شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 66 باب الكلام في الصلاة لما يحدث فيها من السهو ) · حديث 2514
2377 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا معلى بن أسد قال ثنا وهيب عن خالد أبى قلابة عن أبى المهلب عن عمران بن حصين قال سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم في ثلاث ركعات فدخل الحجرة مغضبا فقام الخرباق رجل بسيط اليدين فقال يا رسول الله أقصرت الصلاة أم نسيت قال فخرج يجر رداءه فسأل فأخبر فصلى الركعة التي كان ترك وسلم ثم سجد سجدتين ثم سلم
ابوالمہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز ادا کی پھر حجرہ میں غصے سے داخل ہوئے تو خرباق نے کھڑے ہو کر کہا ( یہ لمبےہاتھوں والا آدمی تھا ) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نماز کم ہو گئی راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے نکلے اور آپ نے پوچھا تو آپ کو اس کی اطلاع دی گئی پھر آپ نے چھوڑی ہوئی رکعت پڑھی اور سلام پھیرا پھر دو سجدے کر کے سلام پھیرا۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← خالد أبى قلابة ← وُهَيْبٌ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2514
