Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1857

1757 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن هشام أن إسحاق بن عبد الله بن كنانة من بنى مالك بن شرحبيل قال حدثني أبى قال أرسلنى الوليد بن عقبة أسأل له عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم في الاستسقاء فأتيت بن عباس رضي الله عنهما فقلت انا تمارينا في المسجد في صلاة النبي صلى الله عليه و سلم في الاستسقاء قال لا ولكن أرسلك بن اخيكم الوليد وهو أمير المدينة ولو أنه أرسل فسأل ما كان بذلك بأس ثم قال بن عباس رضي الله عنهما خرج النبي صلى الله عليه و سلم مبتذلا متواضعا متضرعا حتى أتى المصلى فلم يخطب خطبتكم هذه ولكن لم يزل في الدعاء والتضرع والتكبير فصلى ركعتين كما يصلى في العيدين فقوله كما يصلى في العيدين يحتمل أنه جهر فيهما كما يجهر في العيدين

ہشام نے بیان کیا کہ بنی مالک بن شر حبیل کے اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ سے بتلایا کہ مجھے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے استسقاء کے سلسلہ میں دریافت کروں چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا ہم نے مسجد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی صلاۃ استسقاء کے متعلق اختلاف و بحث کی ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہیں تمہارے چچا زاد بھائی ولید نے بھیجا ہے وہ ان دنوں مدینہ کے گورنر تھے اگر وہ خود پیغام بھیج کر پوچھتا تو تب بھی اس میں قباحت نہ تھی پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پرانے کپڑوں میں تواضع اور تضرع کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور تمہاری طرح کا خطبہ نہیں دیا ۔ بلکہ دعا اور گڑ گڑانے اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے رہے پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی جیسے عید ین کی نماز ہوتی ہے ۔

هِشَامٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Hadith 1857

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1858

1758 - حدثنا فهد قال ثنا عبيد بن إسحاق العطار قال ثنا حاتم بن إسماعيل فذكر بإسناده مثله وزاد فصلى ركعتين ونحن خلفه يجهر فيهما بالقراءة ولم يؤذن ولم يقم ولم يقل مثل صلاة العيدين فدل ذلك أن قوله مثل صلاة العيدين في الحديث الأول إنما أراد به هذا المعنى أنه صلى بلا أذان ولا إقامة كما يفعل في العيدين

عبید بن اسحاق عطار کہتے ہیں کہ ھاتم بن اسماعیل نے ہمیں بیان کیا پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے ۔ فصلی رکعتیں الحدیث کہ دو رکعت نماز ادا کی ہم آپ کے ساتھ تھے آپ نے اس میں جہرا قراءت فرمائی اذان نہیں دی گئی اور نہ اقامت کہی گئی اور اس روایت میں مثل صلاۃ العیدین کا جملہ بھی نہیں ہے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ روایت میں یہ الفاظ " مثل صلاۃ العیدین" ان کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے عیدین کی طرح بغیر اقامت اور اذان کے نماز ادا کی ۔

حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ← فهد

Hadith 1858

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1859

1759 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن هشام بن إسحاق بن عبد الله بن كنانة عن أبيه فذكر مثل حديث ربيع عن أسد قال سفيان فقلت للشيخ الخطبة قبل الصلاة أو بعدها قال لا أدرى ففي هذا الحديث ذكر الصلاة والجهر فيها بالقراءة ودل جهره فيها بالقراءة أنها كصلاة العيد التي تفعل نهارا في وقت خاص فحكمها الجهر وكذلك أيضا صلاة الجمعة هي من صلاة النهار ولكنها مفعولة في يوم خاص فحكمه الجهر فثبت بذلك أن كذلك حكم الصلوات التي تصلى بالنهار لا في سائر الأيام ولكن لعارض أو في يوم خاص فحكمها الجهر ولكل صلاة تفعل في سائر الأيام نهارا لا لعارض ولا في وقت خاص فحكمها المخافتة فثبت بما ذكرنا أن صلاة الاستسقاء سنة قائمة لا ينبغي تركها وقد روى ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من غير وجه

ہشام بن اسحاق نے اپنے والد اسحاق سے اس ربیع سے اسد جیسی روایت نقل کی ہے سفیان کہتے ہیں کہ میں نے شیخ یعنی ہشام سے پوچھا کہ خطبہ استسقاء نماز سے پہلے یا بعد ہے تو انہوں نے فرمایا ہ مجھے معلوم نہیں ۔ اس روایت میں جہری قراءت کے ساتھ نماز کا ذکر ہے او ر اس قراءت کو بلند آواز سے پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نماز عید کی طرح ہے جو دن میں پڑھنے کے باوجود جہری قراءت سے ادا کی جاتی ہے اور اس کا وقت بھی مخصوص ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ جو نماز کسی عارضہ کی وجہ سے خاص دن میں پڑھی جائے ان کا حکم جہر کا ہے اسی طرح جمعہ کی نماز بھی ایک خاص دن میں دن کے وقت ادا کی جاتی ہے تو اس کا حکم بھی جہرہی کا ہے اور دن کی وہ نماز یں کہ جن میں نہ کوئی عارضہ ہے اور نہ ان کا خاص وقت ہے تو ان میں آہستہ قراءت کی جاتی ہے ۔ پس اس سے ثابت ہو گیا نماز استسقاء قائم کی جانے والی سنت ہے اس کا چھوڑنا مناسب نہیں ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے بہت سی اسناد کے ساتھ مروی ہے ۔

لا أدرى ففي هذا الحديث ← سفيان فقلت للشيخ الخطبة قبل الصلاة أو بعدها ← أسد ← مثل حديث ربيع ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 1859

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1860

1760 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا هارون بن سعيد بن الهيثم الآيلى قال ثنا خالد بن نزار عن القاسم بن مبرور عن يونس بن يزيد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت شكا الناس الى رسول الله صلى الله عليه و سلم قحوط المطر فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بمنبر فوضع في المصلى ووعد الناس يخرجون يوما قالت عائشة رضي الله عنها وخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فحمد الله ثم قال انكم شكوتم الى جدب جنابكم واستئخار المطر عن أبان زمانه عنكم وقد أمركم عز و جل أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم ثم قال الحمد لله رب العالمين مالك يوم الدين لا اله الا الله يفعل ما يريد اللهم أنت لا اله الا أنت الغنى ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا الى حين ثم رفع يديه فلم يزل في الرفع حتى بدا بياض إبطيه ثم حول الى الناس ظهره وقلب أو حول ردءاه وهو رافع يديه ثم أقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين وأنشأ الله سحابا فرعدت وبرقت وأمطرت بإذن الله تعالى فلم يأت مسجده حتى سألت السيول فلما رأى التواء الثياب على الناس وتسرعهم الى الكن ضحك حتى بدت نواجذه وقال اشهد أن الله على كل شيء قدير وأني عبد الله ورسوله

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت میں بارش کے نہ ہونے کی شکایت کی آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے منبر منگوایا جو ک عید گاہ میں رکھ دیا گیا پھر لوگوں سے مقررہ دن میں جمع ہونے کا حکم فرمایا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اس وقت نکلے جب کہ سورج کا کنارہ نکل آیا پس آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا تم نے قحط کا شکوہ کیا اور اپنے علاقہ میں خشک سالی کا ذکر کیا بارش وقت سے مؤخر ہوئی اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم دعا کرو اس نے وعدہ فرمایا ہے ک وہ قبولیت عنایت فرمائیں گے پھر اس طرح دعا فرمائی تمہاری تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو کہ جزاء کے دن کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اے اللہ! تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں ہم پر بارش نازل فرمایا اور اس بارش کو ہماری قوت اور مقررہ وقت تک پہنچا نے کا ذریعہ بنا دے ۔ پھر آپ نے دعا کے لیے ہاتھ بلند فرمائے اس قدر بلند فرمائے کہ بغلوں کی سپیدی ظاہر ہونے لگی پھر آ پ نے اپنی پشت کو لوگوں کی طرف موڑ لیا اور قلب رداء فرمائی اس ھال میں کہ آپ اپنے ہاتھوں کو بلند کرنے والے تھے ،۔ پھر لوگوں کی طرف سے رخ فرمایا اور منبر سے نیچے تشریف لائے پھر دو رکعت ادا فرمائی اس حال میں آپ اپنےہاتھوں کو بلند کرنے والے تھے ۔ پھر لوگوں کی طرف رخ فرمایا اور منبر سے نیچے تشریف لائے پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس کے کلمات شروع کیے پھر تو بادل گرجنے لگا بجلی چمکنے لگی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش ہونے لگی آپ واپس مسجد میں تشریف نہ لائے تھے کہ وادیاں بہہ پڑیں جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کپڑوں کو سمیٹے جلد کو ٹھڑیوں میں اور پناہ گاہوں میں گھس رہے ہیں تو یہ دیکھ کر آپ خوب ہنسے یہاں تک کہ آپ کے نواجز ہو گئے اور زبان سے فرمایا اشھدان اللہ علی کل شئ قدیر وانی عبداللہ ورسولہ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 1860

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1861

1761 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبى قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهرى عن حميد بن عبد الرحمن عن أبى هريرة رضي الله عنه قال خرج نبي الله صلى الله عليه و سلم يوما يستسقى فصلى بنا ركعتين بغير أذان ولا إقامة قال ثم خطبنا ودعا الله وحول وجهه نحو القبلة ورفع يديه وقلب رداءه فجعل الأيمن على الأيسر والأيسر على الأيمن

حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ایک دن بارش طلب کرنے کے لیے باہر تشریف لائے پھر ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اس کے لیے اذان ، اقامت نہ تھی پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور آپ نے اپنا چہرہ قبلہ رخ کیا اور اپنے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے اور قلب رداء کیا دائیں کندھے والے پلڑے کو بائیں اور بائیں والے کو دائیں پرکر دیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Hadith 1861

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1862

1762 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا الحميدي قال ثنا محمد بن إسماعيل بن أبى فديك وخالد بن عبد الرحمن عن بن أبي ذئب ح

محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک اور خالد بن عبدالرحمن نے ابن ابی الذئب سے روایت نقل کی ہے ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← محمد بن إسماعيل بن أبى فديك وخالد بن عبد الرحمن ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان

Hadith 1862

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1863

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا بن أبى ذئب عن الزهرى عن عباد بن تميم عن عمه وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم يوما خرج يستسقي فحول الى الناس ظهره واستقبل القبلة يدعو ثم حول رداءه ثم صلى ركعتين قرأ فيهما وجهر

عباد بن تمیم نے اپنے چچا سے نقل کیا ہے کہ یہ صحابی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کودیکھا کہ آپ استسقاء کے لیے نکلے ہیں آپ نے اپنا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف کیا اور دعا مانگنے لگے پھر تحویل رداء فرمائی پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور ا ن میں جہرا قراءت کی ۔

عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 1863

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1864

1763 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني بن أبى ذئب فذكر مثله بإسناده غير أنه لم يذكر الجهر ففي هذه الآثار ذكر الخطبة مع ذكر الصلاة فثبت بذلك أن في الاستسقاء خطبة غير أنه قد اختلف في خطبة رسول الله صلى الله عليه و سلم متى كانت ففي حديث عائشة رضي الله عنها وعبد الله بن زيد أنه خطب قبل الصلاة وفي حديث أبى هريرة رضي الله عنه أنه خطب بعد الصلاة فنظرنا في ذلك فوجدنا الجمعة فيها خطبة وهى قبل الصلاة ورأينا العيدين فيهما خطبة وهى بعد الصلاة كذلك كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل فأردنا أن ننظر في خطبة الاستسقاء بأي الخطبتين هى أشبه فنعطف حكمها على حكمها فرأينا خطبة الجمعة فرضا وصلاة الجمعة مضمنة بها لا تجزى الا بإصابتها ورأينا خطبة العيدين ليست كذلك لأن صلاة العيدين تجزى أيضا وإن لم يخطب ورأينا صلاة الاستسقاء تجزى أيضا وإن لم يخطب ألا ترى أن إماما لو صلى بالناس في الاستسقاء ولم يخطب كانت صلاته مجزئة غير أنه قد أساء في تركه الخطبة فكانت بحكم خطبة العيدين أشبه منها بحكم خطبة الجمعة فالنظر على ذلك أن يكون موضعها من صلاة الاستسقاء مثل موضعها من صلاة العيدين فثبت بذلك أنها بعد الصلاة لا قبلها وهذا هو مذهب أبى يوسف وقد روى ذلك عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم أنه صلى في الاستسقاء وجهر بالقراءة

ابن ابی الذئب نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ اس میں جہرا قراءت کاذکر نہیں ، ان روایات میں نماز کے ساتھ خطبہ کا بھی تذکرہ ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ نماز استسقاء میں خطبہ بھی ہے ۔ اتنی بات ضرورہے کہ خطبہ میں اختلاف ہے کہ آپ نے کس وقت خطبہ دیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بتلائی ہے کہ خطبہ نماز کے بعد ارشاد فرمایا ۔ پس ہم نے اس میں غور کیا تو دیکھا کہ جمعہ میں خطبہ ہے مگر نماز سے پہلے ہے اور عیدین کا خطبہ نماز کے بعد ہے ۔جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے پھر ہم نے غور کیا کہ خطبہ استسقاء ان میں سے کس کے ساتھ مشابہہ ہے آیا وہ خطبہ جمعہ کے مشابہہ ہے یا عیدین کے تاکہ اس کے مطابق اس پر حکم لگائیں ۔ ہم نے دیکھا کہ خطبہ جمعہ تو نماز میں شامل اور فرض ہے اس کے بغیر نماز جمعہ جائز نہیں اور عیدین کا خطبہ اس کی طرح نہیں ہے کیونکہ نماز عیدین اس کے بغیر نماز جمعہ جائز نہیں اور عیدین کا خطبہ اس کی طرح نہیں ہے ۔ کیونکہ نماز عیدین اس کے بغیر بھی درست ہے خواہ خطبہ نہ دیا جائے اسی طرح نماز استسقاء بھی خطبہ کے بغیر بھی درست ہے ۔ ذرا غور تو کرو اگر امام لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائے اور خطبہ نہ بھی دے ۔ ، تب بھی نماز درست ہو جاتی البتہ ترک خطبہ اس کی غلطی ہے اور گناہ ہے پس یہ خطبہ جمعہ کی بجائے عیدین کا خطبہ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے اس لیے اس کا خطبہ بھی وقت عیدین میں ہونا چاہیے یعنی نماز کے بعد ۔ پس اس نظر سے ثابت ہوا کہ یہ خطبہ نماز کے بعد ہے نہ کہ پہلے ۔ یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے اور صحابہ کرام بھی مروی ہے کہ انہوں نے نماز استسقاء میں بلند آواز قراءت کی اور قراء ت بھی بلند آواز سے پڑھی ۔

الخطبة مع ← مثله بإسناده غير أنه لم يذكر الجهر ففي هذه الآثار ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 1864

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1865

1764 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق قال خرج عبد الله بن يزيد يستسقي وكان قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم قال وخرج فيمن كان معه البراء بن عازب وزيد بن أرقم قال أبو إسحاق وأنا معه يومئذ فقام قائما على راحلته على غير منبر واستسقى واستغفر وصلى ركعتين ونحن خلفه فجهر فيهما بالقراءة ولم يؤذن يومئذ ولم يقم

ابو اسحاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے تشریف لائے یہ صحابی ہیں ان کے نکلنے والوں میں ان کے ساتھ براء بن عازب ، زید بن ارقم رضی اللہ عنہم بھی تھے اور ابو اسحاق کہتے ہیں میں بھی اس مجمع میں تھا عبداللہ بن یزید اپنی اونٹنی کے کجاوے پر کھڑے ہوئے منبر نہ تھا اور بارش کی دعا مانگی اور دو رکعت نماز ادا کی اس میں جہری قراء ت کی ہم نماز میں موجود تھے نماز کے لیے اذان و اقامت نہ کہی گئی ۔

اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← وخرج فيمن كان معه البراء بن عازب ← كان قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم ← خرج عبد الله بن يزيد يستسقي ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فهد

Hadith 1865

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1866

1765 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا على بن جعد قال أنا زهير فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر في حديثه أن عبد الله بن يزيد قال كان رأى النبي صلى الله عليه و سلم

علی بن جعد نے کہا ہمیں زہیر نے بتلایا پھر اپنی سند سے زہیر نے روایت بیان کی البتہ اس روایت میں یہ ذکر نہیں کہ عبداللہ بن یزدید نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔

Hadith 1866

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1867

1766 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى إسحاق قال خرج عبد الله بن يزيد يستسقي بالكوفة فصلى ركعتين

ابو اسحاق سے نقل کیا کہ عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ کوفہ میں طلب بارش کے لیے نکلے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔

خرج عبد الله بن يزيد يستسقي بالكوفة فصلى ركعتين ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Hadith 1867

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter