Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2598

2455 - وحدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا وهيب قال ثنا خالد عن أبى قلابة عن زينب بنت أبى سلمة عن أم سلمة رضي الله عنها قالت كان يفرش لي حيال مصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى وانى حياله

زینت بنت ابی سلمہ نے حضرت ام سلمہ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ اپنے مصلیٰ کے سامنے میرے لیے بستر بچھاتے اور آپ نماز پڑھتے رہتے اورمیں لیٹی رہتی تھی ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2598

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2599

2456 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا الشيباني عن عبد الله بن شداد قال حدثتني خالتى ميمونة بنت الحارث قالت كان فراشى حيال مصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فربما وقع ثوبه على وهو يصلى قال أبو جعفر فقد تواترت هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما يدل على أن بنى آدم لا يقطعون الصلاة وقد جعل كل مار بين يدي المصلى في حديث بن عمر وأبى سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم شيطانا وأخبر أبو ذر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الكلب الأسود إنما يقطع الصلاة لأنه شيطان فكانت العلة التي لها جعله يقطع الصلاة قد جعلت في بنى آدم أيضا وقد ثبت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنهم لا يقطعون الصلاة فدل ذلك أن كل مار بين يدي المصلي مما هو سوى بني آدم كذلك أيضا لا يقطع الصلاة والدليل على صحة ما ذكرنا أيضا أن بن عمر مع روايته ما ذكرنا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد روى عنه من قوله من بعده ما

عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میری خالہ میمونہ بنت الحارث نے مجھے بیان کیا کہ میرا بستر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلی کے سامنے ہوتا بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ پر آپڑتا جبکہ آپ نماز ادا فرمارہے ہوتے تھے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کثیر روایات جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں اس بات کو ثابت کر رہی ہیں کہ انسان کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ ابن عمر اور ابو سعید رضی اللہ عنہ نے اپنی مرویات میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ ہر گز رنے والا شیطان ہے اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بتلا رہی ہے کہ سیاہ کتا نماز کو توڑدیتا ہے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ پس قطع کی علت جس نے نماز کو توڑ دیا ۔ شیطان بتلائی گئی جو جیوان و انسان جو نمازی کے آگے سے گزریں دونوں میں بتلائی اور دوسری روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہو چکی کہ انسان کا گزرنا قاطع صلاۃ نہیں ہے اور اس مذکورہ بالا بیان کی درستی کی دلیل یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی وفات کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول منقول ہے کہ مسلمان کی نماز کی کسی چیز کا گزرنا بھی قاطع نماز نہیں ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2599

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2600

2457 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهرى عن سالم قال قيل لابن عمر إن عبد الله بن عياش بن ربيعة يقول يقطع الصلاة الكلب والحمار فقال بن عمر رضي الله عنهما لا يقطع صلاة المسلم شيء

سالم کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ عبداللہ بن عیاش بن ربیعہ کہتا ہے کہ کتا اور گدھا نمازی کے آگے سے گزر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مسلمان کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی یعنی کسی چیز کا گزرنا ۔

يقطع الصلاة الكلب والحمار فقال بن عمر لا يقطع صلاة المسلم شيء ← قيل لابن عمر إن عبد الله بن عياش بن ربيعة ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2600

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2601

2458 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد عن شعبة عن عبيد الله بن عمر عن نافع وسالم عن بن عمر رضي الله عنهما قال لا يقطع الصلاة شيء وادرؤوا ما استطعتم

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نماز کو کوئی چیز آگے سے گزرنے سے نہیں توڑ تی البتہ جہاں تک ممکن ہو اسے ہٹاؤ۔

«لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، وَادْرَؤُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ» ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ وَسَالِمٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2601

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2602

2459 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم عن عبيد عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله فهذا بن عمر رضي الله عنهما قد قال هذا بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد سمع ذلك من النبي صلى الله عليه و سلم فقد دل هذا على ثبوت نسخ ما كان سمعه من رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى صار ما قال به من هذا أولى عنده من ذلك وأما القتال المذكور في حديث بن عمر رضي الله عنهما وأبى سعيد من المصلى لمن أراد المرور بين يديه فقد يحتمل أن يكون ذلك أبيح في وقت كانت الأفعال فيه مباحة في الصلاة ثم نسخ ذلك بنسخ الأفعال في الصلاة فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأيناهم لا يختلفون في الكلب غير الأسود أن مروره بين يدي المصلى لا يقطع الصلاة فأردنا أن ننظر في حكم الأسود هو هو كذلك أم لا فرأينا الكلاب كلها حرام أكل لحومها ما كان منها أسود وما كان منها غير أسود فلم يكن حرمة لحومها لألوانها ولكن لعللها في أنفسها وكذلك كل ما نهى أكله من كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير ومن الحمر الأهلية لا يفترق في ذلك حكم شيء منها لاختلاف ألوانها وكذلك أسئارها كلها فالنظر على ذلك أن يكون حكم الكلاب كلها في مرورها بين يدي المصلى سواء فكما كان غير الأسود منها لا يقطع الصلاة فكذلك الأسود ولما ثبت في الكلاب بالنظر ما ذكرنا كان الحمار أولى أن يكون كذلك لأنه قد اختلف في أكل لحوم الحمر الأهلية فأجازه قوم وكرهه آخرون فإذا كان ما لا يؤكل لحمه باتفاق المسلمين لا يقطع مروره الصلاة كان ما اختلف في أكل لحمه أحرى أن لا يقطع مروره الصلاة فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وأبي سوف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك أيضا عن نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ذكرنا بعد ما روى عنهم فيما تقدم من هذا الباب وقد روى عنهم في ذلك أيضا ما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کہہ رہے ہیں یقیناً انہوں نے یہ بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو گی ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جو کچھ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ منسوخ ہوا تبھی تو یہ بات ان کے ہاں اس سے بہتر قرار پائی ۔ اب رہی وہ روایت جس میں لڑنے کا تذکرہ ہے جس کو ابن عمر اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ۔ اس میں احتمال ہے کہ یہ بھی اس وقت مباح تھا جب نماز میں کئی افعال مباح تھے پھر ان افعال کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہو گیا روایات کے معانی کی تصحیح کے لیے تو باب کا یہی مطلب ہے اب نظرو فکر سے اس کو جانچتے ہیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ سیاہ کتے کے علاوہ کتا نمازی کے سامنے سے گزرے تو وہ نماز کو نہیں توڑتا اب سیاہ کتے کا حکم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح ہے ۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ تمام کتوں کا گوشت حرام ہے خواہ سیاہ ہو یا سفید و غیرہ اور سیاہ کے علاوہ میں گوشت کی حرمت کا سبب ان کی رنگوں کا فرق نہیں بلکہ حرمت کا سبب وہ علل ہیں جو ان کی ذات میں پائی جاتی ہیں اسی طرح وہ پرندے جو پنجے سے نوچ کر کھانے والے ہیں ان کے گوشت کو حرمت ان کی رنگت کی بنا ء پر نہیں اور گھریلو گدھے کا حکم ان کے رنگوں کے اختلاف سے مختلف نہیں ہوتا ۔ ان کے جھوٹے کا بھی یہی حکم ہے ۔ پس اس پر غور فکر کا تقاضا یہ ہے کہ تمام کتے نماز کے سامنے گزرنے میں برابر ہیں تو جس طرح غیر سیاہ کتا نماز کے لیے قاطع نہیں اسی سیاہ کتا بھی قاطع نہیں ۔ مذکورہ قیاس کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جائے گا کہ گدھا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا حکم بھی یہی ہو ۔ کیونکہ گھریلو گدھے کے گوشت میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا بعض نے اس کو جائز قرار دیا اور دوسروں نے اس کو مکروہ تحریمی قرار دیا ۔ پس جب وہ جانور جن کا گوشت تمام مسلمان نہ کھانے پر متفق ہیں اس کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو جس کے گوشت میں اختلاف ہے اس کے گزرنے سے بدرجہ اولیٰ نماز نہ ٹونٹی چاہیے ۔ اس باب میں نظر کا یہی تقاضا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محدم رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک عظیم جماعت سے مروی ہے ۔ چند روایات اسی باب کے شروع میں گزریں ۔ ان کی مرویات مزید ملاحظہ ہوں ۔

بن عمر مثله فهذا بن عمر قد ← نَافِعٍ ← عُبَيْدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2602

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2603

2460 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة وسعيد بن أبى عروبة وهشام بن أبى عبد الله عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن عليا وعثمان رضي الله عنهما قالا لا يقطع صلاة المسلم شيء وادرؤوا عنها ما استطعتم

سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت علی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے فرمایا مسلمان کی نماز کو کسی کا گزرنا نہیں توڑ تا البتہ گزرنے والے کو حتی الامکان روکا جائے ۔

لا يقطع صلاة المسلم شيء وادرؤوا عنها ما استطعتم ← سعيد بن المسيب أن عليا وعثمان ← قَتَادَةَ ← شعبة وسعيد بن أبى عروبة وهشام بن أبى عبد الله ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2603

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2604

2461 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح عن إسرائيل عن أبى إسحاق عن الحارث عن على رضي الله عنه قال لا يقطع صلاة المسلم الكلب ولا الحمار ولا المرأة ولا ما سوى ذلك من الدواب وادرؤوا ما استطعتم

حارث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مسلمان کی نماز کو آگے گزرنے سے کتا ، گدھا ، عورت میں سے کوئی چیز بھی نہیں توڑتی نہ اور کوئی جانور البتہ گزرنے والے کو حتی الامکان روکا جائے ۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2604

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2605

2462 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعيد بن إبراهيم عن أبيه أنه كان يصلى فمر بين يديه رجل قال فمنعته فغلبنى الا أن يمر بين يدي فذكرت ذلك لعثمان بن عفان رضي الله عنه وكان خال ابنه فقال لا يضرك

شعبہ نے سعید بن ابراہیم انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کے سامنے سے آدمی گزرا انہوں نے اس کو روکا مگر وہ زور سے گزر گیا میں نے یہ بات عثمان رضی اللہ عنہ کو بتلائی (وہ ابراہیم کے ماموں لگتے تھے) تو انہوں نے فرمایا تیری نماز میں فرق نہیں پڑا ( ابراہیم کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ حضر ت عثمان کی اخیافی بہن تھیں )

أَبِيهِ ← سعيد بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2605

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2606

2463 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير أن بشر بن سعيد وسليمان بن يسار حدثاه أن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف حدثهما أنه كان في صلاة فمر به سليط بن أبى سليط فجذبه إبراهيم فخر فشج فذهب الى عثمان بن عفان رضي الله عنه فأرسل الى فقال لي ما هذا فقلت مر بين يدي فرددته لئلا يقطع صلاتي قال ويقطع صلاتك قلت أنت أعلم قال انه لا يقطع صلاتك

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ میں نماز میں مصروف تھا میرے سامنے سے سلیط بن ابی سلیط گزرا ۔ ابراہیم نے اس کو کھینچا پس وہ گر پڑے اور ان کے سر پر زخم آگیا سلیط عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نےمیری طرف پیغام بھیجا اور مجھے کہا یہ کیا حرکت کی ہے ؟ میں نے کہا یہ میرے سامنے سے گزرا میں نے اس کو روکا تاکہ میری نماز نہ توڑ دے آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تیری نماز ٹوٹ جائے گی ۔ میں نے کہا اس کا تو آپ کوعلم ہے ۔ آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تمہاری نماز نہیں ٹوٹتی تھی ۔

بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2606

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2607

2464 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا إسرائيل قال ثنا الزبرقان بن عبد الله عن كعب بن عبد الله قال سمعت حذيفة يقول لا يقطع الصلاة شيء

کعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کسی کے آگے سے گزرجانے سے نماز نہیں ٹوٹتی ۔

لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَة شَيْءٌ. ← حُذَيْفَةَ ← كَعْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← الزِّبْرِقَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2607

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2608

2465 - حدثنا أبو أمية قال ثنا قيس بن حفص الداري قال ثنا مسلمة بن علقمة عن داود بن أبى هند عن العباس بن عبد الرحمن مولى بنى هاشم عن ذي مخبر بن أخى النجاشي قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فنمنا فلم نستيقظ الا بحر الشمس فتنحينا من ذلك المكان قال فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كان من الغد حين بزغت الشمس أي طلعت أمر بلالا فأذن ثم مره فأقام فصلى بنا الصلاة فلما قضى الصلاة هذه صلاتنا بالأمس

بنی ہاشم کے مولیٰ عباس بن عبدالرحمن نے ذی مخبرابن اخی النجاشی سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے پس ہم سوگئے اور سورج کی گرمی سے ہم بیدار ہو ئے پھر ہم اس جگہ سے دور ہوئے ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جب دوسرا دن ہوا اور سورج طلوع ہوا تو بلال کو اذان کا حکم فرمایا انہوں نے اذان دی پھر ان کو اقامت کا حکم فرمایا پس ہمیں نماز پڑھائی جب نماز مکمل ہو گئی تو فرمایا یہ ہماری کل والی نماز ہے ۔

ذي مخبر بن أخي النجاشي ← العباس بن عبد الرحمن مولى بنى هاشم ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ← قيس بن حفص الداري ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2608

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 69 باب الرجل ينام عن الصلاة أو ينساها كيف يقضيها ) · حديث 2609

2466 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا حماد بن سلمة عن عاصم الأحول عن أبى مجلز عن سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من نسي صلاة فليصليها إذا ذكرها من الغد للوقت

ابو مجلز نے حضرت سمرہ بن جندب سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے جو آدمی نماز پڑھنا بھول گیا تو اسے اگلے روز میں جب یاد آئے تو پڑھے ۔

من نسي صلاة فليصليها إذا ذكرها من الغد للوقت ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2609

chevron_left Previous
1…282930…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter