Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2610

2467 - حدثنا أبو أمية قال ثنا شريح بن النعمان الجوهري قال ثنا بن سلمة عن بشر بن الحارث سمعت سمرة بن جندب يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا هكذا يفعل من نام عن صلاة أو نسيها واحتجوا في ذلك بهذين الحديثين وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصليها مع التي تليها من المكتوبة وليس عليه غير ذلك واحتجوا في ذلك بما

بشر بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ فرماتے تھے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص نماز سے سو جائے یا بھول جائے جب یاد آئے پڑھ لے انہوں نے مذکورہ بالا روایات سےا ستدلال کیا اور ان سے دیگر علماء نے اختلاف کیا اور کہا بلکہ بلکہ وہ اپنی قریبی فرض نماز کے فرائض کے ساتھ ادا کر لے اور انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← بن سلمة ← شريح بن النعمان الجوهري ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2610

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2611

2468 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا مروان بن جعفر بن سعد السمرة قال أخبرني محمد بن إبراهيم بن حبيب بن سليمان بن سمرة عن جعفر بن سعد بن سمرة عن حبيب بن سليمان عن أبيه عن سمرة أنه كتب الى بنيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرهم إذا شغل أحدهم عن الصلاة أو نسيها حتى يذهب حينها الذي تصلى فيه أن يصليها مع التي تليها من الصلاة المكتوبة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصليها إذا ذكرها وان كان ذلك قبل دخول وقت التي تليها ولا شيء عليه غير ذلك واحتجوا في ذلك بحديث أبى قتادة وعمران وأبى هريرة رضي الله عنهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نام عن صلاة الصبح حتى طلعت الشمس فصلاها بعد ما استوت ولم ينتظر دخول وقت الظهر وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في غير هذا الموضع من هذا الكتاب وقد

حبیب بن سلیمان نے سلیمان سے انہوں نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کو لکھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس وقت حکم فرماتے جبکہ ہم میں سے کوئی نماز سے مشغول ہو جاتا ( اور وہ نماز اس سے رہ جاتی) یا بھول جاتا اور نماز کا وقت گزر جاتا تو آپ فرماتے اس کو اس نماز کے ساتھ پڑھا جائے جو فرض نماز اس کے قریب ہے یہ دیگر حضرات نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ۔ بلکہ اسے اسی وقت ادا کر لے جب اسے یاد آئے خواہ اگلی نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے ہی ہو ۔ اس پر اس قضاء کے علاوہ کوئی چیز لازم نہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ابو قتادہ اور عمران اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات سے استدلال کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز صبح سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلو ع ہو گیا تو آپ نے اس کو سورج کی دھوپ کے برابر ہونے پر ادا فرما لیا اس میں ظہر کے وقت کے داخل ہونے کا انتظار نہیں کیا ۔ ہم اس روایت کو اس کے مکمل اسناد کے ساتھ دوسری جگہ ذکر کر چکے ہیں ۔

الى بنيه ← سَمُرَةَ، أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← حبيب بْنُ سُلَيْمَانَ ← جعفر بن سعد بن سمرة ← محمد بن إبراهيم بن حبيب بن سليمان بن سمرة ← مروان بن جعفر بن سعد السمرة ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2611

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2612

2469 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي عن خالد عن عطاء بن السائب عن يزيد بن أبى مريم عن أبيه قال نام رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه عن صلاة الفجر حتى طلعت الشمس فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بلالا فأذن ثم صلى ركعتين ثم أمره فأقام فصلى بهم المكتوبة

یزید بن مریم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز فجر سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر دو رکعت سنت ادا فرمائی پھر ان کو اقامت کہنے کا حکم فرمایا انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرض نماز پڑھائی ۔

نام رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2612

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2613

2470 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا زافر بن سليمان عن شعبة عن جامع بن شداد عن عبد الرحمن بن علقمة عن بن مسعود رضي الله عنهما قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فلما كنا بدهاس من الأرض قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من يكلؤنا الليلة قال بلال أنا قال إذا تنام فنام حتى طلعت الشمس فاستيقظ فلان وفلان فقالوا تكلموا حتى يستيقظ فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال افعلوا ما كنتم تفعلون وكذلك يفعل من نام أو نسي وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا

عبدالرحمن بن علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے ۔ جب ہم ایک ریتلی زمین پر پہنچے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات کو ن ہماری نگرانی کرے گا بلال نے کہا میں ۔ فرمایا پھر تو تو سو جائے گا وہ طلوع آفتاب تک سوتے رہے پس فلاں فلاں بیدار ہوئے انہوں نے آپس میں کہا بات کرو تاکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ہوجائیں چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہو گئے تو آپ نے فرمایا تم وہی کرو جو تم کیا کرتے تھے اور ہر نماز سے سونے والا یا بھولنے والا اسی طرح کرتا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس سلسلہ میں روایات وارد ہیں۔

بن مَسْعُودٍ ← عبد الرحمن بن علقمة ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← شُعْبَةُ، ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2613

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2614

ما حدثنا أحمد بن داود قال ينا أبو الوليد قال ثنا همام عن قتادة عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها قال همام ثم سمعت قتادة يحدث به من بعد ذلك فقال أقم الصلاة لذكرى

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی نماز بھول گیا اسے اس وقت پڑھ لینی چاہیے جب اسے یاد آئے ۔ ہمام راوی کہتے ہیں کہ میں نے قتادہ کو بیان کرتے سنا تو انہوں نے اقم الصلاۃ لذکری کے الفاظ بھی کہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← ينا أبو الوليد ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2614

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2615

2472 - حدثنا فهد قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن قتادة عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها

ابو عوانہ نے قتادہ سے انہون نے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے جو شخص کوئی نما زبھول جائے وہ یاد آنے پر پڑھ لے ۔

من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2615

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2616

2473 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يحيى بن عبد الحميد قال ثنا حماد بن زيد عن ثابت عن عبد الله بن رباح عن أبى قتادة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على أن لا شيء عليه غير قضائه لأنه ذكر من نسي صلاة ثم أخبر بما عليه وقد روى عنه أيضا في ذلك في غير هذا الحديث ما قد زاد على هذا اللفظ

عبداللہ بن رباح نےحضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پر قضاء کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ آپ نے بھولی ہوئی نماز کا تذکرہ فرمایا ۔ آپ نے جو اس پر لازم ہوتا تھا وہ بتلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ بھی روایات ہیں جن میں اس سے اضافہ ہے ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يحيى بن عبد الحميد ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2616

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2617

2474 - حدثنا فهد قال ثنا أبو الوليد قال ثنا همام عن قتادة عن أنس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها لا كفارة لها الا ذلك قال ثم سمعته يحدث ويزيد فيه أقم الصلاة لذكرى

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی نماز بھول جائے اسے اس نماز کو اس وقت پڑھ لینا چاہیے جب اسے یاد آئے اس پر نماز بھولنے کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2617

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2618

2475 - حدثنا على بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أنا سعيد عن قتادة عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال من نسي صلاة أو نام عنها فان كفارتها أن يصليها إذا ذكرها فلما قال لا كفارة لها الا ذلك استحال أن يكون عليه مع ذلك غيره لأنه لوكان عليه مع ذلك غيره إذا لما كان ذلك كفارة لها وقد روى الحسن عن عمران بن حصين في حديث النوم عن الصلاة حتى طلعت الشمس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاها بهم قال فقلنا يا رسول الله ألا نقضيها لوقتها من الغد فقال النبي صلى الله عليه و سلم أينهاكم الله عن الربا ويقبله منكم وقد ذكرنا ذلك بإسناده في غير هذا الموضع من هذا الكتاب فلما سألوا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فأجابهم بما ذكرنا استحال أن يكونوا عرفوا أن يقضوها من الغد إلا بمعاينتهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل ذلك فيما تقدم أو أمرهم به أمرا دل ذلك على نسخ ما روى ذو مخمر وسمرة وأن هذا كان متأخرا عنه فهو أولى منه لأنه ناسخ له فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما من طريق النظر فانا رأينا الله عز و جل أوجب الصلاة لمواقيتها وأوجب الصيام لميقاته في شهر رمضان ثم جعل على من لم يصم شهر رمضان عدة من أيام أخر فجعل قضاءه في خلافه من الشهور ولم يجعل مع قضائه بعدد أيامه قضاء مثلها فيما بعد ذلك فالنظر على ما ذكرنا أن يكون كذلك الصلاة إذا نسيت أو فاتت أن يكون قضاؤها يجب فيما بعدها وإن لم يكن دخل وقت مثلها ولا يجب مع قضاءها ثانية قياسا ونظرا على ما ذكرنا من الصيام الذي وصفنا وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن جماعة من المتقدمين

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی نما زبھول جائے یا اس سے سو جائے اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے جب یاد آئے وہ ادا کرے جب آپ نے یہ فرمایا کہ " لا کفارۃ لھا الا ذلک" کہ اس کا یہی کفارہ ہے ، تو اب یہ بات ناممکن ہے کہ اس کے ذمہ اس کے علاوہ اور چیز ہو ۔ اگر اور کچھ لازم ہوتا تو اسی ہی کو کفارہ قرار نہ دیا جاتا اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نےحضرت عمران رضی اللہ عنہ اس روایت میں تذکرہ کیا جس میں طلوع آفتاب تک نیند کر تذکرہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی عمران کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس کو کل اس ےک وقت میں قضاء نہ کریں ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ تمہیں ربواسے منع فرمائیں اور پھر تم سے قبول کریں ۔ ہم نے ا س روایت کو اس کی اسناد کے ساتھ اس کے علاوہ مقام میں ذکر کیا ہے ۔ پس جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال بھی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مذکورہ جواب عنایت فرمایا تو یہ بات ناممکن ہے کہ انہوں نے قضا ء کرنے کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سابقہ عمل یا حکم کےبغیر معلوم کیا ہو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ ذومخیمرہ اور سمرہ رضی اللہ عنہم کی روایت کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے اور یہ حکم متاخر ہے اور اس کا ناسخ ہونے کی وجہ سے اس اولیٰ ہے ۔ آثار کے پیش نظر تو یہ اس باب کا حکم ہے ۔ رہا نظرو فکر کے اعتبار سے تو وہ ہم اس طرح پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں اپنے اپنے اوقات پرفرض فرمائی ہیں اور رمضان المبارک کے روزے کو ان کے وقت ماہ رمضان میں لازم فرمایا ہے ۔ پھرجو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے اس کے لیے دوسرے دنوں سے گنتی کو مقرر فرمایا تو ان کی قضاء کورمضان کے علاوہ مہینوں میں قرار دیا اور ان کی قضاء کے بعد اتنی اور اس کی مثل بطور قضاء رکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ پس غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کاحکم بھی یہی ہو کہ جب وہ بھول جائے کہ اس کی قضاء ہی اس کے ذمہ لازم ہو خواہ اس جیسی نماز کا وقت نہ دخل ہوا ہو اور اس کی ایک مرتبہ قضاء کے بعد دوسری مرتبہ لازم نہ ہو ۔ ہماری مذکورہ بالا بحث سے قیاس و نظر کا یہی تقاضا معلوم ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے روزے کے متعلق بیان کیا ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور متقدمین کی ایک جماعت سے بھی یہ بات مروی ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2618

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2619

2476 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال من نسي صلاة فذكرها مع الامام فليصله معه ثم ليصل التي نسي ثم ليصل الأخرى بعد ذلك

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جو نماز کو بھول جائے اسے امام کے ساتھ یاد آئے توا سکے ساتھ وقتی نماز ادا کر ے پھر بھولی ہوئی نماز پڑھے پھر دوسری اس کے بعد پڑھے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2619

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2620

2477 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا أبو إبراهيم الترجماني قال ثنا سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2620

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2621

2478 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا الليث عن سعيد بن عبد الرحمن فذكر بإسناده مثله ولم يرفعه وقوله فليصله معه فذلك محتمل عندنا أن يفعل ذلك على أنها له تطوع

سعید بن عبدالرحمن نے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح نقل کی البتہ روایت کو مرفوع نقل نہیں کیا ۔

سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2621

chevron_left Previous
1…293031…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter