شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 39 باب صلاة الكسوف كيف هى ) · حديث 1904
1802 - حدثنا فهد قال ثنا أبو كريب قال ثنا أبو أسامة عن يزيد بن عبد الله عن أبى بردة عن أبى موسى قال خسفت الشمس في زمان رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام فزعا يخشى أن تكون الساعة حتى أتى المسجد فقام يصلى بأطول قيام وركوع وسجود ما رأيته يفعله في صلاة قط ثم قال إن هذه الآيات التي يرسلها الله عز و جل لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن الله عز و جل يرسلها يخوف بها عباده فإذا رأيتم شيئا منها فافزعوا الى ذكر الله ودعائه واستغفاره فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالدعاء عندها والاستغفار كما أمر بالصلاة فدل ذلك أنه لم يرد منهم عند الكسوف الصلاة خاصة ولكن أريد منهم ما يتقربون به الى الله تعالى من الصلاة والدعاء والاستغفار وغير ذلك وقد
ابو بردہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے زمانہ مین سورج کو گہن لگ گیا تو آپ گھبرا کر اٹھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی یہاں تک کہ آپ مسجد میں پہنچے اور نماز پڑھنے کھڑے ہوئے آپ نے اس میں انتہائی طویل قیام رکوع اور سجدہ کیا جو کسی اور نماز میں دیکھنے میں نہ آیا تھا پھر ارشاد فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ۔ جن کو اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں اس میں کسی کی موت و زندگی کا دخل نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو بھیج کر اپنے بندوں کو خوف دلاتے ہیں جب تم ان میں سے کسی چیز کو دیکھوں تو یاد الہی کی طرف اور دعا و استغفار کی طرف لپکو ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دعا ، استغفار کا بھی اسی طرح حکم فرمایا جس طرح نماز کا فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ اس ے کوئی خاص قسم کی نماز مراد نہیں بلکہ مقصود ایسی چیزوں ہیں جن سے قرب الہی کا حصول ہوتا ہے یعنی نماز دعا اور استغفار وغیرہ کرو۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1904
