شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1827
1728 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن يحيي بن سعيد فذكر مثله بإسناده قيل لهم إن هذا الحديث فيه أنهم صلوا وهم مأمومون قبل فراغ الإمام من الصلاة في حديث يزيد بن رومان عن صالح بن خوات وقد روينا من حديث شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات خلافا لذلك لأن في حديث يزيد بن رومان أنه ثبت بعد ما صلى الركعة الأولى قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا ثم جاءت الأخرى بعد ذلك وفي حديث شعبة عن عبد الرحمن عن أبيه عن صالح بن خوات أنه صلى بطائفة منهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء ولم يذكر أنهم صلوا قبل أن ينصرفوا فقد خالف القاسم محمد بن يزيد بن رومان فإن كان هذا يؤخذ من طريق الإسناد فإن عبد الرحمن عن أبيه القاسم عن صالح بن خوات عن سهل بن أبى حنتمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أحسن من يزيد بن رومان عن صالح عمن أخبره وان تكافئا تضادا وإذا تضادا لم يكن لأحد الخصمين في أحدهما حجة إذ كان لخصمه عليه مثل ماله على خصمه فإن قال قائل فإن يحيي بن سعيد قد روى عن القاسم بن محمد عن صالح بن خوات عن سهل ما يوافق ما روى يزيد بن رومان ويحي بن سعيد ليس بدون عبد الرحمن بن القاسم في الضبط والحفظ قيل له يحيي بن سعيد كما ذكرت ولكن لم يرفع الحديث الى النبي صلى الله عليه و سلم وانما أوقفه على سهل فقد يجوز أن يكون ما روى عبد الرحمن بن القاسم عن صالح هو الذي كذلك كان عند سهل عن النبي صلى الله عليه و سلم خاصة ثم قال هو من رأيه ما بقي فصار ذلك رأيا منه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم ولذلك لم يرفعه يحيي الى النبي صلى الله عليه و سلم فلما احتمل ذلك ما ذكرنا ارتفع أن يقوم به حجة أيضا والنظر يدفع ذلك لأنا لم نجد في شيء من الصلاة أن المأموم يصلى شيئا منها قبل الإمام وانما يفعله المأموم مع فعل الإمام أو بعد فعل الإمام وإنما يلتمس علم ما اختلف فيه مما أجمع عليه فإن قالوا قد رأينا تحويل الوجه عن القبلة قد يجوز في هذه الصلاة ولا يجوز في غيرها فما ينكرون قضاء المأموم قبل فراغ الإمام كذلك جوز في هذه الصلاة ولم يجوز في غيرها قيل له إن تحويل الوجه عن القبلة قد رأيناه أبيح في غير هذه الصلاة للعذر فأبيح في هذه الصلاة كما أبيح في غيرها وذلك أنهم أجمعوا أن من كان منهزما فحضرت الصلاة فإنه يصلى وإن كان على غير قبلة فلما كان قد يصلي كل الصلاة على غير قبلة لعله العدو ولا يفسد ذلك عليه صلاته كان انصرافه على غير القبلة من بعض صلاته أحرى أن لا يضره ذلك فلما وجدنا أصلا في الصلاة الى غير القبلة مجمعا عليه أنه قد يجوز بالعذر عطفنا عليه ما اختلف فيه من استدبار القبلة في الانصراف للعذر ولما لم نجد لقضاء المأموم قبل أن يفرغ الإمام من الصلاة أصلا فيما اجمع عليه يدل عليه فنعطفه عليه أبطلنا العمل به ورجعنا الى الآثار الأخر التي قدمنا ذكرها التي معها التواتر وشواهد الإجماع وقد روى عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك كله
سفیان نے یحییٰ بن سعید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ان کے جواب میں کہا جائے گا اس حدیث میں تو یہ ہے کہ انہوں نے مقتدی ہونے کی حیثیت سے امام کی فراغت سے پہلے نماز ادا کی اور یزید ین رومان کی روایت میں بھی ہے اور شعبہ والی روایت اس کے خلاف ہے کیونکہ رومان کی روایت بتلاتی ہےکہ آپ رکعت اول ادا کرنے کے بعد کھڑے رہے اور لوگوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت مکمل کی پھر وہ دشمن کی طرف چلے گئے تو دوسری جماعت آئی شعبہ والی روایت اس طرح ہے کہ " آپ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ ان کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ۔ اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ انہوں نے لوٹنے سے پہلے نماز مکمل کی تو قاسم نے روایت میں یزید کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔ اگر سند کے لحاظ سے لیا جائے تو عبدالرحمن نے اپنے والد کی وساطت سے ابو خصمہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت مرفوع نقل کی وہ یزید ین رومان کی صالح والی روایت سے زیادہ عمدہ ہے اگر ان میں برابر مانی جائے تو تضاد ہوا تو کسی فریق کے لیے اس روایت میں استدلال کا موقع نہ رہا اس لیے کہ اس کے مقابل کے پاس اسی جیسی موجود ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزیدین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزید ین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ کوئی عبدالرحمن سے ثقاہت میں کم نہیں تو جواب میں ہم نے عرض کریں گے کہ بلاشبہ یحییٰ کا مقام تو وہی ہے جو تم نے بیان کر دیا مگر انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے مرفوع روایت ذکر نہیں کی بلکہ انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت نقل کی ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ جو عبدالرحمن نے روایت کیا ہے وہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی مخصوص روایت کی طرح ہو اور باقی انہوں نے اپنی رائے سے کہا ہو پس یہ ان کا اجتہاد ہوا نہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کا ارشاد اسی وجہ سےیحییٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو مرفوع نقل نہیں کیا جب اس بات کا احتمال موجود ہے تو پھر اس روایت سے استدلال کرنا درست نہ رہا اور غور و فکر بھی اس کے خلاف ہے کیونکہ ہم کوئی ایسی نماز نہیں پاتے جس کو مقتدی امام سے پہلے ادا کرلیں۔ مقتدی کی ادئیگی تو اس کی معیت یا اس کے بعد ہوتی ہے ۔ اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ ہم نے غور سے دیکھا کہ اس نماز میں تو قبلہ سے رخ موڑنا جائز ہے جبکہ دوسری کسی نماز میں درست نہیں تو جو لوگ امام سے پہلے نماز پوری کرنے سے معترض ہیں وہ بھی اسی طرح اس نماز میں جائز ہے دوسری نمازوں میں نہیں ۔ اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری نمازوں میں عذر کی بناء پر رخ پھیرنا جائز ہے ۔ پس دوسری نمازوں کی طرح یہاں بھی جائز ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کا اس بات پر اجماع ہے ۔ کہ جو شخص دشمن سے بھاگنے والا ہو اور نماز کاوقت ہو جائے تو وہ اسی طرح نماز پڑھے خواہ وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرنے والا ہو۔ پس جب ہر نماز دشمن کی وجہ سے قبلہ کے علاوہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس سے نماز میں فرق نہیں پڑتا تو نماز کے بعد قبلہ سے رخ موڑ لینا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے نماز کو نقصان نہ پہنچے۔ جب یہ قاعدہ اجتماعی ہے کہ عذر کی وجہ سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ سکتے ہیں تو واپس مڑنے کے لیے قبلے سے رخ موڑ لینے کا بھی ہم نے اسی پر قیاس کیا۔ جب ہمیں کوئی اصل اجتماع کو گواہی بھی موجود ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس روایت ملاحظہ کریں۔
Hadith 1827
