Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2454

حدثني علقمة عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا سها أحدكم في صلاته فليتحر وليسجد سجدتين

علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو وہ تحری کرے اور دو سجدے کرے۔

إذا سها أحدكم في صلاته فليتحر وليسجد سجدتين ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2454

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2455

2319 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا وهيب قال ثنا منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى أحدكم فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا فلينظر أحرى ذلك الى الصواب فليتمه ثم ليسلم ثم ليسجد سجدتي السهو ويتشهد ويسلم

علقمہ نے عبداللہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے اسے معلوم نہ رہے کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار تو اسے ان میں سے زیادہ درست کو دیکھنا چاہیے پھر اسے پورا کر کے سلام پھیر دے پھر سہو کے دو سجدے کرے اور شہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← وُهَيْبٌ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2455

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2456

2320 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن منهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن منصور فذكر بإسناده مثله غير انه لم يقل ويتشهد

روح بن قاسم نے منصور سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی البتہ (یتشھد) کے لفظ ذکر نہیں کئے ۔

منصور فذكر بإسناده مثله غير انه لم يقل ويتشهد ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2456

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2457

2321 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة بن قدامة عن منصور فذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث العمل بالتحرى وتصحيح الآثار يوجب ما يقول أهل هذه المقالة لأن هذا المعنى إن بطل ووجب أن لا يعمل بالتحرى انتفى هذا الحديث وان وجب العمل بالتحرى إذا كان له رأى والبناء على الأقل إذا لم يكن له رأى استوى حديث عبد الرحمن بن عوف وحديث أبى سعيد وحديث بن مسعود رضي الله عنهما فصار كل واحد منها قد جاء في معنى غير المعنى الذي جاء فيه الآخر وهكذا ينبغي أن يخرج عليه الآثار ويحمل على الاتفاق ما قدر على ذلك ولا يحمل على التضاد إلا أن لا يوجد لها وجه غيره فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى ومما يصحح ما ذهبوا اليه أن أبا هريرة رضي الله عنه قد روينا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في أول هذا الباب ما ذكرنا ثم قال هو برأيه أنه يتحرى

زائد بن قدامہ نے منصور سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اس روایت میں تحری پر عمل کا ذکر ہے اور روایات کی تصحیح اس قول کے قائلین کی بات کو لازم کر رہی ہے کیونکہ اگر یہ معنی باطل ہو جائے اور سوچ و بچار ضروری نہ رہے تو اس روایت کی نفی ہو جائے گی اور اگر ہم تحری پر عمل کو لازم قرار دیں جبکہ اس کی ایک رائے ٹھہر جائے اور اگر رائے قرار نہ پائے تو قلیل پر بناء کی جائے تو اس صورت میں روایت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ برابر ہو کر ہر روایت کا ایک الگ معنی بن جائے گاجو دوسری میں نہیں ۔ اس طرح مناسب یہ ہے کہ آثار کو ایسے معنی پر نکالا جائے اور جس حد تک ہو سکے اتفاق پر محمول کیا جائے اور تضاد سے بچا جائے سوائے اس صورت میں کہ جب اس کے علاوہ اور کوئی راہ نہ ملے آثار کے معانی کی تصحیح کا یہی تقاضا ہے اور یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور جس روایت سے ان حضرات کے مذہب کی تائید ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسناد سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ روایت نقل کی ہے جو اس باب کی ابتداء میں گزری ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے فرمایا کہ وہ تحری کر لے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2457

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2458

2322 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا شيخ أحسبه أبا زيد الهروي قال ثنا شعبة قال إدريس أخبرني عن أبيه سمعه يحدث قال قال أبو هريرة رضي الله عنه فى الوهم يتحرى وقد روى عن أبا سعيد رضي الله عنه مثل ذلك أيضا

شعبہ نے بیان کیا کہ ادریس نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا وہ تحری کر لے خیال میں ۔

أبا سعيد مثل ذلك أيضا ← أبو هريرة فى الوهم يتحرى وقد روى ← أَبِيهِ سَمِعَهُ ← إدْرِيسَ ← شُعْبَةُ، ← شيخ أحسبه أبا زيد الهروي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2458

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2459

2323 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي قال ثنا سفيان بن عيينة قال ثنا عمرو بن دينار قال سئل بن عمر وأبو سعيد الخدري رضي الله عنهم عن رجل سها فلم يدر كم صلى أثلاثا أم أربعا فقالا يتحرى أصوب ذلك فيتمه ثم يسجد سجدتين وهو جالس

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا جو نماز میں بھول گیا اور اسے معلوم نہ رہا کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار دونوں نے کہا وہ ان میں زیادہ بہتر کی تحری کر کے مکمل کر لے پھر بیٹھ کر دو سجدے کر لے ۔

رجل سها فلم يدر كم صلى أثلاثا أم أربعا ← سئل بن عمر وأبو سعيد الخدري ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2459

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2460

2324 - حدثنا أبو أمية قال ثنا شبابة بن سوار قال ثنا شعبة عن عمرو بن دينار عن سليمان اليشكري عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه أنه قال في الوهم يتحرى قال قلت عن النبي صلى الله عليه و سلم قال عن النبي صلى الله عليه و سلم فدل ما ذكرنا أن ما رواه أبو سعيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم إنما هو إذا كان لا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ولم يكن أحدهما أغلب في قلبه من الآخر وأما إذا كان أحدهما أغلب في قلبه من الآخر عمل على ذلك فقد وافق ما روى عن أبى سعيد رضي الله عنه لما جمع ما رواه عن النبي صلى الله عليه و سلم وما أجاب به الذي سأله من بعد النبي صلى الله عليه و سلم ما قال أهل المقالة الأخيرة لا ما قال من خالفهم وقد روى أيضا عن أنس بن مالك رضي الله عنه في التحري مثله

سلیمان یشکری نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا وہ خیال میں تحری کرے اس نے پوچھا آپ نے جناب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ بات کہی ہے انہوں نے جواب دیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس روایت مذکورہ سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بات کو نقل کیا ہے وہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو معلوم نہ ہو کہ آیا اس نے تین پڑھی ہیں یا چار ؟ اور ان میں سے کوئی ایک بات اس کے دل میں دوسری سے غالب نہ ہو اور اگر ایک بات دوسری سے غالب ہو تو پھر اسی غالب پر عمل کرے جب ہم نے حضرت ابو سعید خڈری رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو جو انہوں نے جناب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی اور جو بات انہوں نے خود ان سے سوال کرنے والوں کے جواب میں کہی اکٹھا کیا گیا تو اس دوسرے قول کے کہنے والوں کے موافق بات بن گئی ان کے مخالف قول کے موفق نہ بن سکی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی تحری سے متعلق اسی قسم کی بات منقول ہے ۔

أنس بن مالك في التحري مثله ← من خالفهم وقد روى أيضا ← أهل المقالة الأخيرة لا ما ← أبى سعيد لما جمع ما رواه ← قُلْتُ ← في الوهم يتحرى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2460

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2461

2325 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أنا حماد بن سلمة وأبوعوانة عن قتادة عن أنس رضي الله عنه مثله

حماد بن سلمہ اور ابو عوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، مِثْلَهُ ← قَتَادَةَ ← حماد بن سلمة وأبوعوانة ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2461

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2462

2326 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عمر بن محمد بن زيد عن سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يقول إذا شك أحدكم في صلاته فليتوخ الذي يظن أنه نسي من صلاته فليصله وليسجد سجدتين وهو جالس

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو تو وہ گمان کے طابق تحری کرے پھر نماز ادا کرے اور بیٹھ کر دو سجدے کرے۔

سالم بن عبد الله: أن عبد الله بن عمر كان ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2462

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2463

2327 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عمر بن محمد عن سالم ثم ذكر مثله

عمران بن محمد نے سالم سے خبر دی پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← سالم ثم ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2463

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2464

2328 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان إذا سئل عن النسيان في صلاة يقول ليتوخ أحدكم الذي ظن أنه قد نسي من صلاته فليصله

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب ان سے نماز کی بھول کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ جس کو بھول جانے کا گمان ہو وہ تحری کرے اور نماز پوری کرے ۔

ليتوخ أحدكم الذي ظن أنه قد نسي من صلاته فليصله ← النسيان في صلاة ← نافع أن عبد الله بن عمر كان إذا سئل ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2464

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2465

2329 - حدثنا محمد بن العباس بن الربيع قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما في التحري في الشك في الصلاة بمثل ما في حديث بن وهب عن مالك عن عمر بن محمد وعن بن وهب عن عمر نفسه وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا قد رأينا الأصل المتفق عليه في ذلك أن هذا الرجل قبل دخوله في الصلاة قد كان عليه أن يأتى بأربع ركعات فلما شك في أن يكون جاء ببعضها وجب النظر في ذلك ليعلم كيف كان حكمه فرأيناه لو شك في أن يكون قد صلى لكان عليه أن يصلي حتى يعلم يقينا أنه قد صلى ولا يعمل في ذلك بالتحري فكان النظر على هذا أن يكون كذلك هو في كل شيء من صلاته كان ذلك عليه فرضا وعليه أن يأتى به حتى يعلم يقينا أنه قد جاء به فان قال قائل إن الفرض عليه غير واجب حتى يعلم يقينا أنه واجب عليه قيل له ليس هكذا وجدنا العبادات كلها لأنا قد تعبدنا أنه إذا أغمى علينا في يوم ثلاثين من شعبان فاحتمل أن يكون من رمضان فيجب علينا صومه واحتمل أن يكون من شعبان فلا يكون علينا صومه أنه ليس علينا صومه حتى نعلم يقينا أنه من شهر رمضان فنصومه وكذلك رأينا آخر شهر رمضان إذا أغمى علينا في يوم الثلاثين فاحتمل أن يكون من شهر رمضان فيكون علينا صومه واحتمل أن يكون من شوال فلا يكون علينا صومه أمرنا بأن نصومه حتى نعلم يقينا أنه ليس علينا صومه فكان من دخل في شيء بيقين لم يخرج منه إلا بيقين فالنظر على ذلك أن يكون كذلك من دخل في صلاة بيقين أنها عليه لم يحل له الخروج منها إلا بيقين أنه قد حل له الخروج منها وقد جاء ما استشهدنا به من حكم الإغماء في شعبان وشهر رمضان عن النبي صلى الله عليه و سلم متواترا كما ذكرناه فمما روى عنه في ذلك ما

نافع نے حضرت ابن عمیر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس کو نماز میں شک ہو کہ آیا وہ تحری کرے انہوں نے سابقہ روایت 2462 میں مذکور جواب دیا غور و فکر کے انداز سے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ ہمارے پاس متفقہ اصول موجود ہے کہ نماز کی ابتداء سے پہلے اس پر چار رکعات لازم تھیں اب داخلہ کے بعدد اس کو شک ہوا تو اس کا حکم جاننے کی غرض سے غور و فکر لازم ہو گیا ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر اسے نماز کی ادائیگی اور عدم ادائیگی میں شبہ ہوتا تو اس کے لیے پڑھنا ضروری تھا ۔ تا کہ یقین سے ادائیگی ثابت ہو جائے ۔ فقط تحری کا م نہ دے گی پس اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام فرائض نماز میں فکر یہی فیصلہ کرتی ہے تا کہ ادائیگی یقین سے ثابت ہو جائے ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ فرض اس کے ذمہ اس وقت تک لازم نہیں ہوتا جب تک اس کے فرض ہونے کا یقین نہ ہو ۔ تو اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ تمام عبادات اس طرح نہیں پائی جاتیں کیونکہ ہم اس طرح پاتے ہیں کہ اگر تیس شعبان والی رات چاند نظر نہ آیا تو اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ رمضان المبارک کا دن ہو تو اس لحاظ سے اس کا روزہ فرض ہو گا اور یہ احتمال ہے کہ یہ شعبان کا آخر دن ہو ۔ اس اعتبا ر سے اس کا روزہ لازم نہ ہوگا۔ تو اس سے یہ واضح ہوا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کا کامل یقین نہ ہوتو ہم پر روزہ رکھنا فرض نہ ہو گا ۔بالکل اسی طرح رمضان المبارک کی تیسویں شب چاند نظر نہ آیا تواس احتمال کی وجہ سے کہ رمضان المبارک کا تیسواں روزہ ہے روزہ رکھنا فرض ہے اور دوسری طرف اس کے یکم شوال ہونے کا احتمال ہے جس کی وجہ سے اس دن کا روزہ ہم پر لازم نہیں مگر اس احتمال کے باوجود روزے کا حکم دیا گیا اور اس کا رکھنا اس وقت تک فرض ہے جب تک یقین سے اس کی عدم فرضیت کا علم نہ جائے۔ پس جو شخص کسی چیز میں یقین سے داخل ہو تو اس سے یقین ہی کے ساتھ نکلنا ممکن ہے ۔ پس اس پرقیاس اس بات کو چاہتا ہے کہ آدمی اپنی نماز مین اس یقین سے داخل ہو ا کہ وہ اس پر لازم ہے تو اس کو اس سے یقین کے بغیر نکلنا حلال نہیں کہ اب اس کے لیے نکلنا جائز ہو چکا اور ہم نے شعبان کے آخر میں اور رمضان کے اواخر میں چاند نہ نکلنے کے سلسلہ سے جو استدال کیا ہے اس کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر روایات وارد ہوئی ہیں ۔

بن وَهْبٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مَالِكٍ، ← بن عمر في التحري في الشك في الصلاة بمثل ما في حديث بن وهب ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← محمد بن العباس بن الربيع

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2465

chevron_left Previous
1…161718…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter