شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1857
1757 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن هشام أن إسحاق بن عبد الله بن كنانة من بنى مالك بن شرحبيل قال حدثني أبى قال أرسلنى الوليد بن عقبة أسأل له عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم في الاستسقاء فأتيت بن عباس رضي الله عنهما فقلت انا تمارينا في المسجد في صلاة النبي صلى الله عليه و سلم في الاستسقاء قال لا ولكن أرسلك بن اخيكم الوليد وهو أمير المدينة ولو أنه أرسل فسأل ما كان بذلك بأس ثم قال بن عباس رضي الله عنهما خرج النبي صلى الله عليه و سلم مبتذلا متواضعا متضرعا حتى أتى المصلى فلم يخطب خطبتكم هذه ولكن لم يزل في الدعاء والتضرع والتكبير فصلى ركعتين كما يصلى في العيدين فقوله كما يصلى في العيدين يحتمل أنه جهر فيهما كما يجهر في العيدين
ہشام نے بیان کیا کہ بنی مالک بن شر حبیل کے اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ سے بتلایا کہ مجھے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے استسقاء کے سلسلہ میں دریافت کروں چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا ہم نے مسجد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی صلاۃ استسقاء کے متعلق اختلاف و بحث کی ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہیں تمہارے چچا زاد بھائی ولید نے بھیجا ہے وہ ان دنوں مدینہ کے گورنر تھے اگر وہ خود پیغام بھیج کر پوچھتا تو تب بھی اس میں قباحت نہ تھی پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پرانے کپڑوں میں تواضع اور تضرع کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور تمہاری طرح کا خطبہ نہیں دیا ۔ بلکہ دعا اور گڑ گڑانے اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے رہے پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی جیسے عید ین کی نماز ہوتی ہے ۔
هِشَامٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن
Hadith 1857
