شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2286
2160 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا بن أبى مريم قال انا بن أبى الزناد قال أخبرني أبى عن خارجة بن زيد بن ثابت أن زيد بن ثابت كان يركع على عتبة المسجد ووجهه الى القبلة ثم يمشى معترضا على شقه الأيمن ثم يعتد بها إن وصل الى الصف أو لم يصل فان قال قائل فأنتم تخالفون ما قد رويتموه عن بن مسعود رضي الله عنه وزيد وتقولون لا ينبغي لأحد أن يركع دون الصف قيل له نعم ولكن احتججنا بذلك عليك لتعلم أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كلهم لا يبطلون صلاة من دخل في الصلاة قبل وصوله الى الصف فان قال قائل فما الذي ذهبتم اليه حتى خالفتم عبد الله وزيدا قيل له ما قد رويناه في هذا الباب من حديث أبى هريرة رضي الله عنه لا يركع أحدكم دون الصف حتى يأخذ مكانه من الصف وقد قال بذلك الحسن
خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد کی چوکھٹ کے پاس قبلہ رخ ہو کر رکوع کرتے پھر وہ اپنی دائیں مڑتے ہوئے چلتے رہتے پھر اسی سے شمار کرتے خواہ صف میں پہنچیں یا نہ پہنچیں ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ تم ابن مسعود اور زید رضی اللہ عنہ کی عروایت سے مخالفت کرنےو الے ہو ۔ تمہارا کہنا یہ ہے کہ کسی کو صف سے پہلے رکوع مناسب نہیں ۔ اس کو جواب میں کہا جائے گا جی ہاں! مگر ہم نے تو ان روایات سے تمہار خلاف دلیل حاصل کی تاکہ تمہیں یہ علم ہو جائے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صف میں پہنچنے سے قبل نماز میں شامل ہونے والے کی نماز کو باطل قرار نہ دیتے تھے اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ ابن مسعود اور زید رضی اللہ عنہم کی روایت کے خلاف چل کر تم نے کس روایت کو اختیار کیا ہے ؟ تو جواب میں کہا جائے گا، ہم نےیہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اختیار کیا ہے کہ " لا یرکع احد کم دون الصف" (الحدیث) کہ تمہارا کوئی شخص صف سے پہلے رکوع میں نہ جائے جب تک کہ وہ صف میں اپنے ٹھکانے نہ پہنچے اور یہ بات حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کہی ہے ۔
خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِي ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود
Hadith 2286
