شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1976
1867 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدى قال ثنا شعبة عن قتادة ومالك بن دينار أنهما سمعا خلاسا قال سمعت عمار بن ياسر وسأله رجل عن الوتر فقال أما انا فأوتر ثم أنام فإن قمت صليت ركعتين ركعتين وهذا عندنا معنى حديث همام عن قتادة الذي ذكرناه في الفصل الأول لأن في ذلك فإذا قمت شفعت فأحتمل ذلك أن يكون يشفع بركعة كما كان بن عمر رضي الله عنهما يفعل ويحتمل أن يكون يصلى شفعا شفعا ففي حديث شعبة ما قد بين أن معنى قول شفعت أي صليت شفعا شفعا ولم أنقض الوتر
خلدس کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر سے سنا اور ایک آدمی نے ان سے وتر کے متعلق سوال کیا تھا تو کہنے لگے میں وتر پڑ ھ کر سو جاتا ہوں اگر میں بیدار ہو جاؤں تو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہتا ہوں ہمارے نزدیک حضرت ہمام کی روایت کا مفہوم یہی ہے ۔ جس کو انہوں نے حضر ت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روات کیا ہے ۔ جس کو ہم فصل اول میں ذکر کر آئے ہیں کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ " جب میں جاگتا ہوں تو دو رکعت پڑھتا ہوں" اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایک رکعت ملا کر شفعہ بنا لیتے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ دو دو رکعت کر کے پڑھتا ہوں ۔ پس شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اس بات کا بیان ہے کہ ان کے قول " شفعت" کا معنی یہ ہے کہ میں شفع شفع پڑھتا ہوں اور وتر کو نہیں توڑتا ۔
إِمَّا ← الْوَتْرِ ← عمار بن ياسر وسأله رجل ← قتادة ومالك بن دينار أنهما سمعا خلاسا ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1976
