شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 47 باب جمع السور في ركعة ) · حديث 1998
وحدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني بن جريج عن محمد بن عباد بن جعفر عن أبى سلمة عن سفيان عن عبد الله بن السائب قال حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم غداة الفتح صلاة الصبح فافتتح سورة المؤمن فلما أتى على ذكر موسى وعيسى أو موسى وهارون صلى الله عليهم أخذته سعلة فركع فإن قال قائل إنما فعل ذلك للسعلة التي عرضت له قيل له فقد روى عنه انه كان يقرأ في ركعتي الفجر بآيتين من القرآن قد ذكرنا ذلك في باب القراءة في ركعتي الفجر وقد
ابوسلمہ بن سفیان نے عبداللہ بن سائب سے نقل کیا کہ میں فتح مکہ کی صبح نماز صبح میں حاضر ہوا تو آپ نے سورۃ مومن پڑھنا شروع کی جب آپ موسیٰ و عیسی یا موسیٰ و ہارون کے واقعہ پر پہنچے تو آپ پر کھانسی کا غلبہ ہوا پس آپ نے رکوع کیا اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ اسی قدر سورت پر رکوع کرنا کھانسی کے باعث تھا ۔ تو اس کے جوا ب میں یہ کہا جائے گا کہ آپ نے فجر کی دورکعتوں میں قرآن مجید کی دو آیات پڑھیں او ر یہ بات ہم با القراۃ فی رکعتی الفجر میں ذکر چکےہیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← سُفْيَانَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1998
