران کو ڈھانپ معلوم نہیں کہ یہ ستر کا حصہ ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، ← أبى كثير مولى محمد بن عبد الله ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← سليمان بن بلال وعبد العزيز ← الحماني ← فهد

Hadith 2661

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2662

2517 - حدثنا على بن معبد قال ثنا إسحاق بن منصور قال ثنا المحسن بن صالح عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الله بن مسلم بن جرهد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال فخذ الرجل من عورته أو قال من العورة

عبداللہ بن محمد بن عقیل نے عبداللہ بن مسلم بن جرہدنے اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی ران اس کے ستر کا حصہ ہے یا من العورہ کے لفظ فرمائے۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن مسلم بن جرهد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← المحسن بن صالح ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 2662

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2663

2518 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حسن هو بن صالح بن حي عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الله بن جرهد الأسلمى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن محمد عقیل نے عبداللہ نے عبداللہ بن جرھد اسلمی نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← عبد الله بن جرهد الأسلمى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← حسن هو بن صالح بن حي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 2663

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2664

2519 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال حدثني مالك عن أبى النضر عن زرعة بن عبد الرحمن بن جرهد عن أبيه وكان من أصحاب الصفة انه قال جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي وفخذى منكشفة فقال خمر عليك أما علمت أن الفخذ عورة

ابوالنضر نے زرعہ بن عبدالرحمن بن جرھد نے اپنے والد سے نقل کیا یہ اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے میری ران کھل گئی تو آپ نے فرمایا ران کو ڈھانپ لو کیا تم نہیں جانتے کہ ران ستر ہے ۔

خَمِّرْ عَلَيْكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ ← جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي وفخذى منكشفة ← أبيه وكان من أصحاب الصفة انه ← زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2664

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2665

2520 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن مسعر قال ثنا أبو الزناد عن عمه زرعة بن عبد الرحمن بن جرهد عن جده جرهد قال مر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى بردة قد كشفت عن فخذى فقال غط فخذك الفخذ عورة قال أبو جعفر فهذه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم تخبر أن الفخذ عورة ولم يضادها أثر صحيح فقد ثبت بها أن الفخذ عورة تبطل الصلاة بكشفها كما تبطل بكشف ما سواها من العورات فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا رأينا الرجل ينظر من المرأة التي لا محرم بينه وبينها الى وجهها وكفيها ولا ينظر الى ما فوق ذلك من رأسها ولا الى أسفل منه من بطنها وظهرها وفخذيها وساقيها ورأيناه في ذات المحرم منه لا بأس أن ينظر منها الى صدرها وشعرها ووجهها ورأسها وساقها ولا ينظر الى ما بين ذلك من بدنها وكذلك رأيناه ينظر من الأمة التي لا ملك له عليها ولا محرم بينه وبينها فكان ممنوعا من النظر من ذات المحرم منه ومن الأمة التي ليست بمحرم له ولا ملك له عليها الى فخذها كما كان ممنوعا من النظر الى فرجها فصار حكم الفخذ من النساء كحكم الفرج لا كحكم الساق فالنظر على ذلك أن يكون من الرجال أيضا كذلك وأن يكون حكم فخذ الرجل في النظر اليه كحكم فرجه في النظر اليه لا كحكم ساقه فلما كان النظر الى فرجه محرما كان كذلك النظر الى فخذه محرما وكذلك كل ما كان حراما على الرجل أن ينظر اليه منه الى ذات المحرم منه فحرام على الرجال أن ينظر اليه بعضهم من بعض وكل ما كان حلالا أن ينظر ذو المحرم من المرأة ذات المحرم منه فلا بأس أن ينظره الرجال بعضهم من بعض فهذا هو أصل النظر في هذا الباب وقد وافق ذلك ما جاءت به الروايات التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فبذلك نأخذ وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو الزناد نے اپنے چچا زرعہ بن عبدالرحمن بن جرہد کے واسطے سے اپنے دادا جرہد سے بیان کیا کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا اور میں چارد اوڑھے ہوئے تھے جس سے میری ران ظاہر ہوئی تو آپ نے فرمایا اپنی ران کو ڈھانپ لو ران سترہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آثار اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ران ستر ہے اور ان کے مقابلے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے پس ان آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ران ستر ہے اور ا س کے کھل جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے جیسا بقیہ ستر کے مقامات کھل جانے سے نماز باطل ہوتی ہے اب رہا غور و فکر کے انداز سے اس بات کو جانچتے ہیں ، ہم یہ بات پاتے ہیں کہ آدمی (ضرورت کےپیش نظر) غیر محرم عورت کے اعضاء چہرے اور ہتھیلیوں پر نگاہ ڈال سکتا ہے ۔ اس سے اوپر والاحصہ سر اور اس سے نچلے حصہ پیٹ ، پشت ،ران ،پنڈلیوں کو نہیں دیکھ سکتا اور محرم کے لیے اس کے لیے سینے ، بال ، چہرے، سر پنڈلیوں تک کو دیکھنا مباح ہے ۔ ان کے مابین بقیہ بدن کو دیکھنا اسے بھی درست نہیں اسی طرح ہم نے دیکھا کہ لونڈی جو غیر کی ملکیت ہو اور ان کے مابین کوئی محرم بھی موجود نہ ہو تو اس کے بھی محرم والے اعضاء کو دیکھ سکتا ہے ۔ پس محرم عورت اور غیر ملک لونڈی کی ران کو دیکھنا اس طر ح ممنوع ہے جیسا کہ اس کی شرمگاہ کو دیکھنا ممنوع ہے پس عورتوں کے سلسلہ میں ران اور شرمگاہ کا حکم ایک جیسا ہے اس کا حکم پنڈلی والا نہیں پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ مردوں کے لیے بھی اسی طرح کا حکم ہو اور آدمی کی ران کو دیکھنا شرمگاہ کے دیکھنے کے حکم میں ہونہ کہ پنڈلی کی طرح ہو ۔ پس جب شرمگاہ کی طرف دیکھنا حرام ہے ران کی طرف دیکھنا بھی اسی طرح حرام ہے ۔ اسی طرح ہر وہ چیز مرد کو دیکھنا محرم کے معاملے میں حرام ہے تو مردوں کے معاملے میں بھی ایک دوسرے مرد کو ان اعضاء کی طرف دیکھنا حرام ہے اور ہر وہ عضو جو محرم عورت کے لیے محرم مرد کو دیکھنا حلال ہے تو مردوں کو بھی ان اعضاء کو دیکھنا کچھ حرج نہیں رکھتا ۔ اس سلسلے میں قیاس یہی چاہتا ہے اور اس کے مؤید وہ روایات ہیں جن کو ہم جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر نقل کر چکے ہیں اور ہم اسی کواختیار کرتے ہیں اور یہی ہمارے امام ابو حنیفہ ، امام یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

جَدِّهِ جَرْهَدٍ ← عمه زرعة بن عبد الرحمن بن جرهد ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 2665

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 72 باب الأفضل في صلاة التطوع هل هو طول القيام أو كثرة الركوع والسجود ) · حديث 2666

2521 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا أبو الأحوص وخديج عن أبى إسحاق عن المخارق قال خرجنا حجاجا فمررنا بالربذة فوجدنا أبا ذر قائما يصلى فرأيته لا يطيل القيام ويكثر الركوع والسجود فقلت له في ذلك فقال ما ألوت أن أحسن أنى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من ركع ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن كثرة الركوع والسجود أفضل في صلاة التطوع من طول القيام والقراءة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا طول القيام في ذلك أفضل وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد رويناه فيما تقدم من كتابنا هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سئل أي الصلاة أفضل قال طول القنوت وفي بعض ما رويناه في ذلك طول القيام ففضل رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك إطالة القيام على كثرة الركوع والسجود وليس في حديث أبى ذر الذي ذكرنا خلاف لهذا عندنا لأنه قد يجوز أن يكون قول رسول الله صلى الله عليه و سلم من ركع لله ركعة وسجد سجدة على ما قد أطيل قبله من القيام ويجوز أيضا من ركع لله ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة وإن زاد مع ذلك طول القيام كان أفضل وكان ما يعطيه الله على ذلك من الثواب أكثر فهذا أول ما حمل عليه معنى هذا الحديث لئلا يضاد الأحاديث الأخر التي ذكرنا وممن قال هذا القول الآخر في إطالة القيام وأنه أفضل من كثرة الركوع والسجود محمد بن الحسن حدثني بذلك بن عمران عن محمد بن سماعه عن محمد بن الحسن وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو اسحاق نے المخارق سے نقل کیا کہ ہم حج کے لیے روانہ ہوئے تو ہمارا گزر مقام ربذہ کے پاس سے ہوا ہم نے وہاں ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا چنانچہ انہیں دیکھا کہ وہ قیام طویل نہ فرماتے تھے البتہ رکوع و سجدے کثرت سے کرتے تھے میں نے ان سے اس سلسلے میں عرض کیا تو کہنے لگے مجھے اس کو خوب (طویل) کرنے کی پرواہ نہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے ایک رکوع کیا اور ایک سجدہ کیا اللہ تعالیٰ اس سے اس کا ایک درجہ بڑھاتے ہیں اور ایک غلطی معاف فرماتے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا قول ہے کہ نفل نماز میں طویل قیام اور قراءت کی نسبت رکوع اور سجدات کی کثرت افضل ہے اور انہوں نے روایت بالا کو دلیل بنایا ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ طویل قیام افضل ہے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے جو اسی کتاب میں ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر آئے کہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ کونسی نماز (نفلی ) افضل ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طویل قیام والی ۔ بعض روایتوں میں قنوت کا لفظ آیا اور بعض میں قیام کا ( ہر دو کا معنی ایک ہی ہے) تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کو کثرت رکوع اور سجود سے افضل قرار دیا اور رہی روایت ابوذر جو ہم نے ذکر کی ہے اس میں ہماری اس بات کے خلاف کوئی چیز نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرامی کہ جس میں آپ نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رکوع کیا یا ایک سجدہ کیا وہ اس بات پر محمول ہو کہ جو اس سے پہلے لمبا قیام کیا ہو اور یہ بھی کہنا درست ہے کہ جس نے اللہ کے لیے ایک رکعت ادا کی اور ایک سجدہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کےذریعے اس کا ایک درجہ بلند کرتے ہیں اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتے ہیں اور اگر اس سے اس کے ساتھ ساتھ لمبے قیام کا اضافہ کر لیا تو یہ افضل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بڑھ کر ثواب دیں گے ۔ یہ معنی جو ہم نے بیان کیا ہے اس روایت سے مراد لینا بہتر ہے تاکہ وہ دوسری حدیث کے خلاف نہ ہو جس کوہم نے پیچھے ذکر کیا ۔ جنہوں نے اس طویل قیام کو افضل قرار دیا کہ وہ زیادہ رکوع اور سجود سے بہتر ہے وہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ ہے اور مجھے یہ بات ابن ابی عمران نے نقل کی کہ یہی امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہم کا قول بھی ہے ۔

الْمُخَارِقِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبو الأحوص وخديج ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فهد

Hadith 2666

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 72 باب الأفضل في صلاة التطوع هل هو طول القيام أو كثرة الركوع والسجود ) · حديث 2667

2523 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن يزيد بن أرطاة عن جبير بن نفير أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما رأى فتى وهو يصلى قد أطال صلاته فلما انصرف منها قال من يعرف هذا قال رجل أنا فقال عبد الله لو كنت أعرفه لأمرته أن يطيل الركوع والسجود فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا قام العبد يصلى أتى بذنوبه فجعلت على رأسه وعاتقيه فكلما ركع أو سجد تساقطت عنه فان قال قائل ففي هذا الحديث تفضيل الركوع والسجود على القيام فقيل له ما فيه ما ذكرت وإنما فيه ما يعطاه المصلى على الركوع والسجود من حط الذنوب عنه ولعله يعطى بطول القيام أفضل من ذلك وأما ما فيه عن بن عمر فان الذي روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في تفضيله طول القيام أولى منه تم كتاب الصلاة

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا جو کہ اپنی نماز کو طویل کرنے والا تھا جب وہ نماز سے فارغ ہو ا تو آپ نے فرمایا اس نوجوان سے کون واقف ہے ایک آدمی نے کہ اس کو میں جانتا ہوں عبداللہ کہنے لگے اگر میں اس کو جانتا تو اس کو کہتا یہ رکوع اور سجود کو طویل کرے اس لیے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جب بندہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہوں کو لایا جاتا ہے اور وہ اس کے کندھوں پر سر پر رکھ دیئے جاتے ہیں وہ جب بھی رکوع یا سجدہ کرتا ہے تو گناہ اس سے گزتے چلے جاتے ہیں اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس روایت میں تو رکوع اور سجدے کو قیام سے افضل کہا گیا ہے ۔ تو اس کو جواب میں یوں کہا جائے گا کہ بلاشبہ بات ہے جو تم نے ذکر کی ۔ دراصل اس روایت میں نمازی کو رکوع اور سجدے پر ملنے والا ثواب اور اس سے مٹائے جانے والے گناہ اس کا تذکرہ ہے اور ممکن ہے کہ طویل سے یہ ثواب اور بھی بڑھ جائے باقی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو قیام کی فضیلت کو ظاہر کرتی ہے وہ ہر اعتبار سے اولیٰ اور افضل ہے ۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← يزيد بن أرطاة ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Hadith 2667

chevron_left Previous
1…31323334
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter