شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2262
2138 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة ح
۲۲۶۲۔ابوبکرہ ثنا ابوداؤد ثنا شعبہ نے بیان کیا۔
شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2262
Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.
ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2262
2138 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة ح
۲۲۶۲۔ابوبکرہ ثنا ابوداؤد ثنا شعبہ نے بیان کیا۔
شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2262
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2263
وحدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سمعت هلال بن يساف يحدث عن عمرو بن راشد عن وابصة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يصلى في خلف الصف وحده فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعيد الصلاة
عمرو بن راشد عن اوبصہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹا نے کاحکم دیا۔
وَابِصَةَ ← عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وحدثنا علي بن شيبة
Hadith 2263
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2264
2139 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن حصين عن هلال بن يساف قال أخذ بيدى زياد بن أبى الجعدة فأقامنى على وابصة بن معبد بالرقة فقال حدثني أبى أن رجلا صلى خلف الصف وحده فأمره الرسول صلى الله عليه و سلم أن يعيد الصلاة
بلال بن یسار بیان کرتے ہیں کہ زیاد بن ابی جعدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مقام رقہ میں وابصہ بن معبد کے پاس لا کھڑا کیا اور کہا میرے والد نے مجھ کو بتلایا کہ ایک آدمی نے صف کے پیچھے اکیلے نماز ادا کی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
أخذ بيدى زياد بن أبى الجعدة فأقامنى على وابصة بن معبد بالرقة ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن
Hadith 2264
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2265
2140 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان بن هلال قال ثنا ملازم بن عمرو قال ثنا عبد الله بن بدر السحيمي عن عبد الرحمن بن على بن شيبان السحيمي عن أبيه وكان أحد الوفد قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقضى صلاته ورجل فرد يصلى خلف الصلف فقام نبي الله صلى الله عليه و سلم حتى قضى صلاته ثم قال استقبل صلاتك فلا صلاة لفرد خلف الصف فذهب قوم الى أن من صلى خلف صف منفردا فصلاته باطلة واحتجوا بذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من فعل ذلك فقد أساء وصلاته مجزئة عنه وقالوا ليس في هذه الآثار ما يدل على خلاف ما قلنا وذلك أنكم رويتم أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر الذي صلى خلف الصف أن يعيد الصلاة فقد يجوز أن يكون أمره بذلك لأنه صلى خلف الصف ويجوز أن يكون أمره بذلك لمعنى آخر كما أمر الذي دخل المسجد فصلى أن يعيد الصلاة ثم أمره أن يعيدها حتى فعل ذلك مرارا في حديث رفاعة وأبى هريرة رضي الله عنهما فلم يكن ذلك لأنه دخل المسجد فصلى ولكنه لمعنى آخر غير ذلك وهو تركه إصابة فرائض الصلاة فيحتمل أيضا ما رويتم من أمر النبي صلى الله عليه و سلم الرجل الذي صلى خلف الصف أن يعيد الصلاة لا لأنه صلى خلف الصف ولكن لمعنى آخر كان منه في الصلاة وفي حديث على بن شيبان معنى زائد عن المعنى الذي في حديث وابصة وذلك انه قال صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقضى صلاته ورجل فرد يصلى خلف الصف فقام عليه نبي الله صلى الله عليه و سلم حتى قضى صلاته ثم قال استقبل فإنه لا صلاة لفرد خلف الصف قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أنه أمره أن يعيد الصلاة وقال لا صلاة لفرد خلف الصف فيحتمل أن يكون أمره إياه بإعادة الصلاة كان للمعنى الذي وصفنا في معنى حديث وابصة وأما قوله لا صلاة لفرد خلف الصف فيحتمل أن يكون ذلك كقوله لا وضوء لمن لم يسم وكالحديث الآخر لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد وليس ذلك على أنه إذا صلى كذلك كان في حكم من لم يصل ولكنه قد صلى صلاة تجزئة ولكنها ليست بمتكاملة الأسباب في الفرائض والسنن لأن من سنة الصلاة مع الإمام اتصال الصفوف وسد الفرج هكذا ينبغي للمصلى خلف الإمام أن يفعل فإن قصر عن ذلك فقد أساء وصلاته تجزئه ولكنها ليست بالصلاة المتكاملة في فرائضها وسننها فقيل لذلك لا صلاة له أي لا صلاة له متكاملة كما قال النبي صلى الله عليه و سلم ليس المسكين بالذي ترده التمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يعرف فيتصدق عليه ولا يسأل الناس فكان معنى قوله ليس المسكين بالذي ترده التمرتان إنما معناه ليس هو بالمسكين المتكامل في المسكنة إذ هو يسأل فيعطى ما يقوته ويوارى عورته ولكن المسكين الذي لا يسأل الناس ولا يعرفونه فيتصدقون فنفى في هذا الحديث من كان مسكينا غير متكامل أسباب المسكنة أن يكون مسكينا فيحتمل أن يكون أيضا إنما نفى بقوله لا صلاة لمن صلى خلف الصف وحده من صلى خلف الصف أن يكون مصليا لأنه غير متكامل أسباب الصلاة وهو قد صلى صلاة تجزئه فان قال قائل فهل تجدون عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا شيئا يدل على قلتم قيل له نعم
عبد الرحمن بن علی بن شیبان سحیمی نے اپنے والد سے نقل کیا ( یہ بنو سجیم میں سے تھے ) کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اس وقت ایک آدمی صف کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز پوری کی آپ نے فرمایا نماز کو نئے سرے سے پڑھو ایک آدمی کی نماز صف کے پیچھے کامل نہیں ہوتی، علماء کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ جس شخص نے کسی صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اس کی نماز باطل ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا دوسرے علماء نے اختلاف کرتے ہوئے کہا جس نے اس طرح کیا اس نے زیادتی کی مگر اس کی نماز جائز ہے اور انہوں نے دوسری بات یہ کہی کہ ان آثار میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہمارے قول کے مخالف ہو اور وہ اس لیے کہ جو شخص صف میں اکیلا نماز پڑھ رہا تھا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹا نے کا حکم دیا تو جس طرح یہ کہنا درست ہے کہ آپ نے اسے اس بناء پر حکم دیا کیونکہ اس نے صف کے پیچھے اکیلے نماز ادا کی تھی تو یہ بھی جائز ہے کہ کسی دوسری وجہ سے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا پھر اسے دوبارہ لوٹا نے کا حکم فرمایا یہاں تک کہ اس نے یہ نماز وٹا نے کا کام متعدد بار کیا جیسا حضرت رفاعہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی بلکہ اور وجہ سے لوٹانے کا حکم فرمایا تھا وہ یہ ہی تھی کہ اس نے فرائض نماز کو درست طور پر ادا نہ کیا تھا ۔ پس اسی طرح تمہاری روایت میں بھی جنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو نماز کے لوٹانے کا حکم دیا جو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا ، لوٹا نے کا حکم صف کے پیچھے اکیلے نماز کے سبب نہ تھا بلکہ نماز میں کسی دوسری حرکت کی بنیاد پر تھا اور علی بن شیبہ ان کی روایت میں وابصہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ اضافی بات بھی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو ایک شخص کو صف میں تنہا نماز پڑھتے پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اس کے نماز مکمل کرنے تک اس کا انتظار فرمایا ،پھر فرمایا تم نماز دوبارہ پڑھو اس لیے کہ اکیلے آدمی کی نماز صف کے پیچھے درست نہیں ۔پس اس میں نماز کے اعادہ کا حکم ایک تو وہ معنی رکھتا ہے جو وابصہ کی روایت میں پائے جاتے ہیں اور آپ کا فرمان " لاصلاۃ لفرد خلف الصف" ممکن ہے کہ یہ ان ارشادات کئے ہم معنی ہو ۔ (1)۔" لا وضوء لمن لم یسم" اور اس روایت کی طرح ۔2۔ " لا صلاۃ لجازر المسجد الا فی المسجد " یہ معنی نہیں کہ جب اس نے نماز پڑھی ہے تو وہ نماز نہ پڑھنے کی طرح ہے ۔لیکن وہ ایسی نماز تو پڑھ چکا جو اس کے لیے کافی تھی مگر وہ فرائض و سنن میں کامل اسباب والی نماز نہیں ہے کیونکہ امام کے ساتھ نماز پڑھنا نماز کی ستنوں سے ہے ۔ اسی طرح صفوف کا ملانا اور فاصلے کو پر کرنا بھی اسی قسم سے ہے مقتدی کو امام کی اقتداء میں اسی طرح کرنا چاہیے۔ اگر اس نے اس میں کوتاہی کی تو اس نے غلطی کی اور اسکی نماز تو درست ہے مگر وہ سنن و فرائض کے لحاظ سے کامل نہیں ۔ اس وجہ سے کہا گیا لا صلاۃ لہ یعنی اس کی نماز کامل نہیں کامل نہیں جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " لیس المسکین بالذی تردہ المرۃ والتمرتان الکن المسکین الذی لا یعرف فیتصدق علیہ ولا یبال الناس" اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مکمل مسکنت والا مسکین نہیں اس لیے کہ وہ لوگوں سے مانگتا ہے پس لوگ اس کو اتنی مقدار دیتے ہیں جس سے وہ پیٹ بھر سکے اور اپنے ستر کو چھپا سکے لیکن مسکین وہ ہے جو لوگوں سے مانگتا بھی نہیں اور نہ لوگ اس کو مسکین جانتے ہیں کہ اس پرصدقہ کریں۔ پس اس روایت میں اس مسکین کی نفی ہے جس میں مسکنت کے کامل اسباب نہ ہوں کہ وہ کامل مسکین کہلائے۔ پس اس روایت میں یہ احتمال بھی ہے کہ " لا صلاۃ لمن صلی خلف الصف وحدہ' کا معنی یہ ہو کہ وہ جو اکیلا صف میں نماز پڑھے وہ نمازی نہیں کیونکہ وہ اسباب نماز کو کامل کرنے والا نہیں اس نے تو صرف ایسی نماز پڑھی ہے جو کفایت کرے۔اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو اس پر دلالت کرنے والی ہو؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا جی ہاں ! روایات درج ذیل ہیں ۔
أَبِيهِ،وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ السُّحَيْمِيُّ ← عبد الله بن بدر السحيمي ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← بن مرزوق
Hadith 2265
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2266
2141 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر الضرير قال أنا حماد بن سلمة أن زياد الأعلم أخبرهم عن الحسن عن أبى بكرة قال جئت ورسول الله صلى الله عليه و سلم راكع وقد حفزنى النفس فركعت دون الصف ثم مشيت الى الصف فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة قال أيكم الذي ركع دون الصف قال أبو بكرة أنا قال زادك الله حرصا ولا تعد
حسن نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جبکہ آپ حالت رکوع میں تھے اور مجھے میرے نفس نے ابھارا پس میں نے صف سے دو رکوع کر لیا پھر میں صف کی طرف چلا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مکمل فرمایا تو تم میں سے کس نے صف سے الگ رکوع کیا؟ ابوبکرہ کہنے لگے میں نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حرص جماعت زیادہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2266
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2267
2142 - حدثنا الحسين بن الحكم الجيزي قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا حماد بن سلمة فذكر بإسناده مثله
عفان بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے راویت بیان کی ہے ۔
حماد بن سلمة فذكر بإسناده مثله ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الحسين بن الحكم الجيزي
Hadith 2267
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2268
2143 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبى عروبة عن زياد الأعلم قال ثنا الحسن أن أبا بكرة ركع دون الصف فقال له النبي صلى الله عليه و سلم زادك الله حرصا ولا تعد قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أنه ركع دون الصف فلم يأمره النبي صلى الله عليه و سلم بإعادة الصلاة فلو كان من صلى خلف الصف لا تجزيه صلاته لكان من دخل في الصلاة خلف الصف لا يكون داخلا فيها ألا ترى أن من صلى على مكان قذر أن صلاته فاسدة ومن افتتح الصلاة على مكان قذر ثم صار الى مكان نظيف أن صلاته فاسدة فكان كل من افتتح الصلاة في موطن لا يجوز له فيه أن يأتى بالصلاة فيه بكاملها لم يكن داخلا في الصلاة فلما كان دخول أبى بكرة في الصلاة دون الصف دخولا صحيحا كانت صلاة المصلي كلها دون الصف صلاة صحيحة فان قال قائل فما معنى قوله ولا تعد قيل له ذلك عندنا يحتمل معنيين يحتمل ولا تعد أن تركع دون الصف حتى تقوم في الصف كما قد روى عنه أبو هريرة
حسن نے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے صف سے الگ رکوع کیا تو ان کوجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تیری جماعت کی حرص میں اضافہ کرے تو دوبارہ ایسا نہ کرنا۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت میں یہ ہے کہ اس نے صف سے پہلے رکوع کر لیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا ۔ پس اگر صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے والے کی نماز نہ ہوتی تو نماز میں صف کےپیچھے داخل ہونے والا نماز میں داخل نہ قرار دیا جاتا ۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ جو شخص گندگی والی جگہ نماز پڑھے اس کی نماز فاسد ہے اور جو شخص گندی جگہ نماز شروع کر کے پھر ستھری جگہ منتقل ہو جائے اس کی نماز بھی فاسد ہے ۔پس ہر وہ شخص جس نے نماز کو ایسی جگہ میں شروع کیا تو اس جائز نہیں کہ وہ اس میں نماز کو اس کے کمال کے ساتھ ادا کر سکے ۔ وہ نماز میں داخل شمار نہ ہوگا پس جب حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کا صف میں پہنچنے سے پہلے نماز میں داخلہ درست داخلہ تھا تو نمازی کی تمام نماز صف سے پہلے درست نماز ثابت ہو گی ۔ اگر کوئی یہ اعتاض کر ے کہ " ولا تعد" کا کیا مطلب ہے ۔تو اس کے جواب میں کہا جائے گا۔ ہمارے ہاں اس کے دو معنی ہیں ۔(1)۔ صف میں داخلہ سے پہلے رکوع کرنے والی حرکت آئندہ مت کرنا جب تک کہ تم صف میں نہ پہنچ جاؤ۔ جیسا کہ ان سے حضرت ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ملاحظہ ہو ۔
له النبي صلى الله عليه و سلم زادك الله حرصا ولا تعد ← الحسن أن أبا بكرة ركع دون الصف ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الحماني ← فهد
Hadith 2268
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2269
2144 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا المقدمي قال حدثني عمر بن على قال ثنا بن عجلان عن الأعرج عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتى أحدكم الصلاة فلا يركع دون الصف حتى يأخذ مكانه من الصف ويحتمل قوله ولا تعد أي ولا تعد أن تسعى الى الصلاة سعيا يحفزك فيه النفس كما قد جاء عنه في غير هذا الحديث
اعراج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز کے لیے آؤ تو صف سے الگ رکوع میں مت جایا کرو اس وقت رکوع کرو جب صف میں پہنچ جاؤ اور یہ بھی احتمال ہے کہ آئندہ نماز کے لیے یوں دوڑ کر مت آؤ کہ تمہارا سانس ہی پھول جائے ۔ جیسا کہ اس کے علاوہ روایات میں موجود ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← بن عَجْلَانَ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود
Hadith 2269
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2270
2145 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمى عبد الله بن وهب قال ثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه ح
عبداللہ بن وہب نے ابراہیم بن سعد سے انہوں نے اپنےوالد سے بیان کیا ۔
أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،
Hadith 2270
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2271
وحدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا أقيمت الصلاة فلا تأتوها تسعون وائتوها وأنتم تمشون وعليكم السكينة فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا
سعد بن ابراہیم نے ابو سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب جماعت کھڑی ہو جائے تو دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چل کر آؤ اور تم پر سکول لازم ہے پس نماز کا جو حصہ پاؤ وہ (امام کےساتھ ) پڑھ لو اور جو (امام سے ) رہ جائے اس کو مکمل کرلو۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق
Hadith 2271
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2272
2146 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا حدثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن بن شهاب عن أبى سلمة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال فاقضوا
ابن شہاب نے ابو سلمہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی صرف واتبموا کی جگہ فاقضو ا کا لفظ سے معنی یکساں ہے ۔
فاقضوا ← أبى سلمة فذكر بإسناده مثله غير أنه ← بن شِهَابٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد
Hadith 2272
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 57 باب من صلى خلف الصف وحده ) · حديث 2273
2147 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة فذكر بإسناده مثله
محمد بن عمر نے ابو سلمہ سے انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔
أبى سلمة فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2273