شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2586
2444 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا بن أبى فديك عن الضحاك بن عثمان عن صدقة عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا كان أحدكم يصلى فلا يدعن أحدا يمر بين يديه فان أبى فليقاتله فان معه القرين شيطان قال أبو جعفر فمعنى هذا معنى حديث أبي سعيد سواء وان بن آدم في مروره بين يدي أخيه المصلي مرور لقرينه أيضا بين يديه وهو شيطان ثم قد أجمع على أن مرور بنى آدم بعضهم ببعض في صلاتهم لا يقطعها قد روى ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم من غير وجه
صدقہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ کسی کو اپنے سامنے سے مت گزرنے دے اگر گزرنے والا انکار کرے تو اس سے لڑے اس لیے کہ اس کے ساتھ شیطان ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب اور ابو سعید رضی اللہ عنہ والی روایت کا ایک ہی مطلب ہے اور انسان کا نمازی بھائی کے سامنے سے گزرنا وہ قرین شیطان کا گزرنا ہے پھر اس پر تو تمام کا اتفاق ہے کہ انسانوں کے ایک دوسرے کے سامنے سے گز ر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی اور یہ بات جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد روایات میں آئی ہے ۔
بن عُمَرَ ← صَدَقَةُ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي فديك ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2586
