شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2610
2467 - حدثنا أبو أمية قال ثنا شريح بن النعمان الجوهري قال ثنا بن سلمة عن بشر بن الحارث سمعت سمرة بن جندب يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا هكذا يفعل من نام عن صلاة أو نسيها واحتجوا في ذلك بهذين الحديثين وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصليها مع التي تليها من المكتوبة وليس عليه غير ذلك واحتجوا في ذلك بما
بشر بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ فرماتے تھے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص نماز سے سو جائے یا بھول جائے جب یاد آئے پڑھ لے انہوں نے مذکورہ بالا روایات سےا ستدلال کیا اور ان سے دیگر علماء نے اختلاف کیا اور کہا بلکہ بلکہ وہ اپنی قریبی فرض نماز کے فرائض کے ساتھ ادا کر لے اور انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← بن سلمة ← شريح بن النعمان الجوهري ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2610
