شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2634
2491 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة عن يعقوب بن عطاء عن أبيه عن بن عباس رضي الله عنهما قال ماتت شاة لميمونة فقال النبي صلى الله عليه و سلم هلا انتفعتم بإهابها قالوا إنها ميتة فقال إن دباغ الأديم طهوره
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میمونہ رضی اللہ عنہ کی ایک بکری مر گئی تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کو دباغت کرکے اس سے کیوں فائدہ نہ اٹھایا انہوں نے کہا وہ تو مردار ہے آپ نے فرمایا کچے چمڑے کی طہارت دباغت کرنےمیں ہے ۔
((إن دباغ الأديم طهوره)). ← إِنَّهَا مَيْتَةٌ. ← النبي صلى الله عليه و سلم هلا انتفعتم بإهابها ← ماتت شاة لميمونة ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← بن مرزوق
Hadith 2634
