شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 56 باب الصلاة في الكعبة ) · حديث 2251
2127 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا مسعر عن سماك الحنفي قال سمعت بن عباس رضي الله عنهما يقول لا تجعل شيئا من البيت خلفك وأتم به جميعا وسمعت بن عمر رضي الله عنهما يقول صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه وقد روى عن غير بن عمر رضي الله عنه في ذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ما روى بن عمر عن أسامة وبلال فمن ذلك ما
سماک حنفی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ فرماتے بیت اللہ کے کسی حصہ کو اپنے پیچھے مت کرو بلکہ پورے کو سامنے رکھو ( اور چونکہ بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے پورا کعبہ سامنے نہیں اس لیے اس میں نماز جائز نہیں ) مگر یہ ایک قیاس و اجتہاد ہے اور ادھر نص سے ثابت ہے پس جو قول اس کے مطابق ہو گا وہ لیا جائے گا ) اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسامہ و بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ روایات ذیل میں ہیں ۔ سماک کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ کومیں فرماتے سنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی ۔
غير بن عمر في ذلك ← صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه وقد روى ← لا تجعل شيئا من البيت خلفك وأتم به جميعا وسمعت بن عمر ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد
Hadith 2251
