شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2574
2433 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا معاذ بن معاذ عن بن أبى عروبة عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يقطع الصلاة الكلب والحمار والمرأة قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فقالوا يقطع الصلاة الكلب الأسود والمرأة والحمار إذا مروا بين يدي المصلي وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع الصلاة شيء من هذا واحتجوا في ذلك بما
حسن نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کتا ، گدھا، عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ کچھ علماء نے ان آثار کے پیش نظر فرمایا کہ سیاہ کتا، عورت ، گدھا جب نمازی کے سامنے سے گزر جائیں تونماز ٹوٹ جائے گی ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نماز کے لیے گزرنے کی وجہ سے نماز کو توڑنے والی نہیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← بن أَبِي عَرُوبَةَ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2574
