شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2646
2502 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث والليث عن كثير بن فرقد فذكر بإسناده مثله
عمروب بن حارث اور لیث نے کثیر بن فرقد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہ ہیں وہ آثار متواتر ہ جو دباغت سے چمڑے کی طہارت کوثابت کرتے ہیں ۔ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے ۔ چنانچہ یہ عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی روایت سے اولیٰ ہیں کیونکہ وہ ان آثار کے خلاف بات کی راہنمائی نہیں کرتی ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ مردار کے چمڑوں کی دباغت کا مباغ ہونا اور ان کی طہارت اس دباغت کے ذریعہ یہ مردار کی حرمت سے پہلے تھی تو اس کے مخالف دلیل اور اس کی دلیل کو یہ حکم مردار کی تحریم کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی اس تحریم میں داخل نہیں ہے ۔
كثير بن فرقد فذكر بإسناده مثله ← عمرو بن الحارث والليث ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Hadith 2646
