Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2442

2308 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا الأوزاعي عن يحيى عن أبى سلمة فذكر بإسناده مثله

یحیٰ نے ابو سلمہ سے انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

أبى سلمة فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2442

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2443

2309 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بن يونس قال ثنا عكرمة بن عمار قال حدثني يحيى بن أبى كثير قال حدثني أبو سلمة قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله وزاد ثم يسلم

ابو سلمہ نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ ثم یسلم کے لفظ زائد ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله وزاد ثم يسلم ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بن يونس ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2443

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2444

2310 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث عن عبد ربه بن سعيد عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الشيطان إذا ثوب بالصلاة ولى وله ضراط فإذا أقيمت الصلاة يلتمس الخلاط فإذا أتى أحدكم مناه وذكره من حاجته ما لم يكن يذكر حتى لا يدرى كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس

عبدالرحمن بن ہرمزالاعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ شیطان جب نماز کی اذان دی جائے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور (ڈرسے) اس کے شرمگاہ سے ہوا نکلتی ہے پھر جب جماعت کھڑی ہو جاتی ہے تو ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے جب تم میں سے کوئی نماز میں مصروف ہو جاتا ہے تو وہ اسے تمنائیں دلاتا ہے اور اس کی وہ ضروریات یاد دلاتا ہے جو یاد نہیں ہوتیں ۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں جب تم ایسی صورت حال پاؤ تو بیٹھ کر دو سجدے (سہو کے) کرو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2444

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2445

2311 - حدثنا يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا عمر بن يونس قال ثنا عكرمة بن عمار قال حدثني يحيى بن أبي كثير قال حدثني هلال بن عياض قال حدثني أبو سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى أحدكم فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا فليسجد سجدتين وهو جالس قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا هذا حكم من صلاته فلم يدر أزاد أم نقص سجد سجدتين وهو جالس ثم يسلم ليس عليه غير ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يبنى على الأقل حتى يعلم أنه قد أتى بما عليه يقينا وقالوا ليس في هذا الحديث دليل على أنه ليس على المصلى غير تينك السجدتين لأنه قد روى عنه ما قد راد على ذلك وأوجب عليه قبل السجدتين البناء على اليقين حتى يعلم يقينا زوال ما قد كان علم وجوبه عليه باليقين فمما روى عنه في ذلك ما

ہلال بن عیاض کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے معلوم نہ رہے کہ اس نے تین پڑھی یا چار تو اسے بیٹھ کر دو سجدے کر لینے چاہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ اس شخص کا حکم ہے جس کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ آیا اس نے اس میں اضافہ کیا ہے یا کمی تو قعدہ کی حالت میں سلام پھیر کر اس پر صرف دو سجدے لازم ہیں مگر دیگر حضرات نے فرمایا کہ وہ کم رکعات پر بنیاد رکھے تا کہ اسے یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نے اپنے ذمہ فریضہ کو ادا کر دیا ہے رہی یہ روایت تو اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ نمازی پر ان دو سجدات کے علاوہ کوئی چیز لازم نہیں ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں اس سے اضافہ بھی مذکور ہے آپ نے نمازی پر دو سجدات سے پہلے یہ لازم کر دیا کہ وہ یقین پر بنیاد رکھے تاکہ اسے قطعی طور پر علم ہو جائےکہ اس نے اپنے فریضہ کو صحیح ادا کر دیا ہے ۔

أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2445

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2446

2312 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل المكى عن الزهرى عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال كنت أذاكر عمر بن الخطاب رضي الله عنه أمر الصلاة فأتى عبد الرحمن بن عوف فقال ألا أحدثكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قلنا بلى قال أشهد أنى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا صلى أحدكم فشك في النقصان فليصل حتى يشك في الزيادة

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز کے سلسلہ میں مذاکرہ کر رہا تھا اس وقت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگئے اور کہنے لگے کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ہم نے کہا کیوں نہیں ! کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کرے اور پھر اسے نماز میں نقصان کا شک گزرے تو وہ نماز پڑھتا رہے یہاں تک کہ اضافہ کا شک ہو جائے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَشْهَدُ أَنِّي ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم قلنا بلى ← أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا ← كنت أذاكر عمر بن الخطاب أمر الصلاة فأتى عبد الرحمن بن عوف ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← إسماعيل المكي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2446

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2447

2313 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن مكحول عن كريب مولى بن عباس عن بن عباس رضي الله عنهما قال جلست الى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال يا بن عباس هل سمعت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الرجل إذا نسي صلاته فلم يدرى أزاد أم نقص ما أمر فيه قال قلت ما سمعت أنت يا أمير المؤمنين من رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه شيئا قال لا والله ما سمعت فيه شيئا ولا سألت عنه إذ جاء عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه فقال فيما أنتما فأخبره عمر رضي الله عنه فقال سألت هذا الفتى عن كذا فلم أجد عنده علما فقال عبد الرحمن لكن عندي لقد سمعت ذاك من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر أنت عندنا العدل الرضى فماذا سمعت قال سمعت النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا شك أحدكم في صلاته فشك في الواحدة والثنتين فليجعلها واحدة فإذا شك في الثلاث أو الأربع فليجعلها ثلاثا حتى يكون الوهم في الزيادة ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم

کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو انہوں نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا تم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق سنا جو نماز میں بھول جائے اور یہ یاد نہ رہے کہ آیا مامورہ رکعات میں اس نے اضافہ کیا ہے یا کمی ؟ میں نے کہا اے امیر المومنین آپ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کچھ سنا ہے تو انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہ میں نے اس سلسلے میں کوئی چیز سنی اور نہ میں نے آپ سے کچھ دریافت کیا ۔ اچانک اس وقت عبدالرحمن بن عوف آگئے اور کہنے لگے تم کس بار میں گفتگو کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کوبتلایا کہ میں نے اس نوجوان سے یہ دریافت کیا مگر میں نے ان کے پاس کوئی بات اس سلسلے میں نہیں پائی ۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہنے لگے لیکن میں نے جناب رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سن رکھا ہے ؟ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے ایک اور دو میں شک ہو تو اس کو ایک شمار کے اور جب تین یا چار میں شک ہو تو ان کو تین قرار دے یہاں تک کہ اضافے کا خیال پیدا ہو جائے پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← مَكْحُولٌ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2447

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2448

2314 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة وهب الله بن راشد قال أنا حيوة عن محمد بن عجلان أن زيد بن أسلم حدثه عن عطاء بن يسار عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا صلى أحدكم فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا فليبن على اليقين ويدع الشك فان كانت صلاته نقصت فقد أتمها وكانت السجدتان ترغمان الشيطان وإن كانت صلاته تامة كان ما زاد والسجدتان له نافلة

عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے اسے معلوم نہ رہے کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار تو وہ یقین پر بناء کرے اور شک کو چھوڑ دے اگر اس کی نماز کم بنتی ہو تو پوری کرے اور دو سجدے شیطان کو ذلیل کرنے والے ہوں گے اور اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو اضافہ ہوا اور دوسجدے اس کی زائد نماز بن جائے گی ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← محمد بن عجلان أن زيد بن أسلم ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2448

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2449

2315 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم فذكر بإسناده مثله غير أنه قال ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم

ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ بیٹھ کر دو سجدے سلام سے پہلے کرے۔

ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ← زيد بن أسلم فذكر بإسناده مثله غير أنه ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2449

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2450

2316 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوهبي قال ثنا الماجشون عن زيد فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل قبل التسليم

ماجثون نے زید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ قبل التسلیم کا لفظ نہیں کہا ۔

زيد فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل قبل التسليم ← الْمَاجِشُونُ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2450

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2451

2317 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه ح

ابن وہب نے کہا کہ مالک نے اپنی سند سے نقل کیا ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2451

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2452

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أنا مالك عن زيد فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر أبا سعيد رضي الله عنه قال أبو جعفر فهذه الآثار تزيد على الآثار الأول لأن هذه توجب البناء على الأقل والسجدتين بعد ذلك فهى أولى منها لأنها قد زادت عليها وقال آخرون الحكم في ذلك أن ينظر المصلى الى أكبر رأيه في ذلك فيعمل على ذلك ثم يسجد سجدتي السهو بعد التسليم وان كان لا رأى له في ذلك بنى على الأقل حتى يعلم يقينا أنه قد صلى ما عليه واحتجوا في ذلك بما

.مالک نے زید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان روایات میں پہلی روایات سے اضافہ منقول ہے ۔ کیونکہ یہ روایات کم سے کم پر بناء کر کے دو سجدات کو لازم کرتی ہیں پس یہ روایات ان سے اولیٰ ہیں کیونکہ ان میں اضافہ ہے ۔ دیگر علماء نے کہا اصل حکم اس کے متعلق یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی غالب رائے پر غور کر کے اس پر عمل پیرا ہو پھر سہو کے دو سجدے سلام پھیرے کے بعد کر لے اور اگر اس کی پختہ رائے نہ ہوتو پھر کم رکعات پر بناء کر لے تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے اپنے کامل فرض کو ادا کر دیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2452

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 64 باب الرجل يشك في صلاته فلا يدرى أثلاثا صلى أم أربعا ) · حديث 2453

2318 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا محمد بن عبد الله بن الزبير قال ثنا سفيان عن منصور قال سألت سعيد بن جبير عن الشك في الصلاة فقال أما أنا فان كانت التطوع استقبلت وان كانت فريضة سلمت وسجدت قال فذكرته لإبراهيم فقال ما تصنع بقول سعيد بن جبير

منصور کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ نماز میں شک کا کیا حکم ہے تو انہوں نے فرمایا میں نفلوں میں تو نماز نئے سرے سے شروع کر لیتا ہوں اگر فرض ہوں تو سلام پھیر کر دو سجدے کر تا ہوں ۔

فذكرته لإبراهيم فقال ما تصنع بقول سعيد بن جبير ← فان كانت التطوع استقبلت وان كانت فريضة سلمت وسجدت ← الشَّكِّ فِي الصَّلاَة فَقَالَ أَمَّا ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2453

chevron_left Previous
1…151617…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter