شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 41 باب التطوع بالليل والنهار كيف هو ) · حديث 1928
1822 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن أبى معشر أن إبراهيم قال صلاة الليل والنهار مثنى مثنى الا أنك إن شئت صليت من النهار أربع ركعات لا تسلم الا في آخرهن قال أبو جعفر فقد ثبت حكم صلاة النهار على ما ذكرنا وما روينا في هذه الآثار لم يدفع ذلك ولم يعارضه شيء وأما صلاة الليل فقد ذكرنا فيها من الاختلاف ما ذكرنا في أول هذا الباب فكان من حجة الذين جعلوا له أن يصلى بالليل ثمانيا لا يفصل بينهن بتسليم حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يصلى بالليل إحدى عشرة ركعة منها الوتر ثلاث ركعات فقيل لهم فقد روى الزهرى عن عروة عن عائشة رضي الله عنها انه كان يسلم بين كل اثنتين منهن وهذا الباب إنما يؤخذ من جهة التوقيف والاتباع لما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر به وفعله أصحابه من بعده فلم نجد عند من فعله ولا من قوله انه أباح أن يصلى في الليل بتكبيرة أكثر من ركعتين وبذلك نأخذ وهو أصح القولين عندنا في ذلك
ابو معشر نے نقل کیا کہ ابراہیم نخعی کہنے لگے دن رات کی نماز دو دو ہے البتہ دن میں چار رکعات سلام کے فاصلہ کے بغیر پڑھو ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ دن کی نماز کا حکم اسی طرح ثابت ہو گیا جس طرح ہم نے ذکر کیا اور جو کچھ ہم نے ان روایات میں ذکر کیا ہے وہ اس کے منافی نہیں اور نہ اس کے مخالف ہے اور رات کی نماز کے سلسلہ کا اختلاف تو ہم اس باب کے شروع میں ذکر کر چکے ۔ پس و ہ حضرات جو رات کو ایک سلام کے ساتھ آٹھ رکعات کے قائل ہیں ان کی دلیل جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی یہ روایت ہے کہ آپ رات کو گیارہ رکعت ادا کرتے جن میں سے تین رکعات وتر ہوتے۔ ان حضرات کے جواب میں کہا جائے کہ امام زہری نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان میں سے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے اور یہ مسئلہ توفیقی ہے جس طرح سنا ہے اسی طرح آپ کے فعل و قول نہیں ملا جس میں دو رکعت سے زائد نماز کو ادا کیا ہو۔ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں اور ہمارے ہا دونوں اقوال میں سے زیادہ صحیح قول یہی ہے ۔
أَبِي مَعْشَرٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1928
