شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 56 باب الصلاة في الكعبة ) · حديث 2239
2115 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة القاضى قال ثنا أبو عاصم النبيل قال ثنا بن جريج قال قلت لعطاء أسمعت بن عباس رضي الله عنه يقول إنما أمرنا بالطواف ولم نؤمر بدخوله يعنى البيت فقال لم يكن ينهى عن دخوله ولكن سمعته يقول أخبرني أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما دخل البيت دعا في نواحيه كلها ولم يصل فيه شيئا حتى خرج فلما خرج صلى ركعتين وقال هذه القبلة
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کوکہا کیا تم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ بات سنی ہے کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم ملا ہے اس کے اندر داخل کا حکم نہیں دیا گیا ۔ اس پر عطاء نے کہا داخل سے روکا بھی نہیں گیا لیکن میں نے ان کو یہ کہتے سنا ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو ئے تو اس کی تمام اطراف میں دعا ئیں کیں اور اس میں کوئی چیز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ باہر تشریف لائے اور نکل کر دورکعت نماز پڑھی اور فرمایا یہ قبلہ ہے ۔
أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← دُخُولِهِ وَلَكِنْ ← إنما أمرنا بالطواف ولم نؤمر بدخوله يعنى البيت فقال لم يكن ينهى ← قلت لعطاء أسمعت بن عباس ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أبو بكرة بكار بن قتيبة القاضى
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2239
