شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 39 باب صلاة الكسوف كيف هى ) · حديث 1868
1767 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام فأطال القراءة ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع رأسه فأطال القيام وهو دون قيامه الأول ثم ركع فأطال الركوع وهو دون ركوعه الأول ثم رفع رأسه فسجد ثم قام ففعل مثل ذلك غير أن الركعة الأولى منهما أطول
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا تو آپ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور طویل قراءت فرمائی پھر خوب طویل رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تر تھا پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تر تھا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر آ پ اٹھے اور دوسری رکعت کا قیام اسی طرح فرمایا البتہ اول رکعت کا قیام زیادہ لمبا تھا ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1868
