شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 49 باب المفصل هل فيه سجود أم لا ) · حديث 2087
1970 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم عن رجل عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله فكانت هذه السجدة في حم مما قد اتفق عليه واختلف في موضعها وما ذكرنا قبل هذا من السجود في السور الأخر فقد اتفقوا عليها وعلى مواضعها التي ذكرناها وكان موضع كل سجدة منها فهو موضع أخبار وليس بموضع أمر وقد رأينا السجود مذكورا في مواضع أمر منها قوله تعالى يا مريم أقنتى لربك واسجدى ومنها قوله وكن من الساجدين فكل قد اتفق أن لا سجود في شيء من ذلك فالنظر على ذلك أن يكون كل موضع مما أختلف فيه هل فيه سجود أم لا أن ننظر فيه فإن كان موضع أمر فإنما هو تعليم فلا سجود فيه وكل موضع فيه خبر عن السجود فهو موضع سجود التلاوة فكان الموضع الذي أختلف فيه من سورة النجم فقال قوم هو موضع سجود التلاوة وقال آخرون هو ليس موضع سجدة تلاوة وهو قوله واسجدوا لله واعبدوا فذلك أمر وليس بخبر فكان النظر على ما ذكرنا أن لا يكون موضع سجود التلاوة وكان الموضع الذي اختلف فيه أيضا من اقرأ باسم ربك هو قوله كلا لا تطعه واسجد واقترب فذلك أمر وليس بخبر فالنظر على ما ذكرنا أن لا يكون موضع سجود تلاوة وكان الموضع الذي اختلف فيه من إذا السماء انشقت هو موضع سجود أو لا هو قوله فما لهم لا يؤمنون وإذا قرئ عليهم القرآن لا يسجدون فذلك موضع إخبار لا موضع أمر فالنظر على ما ذكرنا أن يكون موضع سجود التلاوة ويكون كل شيء من السجود يرد الى ما ذكرنا فما كان منه أمرا رد الى شكله مما ذكرنا فلم يكن فيه سجود وما كان منه خبرا رد الى شكله من الأخبار فكان فيه سجود فهذا هو النظر في هذا الباب فكان يجىء على ذلك أن يكون موضع السجود من حم هو الموضع الذي ذهب اليه بن عباس رضي الله عنه لأنه عنده خبر هو قوله فإن استكبروا فالذين عند ربك يسبحون له بالليل والنهار وهم لا يسئمون لا كما ذهب اليه من خالفه لأن أولئك جعلوا السجدة عند أمر وهو قوله واسجدوا لله الذي خلقهن إن كنتم إياه تعبدون فكان ذلك موضع أمر وكان الموضع الآخر موضع خبر وقد ذكرنا أن النظر يوجب أن يكون السجود في مواضع الخبر لا في مواضع الأمر فكان يجىء على ذلك أن لا يكون في سورة الحج غير سجدة واحدة لأن الثانية المختلف فيها إنما موضعها في قول من يجعلها سجدة موضع أمر وهو قوله اركعوا واسجدوا واعبدوا ربكم الآية وقد بينا أن مواضع سجود التلاوة هى مواضع الأخبار لا مواضع الأمر فلو خلينا والنظر لكان القول في سجود التلاوة أن ننظر فما كان منه موضع أمر لم نجعل فيه سجودا وما كان منه موضع خبر جعلنا فيه سجودا ولكن اتباع ما ثبت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أولى وقد اختلف في سورة ص وقال قوم فيها سجدة وقال آخرون ليس فيها سجدة فكان النظر عندنا في ذلك أن يكون فيه سجدة لأن الموضع الذي جعله من جعله فيها سجدة وموضع السجود هو موضع خبر لا موضع أمر وهو قوله فاستغفر ربه وخر راكعا وأناب فذلك خبر فالنظر فيه أن يرد حكمه الى حكم أشكاله من الأخبار فيكون فيه سجدة كما يكون فيها وقد روى ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم
نافع نے ابن عمر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ حم تنزیل کےاس سجدہ میں تو اتفاق ہے مگر مقام سجدہ میں اختلاف ہے ۔ اس سے قبل جن سجدات کاہم نے ذکر کیا ہے ان سجود اور ان مقامات دونوں پر اتفاق ہے ۔ سجدات کے ان مقامات کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکم نہیں دیا گیا ہم کئی مقامات ایسے بھی پاتے ہیں جن میں لفظ سجدہ بھی مذکور ہے اور امر بھی ہے مگر وہاں بالا تفاق سجدہ نہیں مثلا ( یا مریم اقنتی لربک واسجدی ) اے مریم اپنے رب کے حضور عاجزی کرو اور سجدہ کرو اور دوسرے مقام پر فرمایا ( وکن من الساجدین ) اور سجدہ والوں سے ہو جاؤ۔پس نظر و فکر اس بات میں کیا جائے گا کہ جن مقامات میں سجدوں کا حکم مختلف ہے وہاں امر سجدہ یا فقط سجدے کی خبر د ی گئی ہے اگر سجدے کا حکم ہے تو وہ تعلیم سجدہ ہے اور اگر خبر سجدہ ہو تو وہ مقام سجدہ تلاوت ہے وہ مقام سجدہ جہاں اختلاف کیاگیا وہ ( سورۃ النجم) ہے ۔ بعض حضرات نے اسے سجدہ تلاوت کا مقام کہا جبکہ دوسروں نے اسے شامل نہیں کیا ۔ اس لیے کہ وہ ( والسجدواللہ واعبدوا) اس میں امر ہے خیر نہیں ہے ۔ جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس پر قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ سجدہ کامقام نہ ہو ۔ وہ مقام جہاں جس کے مقام سجدہ ہونے میں اختلاف ہے سورۃ اقراء میں آیت (کلاہ تطعہ واسجد افترب ) ہے اس میں امر ہے اور خبر نہیں ۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ مقام سجدہ تلاوت نہ ہو۔ ایک اور مختلف فیہ مقام جو سورہ انشقاق کی آیت (فما لھم لا یومنون۔۔۔) یہ خبر ہے امر ہے وہ ہم مثل کی طرف لوٹا ئیں گے اور اگر اس میں سجدہ نہ ہو گا اور اس میں جہاں خبر ہے اس کو خبر کی طرف لوٹا یا جائے گا وہاں سجدہ کریں گے۔ اس باب میں تقاضا قیاس یہی ہے چنانچہ اس کے مطابق تو حم سجدہ تلاوت ہو چاہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کو اختیار کیا کیونکہ ان کے ہاں وہ خبر ہے اور وہ یہ آیت (فان استکبرو فالذین عند ربک یسبحون لہ ۔۔۔۔۔۔۔۔) ہے اس جگہ نہیں جیسا ان سے اختلاف کرنے والوں نے موضع سجدہ قرار دیا کیونکہ وہ امر ہے اور وہ آیت ہے ( واسجدو اللہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون) اور یہ تو امر کامقام ہے اور پہلا مقام وہ مقام خبر ہے اور تقاضا نظر سے سجدہ مقام خبر میں ہے مقام امر میں نہیں۔ پس اس کے مطابق سورہ حج میں صرف ایک سجدہ ہو گا کیونکہ اختلاف کے مقام پر جنہوں نے سجدہ قرا ر دیا وہ مقام امر ہے اور وہ یہ آیت ہے ( ارکعو ا واسجدو ا واعبدواربکم۔۔۔۔۔۔۔) اور سجدہ مقام خبر میں ہے ۔ موضع امر مقام سجدہ نہیں ۔ اگر قیاس کا اعتبار کرتے تو ہم ہرموضع خبر کر سجدہ اور ہر موضع امر کو مقام غیر سجدہ قرار دیتے مگر جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ حکم کی اتباع ضروری ہے (اسی کو اخیار کریں گے ) سجدہ ص میں بھی اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں اس میں سجدہ ہے دوسرے اس میں سجدہ نہیں مانتے ۔ ہمارے ہاں کا قیاس یہ چاہتا ہے کہ یہاں سجدہ تلاوت ہو ۔ جو لوگ یہاں سجدہ کے قائل ہیں وہ مقام خبر کو مقام بتلاتے ہیں مقام امر پر نہیں اور وہ یہ آیت کا یہ حصہ ہے ( فاستغفر ربہ و خررا کعا و اناب) یہ خبر ہے ۔ پس قیاس سجدے کا متقاضی ہے ہم مثلوں کاحکم لگے گا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ روایت وارد ہے ۔
بن عمر مثله فكانت هذه السجدة في حم مما قد اتفق عليه ← نَافِعٍ ← رَجُلٌ: ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،
Hadith 2087
