شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2013
1901 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا وهب قال ثنا داود وهو بن أبى هند عن الوليد بن عبد الرحمن عن جبير بن نفير الحضرمي عن أبى ذر قال صمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رمضان ولم يكن بنا حتى بقي سبع من الشهر فلما كانت الليلة السابعة خرج فصلى بنا حتى مضى ثلث الليل ثم لم يصل بنا السادسة حتى خرج ليلة الخامسة فصلى بنا حتى مضى شطر الليل فقلنا يا رسول الله لو نفلتنا فقال إن القوم إذا صلوا مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام تلك الليلة ثم لم يصل بنا الرابعة حتى إذا كانت ليلة الثالثة خرج وخرج بأهله فصلى بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قلت وما الفلاح قال السحور قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن القيام مع الإمام في شهر رمضان أفضل منه في المنازل واحتجوا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قنوت بقية ليلته وخالفهم في في ذلك آخرون فقالوا بل صلاته في بيته أفضل من صلاته مع الإمام وكان من الحجة لهم في ذلك أن ما احتجوا به من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قنوت بقية ليلته كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكنه قد روى عنه أيضا أنه قال خير صلاة المرء في بيته الا المكتوبة في حديث زيد بن ثابت وذلك لما قام بهم ليلة في رمضان فأرادوا أن يقوم بهم بعد ذلك فقال لهم هذا القول فأعلمهم به أن صلاتهم في منازلهم وحدانا أفضل من صلاتهم معه في مسجده فصلاتهم تلك في منازلهم أحرى أن يكون أفضل من الصلاة مع غيره في غير مسجده فتصحيح هذين الأثرين يوجب أن حديث أبى ذر هو على أن يكتب له بالقيام مع الإمام قنوت بقية ليلته وحديث زيد بن ثابت يوجب أن ما فعل في بيته هو أفضل من ذلك حتى لا يتضاد هذان الأثران
جبیر بن نفیر حضرمی نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا اور ہمیں قیام لیل کرایا یہاں تک کہ جب تیسویں رات آئی تو آپ نے نکل کر ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ رات کا ثلث گزر گیا پھر ہمیں اگلے روز (چوبیسویں کو نماز نہ پڑھائی یہاں تک کہ پچیس کی رات نکل کر نماز پڑھائی یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا ہم نے عرض کیا یار سول اللہ کاش آپ ہمیں نفل نماز پڑھاتے آپ نے فرمایا جب لوگ امام کے ساتھ نماز پڑھ کر لوٹے ہیں تو ان کے لیے اس رات کا قیام لکھ دیا جاتاہے پھر چھبیس کی رات آپ نے ہمیں نماز نہ پڑھائی جب ستائیسویں کی رات آئی آپ خود گھر والوں سمیت نکلے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خطرہ ہو گیا کہ سحری فوت ہو جائے گی ۔ ابور ذر رضی اللہ عنہ نے فلاح کا معنی سحری بتلایا ہے ۔ بعض علماء اس طرح گئے ہیں کہ رمضان کی رات مسجد میں قیام نسبت گھروں میں قیام کے افضل ہے ۔ ان کا استدلال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے کہ جو شخص مسجد میں قیام کر کے لوٹا تو اسے بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ۔ مگر دوسری جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں قیام رمضان مسجد میں چڑھنے سے افضل ہے ۔ فریق اول کی یہ دلیل کو جو شخص امام کے ساتھ قیام کر کے لوٹا توا س کو بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ۔ اس کے قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کلام نہیں مگر آپ کا یہ ارشاد بھی تو ہے " خیر صلاۃ المرء فی بیتہ الا المکتبوبۃ " نفل نماز گھر میں افضل ہے البتہ فرض نماز ۔ یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ نے ان کے ساتھ رمضان المبارک کی رات میں کیا اور ان کی چاہت یہ تھی کہ آپ اور بھی نماز پڑھائیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی آپ نے تو ان کو بتلایا کہ ان کا گھر نماز پڑھنا ان کے مسجد میں نماز سے افضل ہے ۔ تو یہ نماز اس لائق ہے کہ اسے گھر میں ادا کیا جائے ۔ ان دونوں کو تضاد سے محفوظ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ روایت ابوذر رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قیام سے بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملنا ثابت ہوا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت س گھر میں پڑھنے کی فضیلت ثابت ہوئی ۔
اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← داود وهو بن أبى هند ← وَھْبٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2013
