Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1827

1728 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن يحيي بن سعيد فذكر مثله بإسناده قيل لهم إن هذا الحديث فيه أنهم صلوا وهم مأمومون قبل فراغ الإمام من الصلاة في حديث يزيد بن رومان عن صالح بن خوات وقد روينا من حديث شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات خلافا لذلك لأن في حديث يزيد بن رومان أنه ثبت بعد ما صلى الركعة الأولى قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا ثم جاءت الأخرى بعد ذلك وفي حديث شعبة عن عبد الرحمن عن أبيه عن صالح بن خوات أنه صلى بطائفة منهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء ولم يذكر أنهم صلوا قبل أن ينصرفوا فقد خالف القاسم محمد بن يزيد بن رومان فإن كان هذا يؤخذ من طريق الإسناد فإن عبد الرحمن عن أبيه القاسم عن صالح بن خوات عن سهل بن أبى حنتمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أحسن من يزيد بن رومان عن صالح عمن أخبره وان تكافئا تضادا وإذا تضادا لم يكن لأحد الخصمين في أحدهما حجة إذ كان لخصمه عليه مثل ماله على خصمه فإن قال قائل فإن يحيي بن سعيد قد روى عن القاسم بن محمد عن صالح بن خوات عن سهل ما يوافق ما روى يزيد بن رومان ويحي بن سعيد ليس بدون عبد الرحمن بن القاسم في الضبط والحفظ قيل له يحيي بن سعيد كما ذكرت ولكن لم يرفع الحديث الى النبي صلى الله عليه و سلم وانما أوقفه على سهل فقد يجوز أن يكون ما روى عبد الرحمن بن القاسم عن صالح هو الذي كذلك كان عند سهل عن النبي صلى الله عليه و سلم خاصة ثم قال هو من رأيه ما بقي فصار ذلك رأيا منه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم ولذلك لم يرفعه يحيي الى النبي صلى الله عليه و سلم فلما احتمل ذلك ما ذكرنا ارتفع أن يقوم به حجة أيضا والنظر يدفع ذلك لأنا لم نجد في شيء من الصلاة أن المأموم يصلى شيئا منها قبل الإمام وانما يفعله المأموم مع فعل الإمام أو بعد فعل الإمام وإنما يلتمس علم ما اختلف فيه مما أجمع عليه فإن قالوا قد رأينا تحويل الوجه عن القبلة قد يجوز في هذه الصلاة ولا يجوز في غيرها فما ينكرون قضاء المأموم قبل فراغ الإمام كذلك جوز في هذه الصلاة ولم يجوز في غيرها قيل له إن تحويل الوجه عن القبلة قد رأيناه أبيح في غير هذه الصلاة للعذر فأبيح في هذه الصلاة كما أبيح في غيرها وذلك أنهم أجمعوا أن من كان منهزما فحضرت الصلاة فإنه يصلى وإن كان على غير قبلة فلما كان قد يصلي كل الصلاة على غير قبلة لعله العدو ولا يفسد ذلك عليه صلاته كان انصرافه على غير القبلة من بعض صلاته أحرى أن لا يضره ذلك فلما وجدنا أصلا في الصلاة الى غير القبلة مجمعا عليه أنه قد يجوز بالعذر عطفنا عليه ما اختلف فيه من استدبار القبلة في الانصراف للعذر ولما لم نجد لقضاء المأموم قبل أن يفرغ الإمام من الصلاة أصلا فيما اجمع عليه يدل عليه فنعطفه عليه أبطلنا العمل به ورجعنا الى الآثار الأخر التي قدمنا ذكرها التي معها التواتر وشواهد الإجماع وقد روى عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك كله

سفیان نے یحییٰ بن سعید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ان کے جواب میں کہا جائے گا اس حدیث میں تو یہ ہے کہ انہوں نے مقتدی ہونے کی حیثیت سے امام کی فراغت سے پہلے نماز ادا کی اور یزید ین رومان کی روایت میں بھی ہے اور شعبہ والی روایت اس کے خلاف ہے کیونکہ رومان کی روایت بتلاتی ہےکہ آپ رکعت اول ادا کرنے کے بعد کھڑے رہے اور لوگوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت مکمل کی پھر وہ دشمن کی طرف چلے گئے تو دوسری جماعت آئی شعبہ والی روایت اس طرح ہے کہ " آپ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ ان کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ۔ اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ انہوں نے لوٹنے سے پہلے نماز مکمل کی تو قاسم نے روایت میں یزید کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔ اگر سند کے لحاظ سے لیا جائے تو عبدالرحمن نے اپنے والد کی وساطت سے ابو خصمہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت مرفوع نقل کی وہ یزید ین رومان کی صالح والی روایت سے زیادہ عمدہ ہے اگر ان میں برابر مانی جائے تو تضاد ہوا تو کسی فریق کے لیے اس روایت میں استدلال کا موقع نہ رہا اس لیے کہ اس کے مقابل کے پاس اسی جیسی موجود ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزیدین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزید ین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ کوئی عبدالرحمن سے ثقاہت میں کم نہیں تو جواب میں ہم نے عرض کریں گے کہ بلاشبہ یحییٰ کا مقام تو وہی ہے جو تم نے بیان کر دیا مگر انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے مرفوع روایت ذکر نہیں کی بلکہ انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت نقل کی ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ جو عبدالرحمن نے روایت کیا ہے وہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی مخصوص روایت کی طرح ہو اور باقی انہوں نے اپنی رائے سے کہا ہو پس یہ ان کا اجتہاد ہوا نہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کا ارشاد اسی وجہ سےیحییٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو مرفوع نقل نہیں کیا جب اس بات کا احتمال موجود ہے تو پھر اس روایت سے استدلال کرنا درست نہ رہا اور غور و فکر بھی اس کے خلاف ہے کیونکہ ہم کوئی ایسی نماز نہیں پاتے جس کو مقتدی امام سے پہلے ادا کرلیں۔ مقتدی کی ادئیگی تو اس کی معیت یا اس کے بعد ہوتی ہے ۔ اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ ہم نے غور سے دیکھا کہ اس نماز میں تو قبلہ سے رخ موڑنا جائز ہے جبکہ دوسری کسی نماز میں درست نہیں تو جو لوگ امام سے پہلے نماز پوری کرنے سے معترض ہیں وہ بھی اسی طرح اس نماز میں جائز ہے دوسری نمازوں میں نہیں ۔ اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری نمازوں میں عذر کی بناء پر رخ پھیرنا جائز ہے ۔ پس دوسری نمازوں کی طرح یہاں بھی جائز ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کا اس بات پر اجماع ہے ۔ کہ جو شخص دشمن سے بھاگنے والا ہو اور نماز کاوقت ہو جائے تو وہ اسی طرح نماز پڑھے خواہ وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرنے والا ہو۔ پس جب ہر نماز دشمن کی وجہ سے قبلہ کے علاوہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس سے نماز میں فرق نہیں پڑتا تو نماز کے بعد قبلہ سے رخ موڑ لینا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے نماز کو نقصان نہ پہنچے۔ جب یہ قاعدہ اجتماعی ہے کہ عذر کی وجہ سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ سکتے ہیں تو واپس مڑنے کے لیے قبلے سے رخ موڑ لینے کا بھی ہم نے اسی پر قیاس کیا۔ جب ہمیں کوئی اصل اجتماع کو گواہی بھی موجود ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس روایت ملاحظہ کریں۔

Hadith 1827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1828

1729 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرىء قال ثنا حيوة وابن لهيعة قالا أخبرنا أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن الأسدي أنه سمع عروة بن الزبير يحدث عن مروان بن الحكم أنه سأل أبا هريرة رضي الله عنه هل صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف قال نعم قال مروان متى قال أبو هريرة رضي الله عنه عام غزوة نجد قام رسول الله صلى الله عليه و سلم لصلاة العصر وقامت معه طائفة وطائفة أخرى مقابلوا العدو وظهورهم الى القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكبروا جميعا معه والذين مقابلوا العدو ثم ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة واحدة وركعت معه الطائفة التي تليه ثم سجد وسجدت معه الطائفة التي تليه والآخرون قيام مقابلوا العدو ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم وقامت الطائفة التي معه فذهبوا الى العدو فقابلوهم وأقبلت الطائفة التي كانت مقابلوا العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم كما هو ثم قاموا فركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة أخرى فركعوا معه ثم سجد وسجدوا معه ثم أقبلت الطائفة الأخرى التي كانت مقابلى العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قاعد ومن معه فسلم رسول الله صلى الله عليه و سلم وسلموا معه جميعا فكانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتان ولكل رجل من الطائفتين ركعتان ركعتان

عروہ بن زبیر مروان بن الحکم سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ خوف پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں ۔ مروان نے سوال کیا کب ؟ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہنے کہا غزوہ نجد کے موقعہ پر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے بالمقابل کھڑی تھی ان کی پشتیں قبلہ کی طرف تھیں پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی ان سمیت جو دشمن کے مقابلے تھے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے رکوع کیا اور ایک رکعت اپنے ساتھ والی جماعت کو مکمل کرائی اور سجدہ کیا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوا دشمن کی طرف جا کر اس کے مقابل صف بستہ ہو گئے اور دوسرا گروہ آیا جو کہ پہلے دشمن کے سامنے کھڑا تھا پس انہوں نے آکر رکوع کیا اور سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم قیام کی حالت میں تھے پھر یہ رکعت مکمل کر کے کھڑے ہو گئے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دوسری رکعت ادا فرمائی اور انہوں نے بھی آپ کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی پھر انہوں نے آپ کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا او رپہلا گروہ جو دشمن کے سامنے تھا وہ آیا اور انہوں نے رکوع سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم حالت تشہد میں تھے اور دوسری جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئی اور ہرگز وہ کی بھی دو دورکعت ہوئیں ۔

أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن الأسدي ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← علي بن شيبة

Hadith 1828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1829

1730 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة بن الزبير عن أبى هريرة رضي الله عنه قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف فصدع الناس صدعين فصلت طائفة خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم وطائفة تجاه العدو فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بمن خلفه ركعة وسجد بهم سجدتين ثم قام وقاموا معه فلما استووا قياما رجع الذين خلفه وراءهم القهقري فقاموا وراء الذين بإزاء العدو وجاء الآخرون فقاموا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلوا لأنفسهم ركعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم ثم قاموا فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بهم أخرى فكانت لهم ولرسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتان وجاء الذين بإزاء العدو فصلوا لأنفسهم ركعة وسجدتين ثم جلسوا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم بهم جميعا ففي هذا الحديث تحول الإمام الى العدو وبالطائفة التي صلت معه الركعة وليس ذلك في شيء من الآثار غير هذا الحديث وفي كتاب الله عز و جل ما يدل على دفع ذلك لأن الله عز و جل قال فلتقم طائفة منهم معك وليأخذوا أسلحتهم فإذا سجدوا فليكونوا من ورائكم ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك ففي هذه الآية معنيان موجبان لدفع هذا الحديث أحدهما قوله لم يصلوا فليصلوا معك فهذا يدل على أن دخولهم في الصلاة إنما هو في حين مجيئهم لا قبل ذلك وقوله فلتقم طائفة منهم معك ثم قال ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك فذكر الإتيان للطائفتين الى الإمام وقد وافق ذلك من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الآثار المتواترة التي بدأنا بذكرها فهى أولى من هذا الحديث وذهب آخرون في صلاة الخوف الى ما

عروہ بن زبیر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور لشکر کی دو جماعتیں بنائیں پس ایک جماعت نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت نماز ادا کی پھر یہ جماعت آپ کے ساتھ جب دوسری رکعت کے قیام کے لیے اٹھ گئے تو یہ پیچھے کی طرف الٹے قدموں ہٹ گئے اور ان لوگوں کی جگہ لے لی جو دشمن کے سامنے تھے اور دوسری جماعت ان کی جگہ آئی اور انہوں نے ایک رکعت اپنی ادا کی اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم قیام کی حالت میں تھے پھر یہ جماعت دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے پس آپ نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی پس ان کی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی دو رکعت ہوگئیں اور وہ لوگ بھی آئے جو دشمن کے بالمقابل تھے پس انہوں نے اپنی ایک رکعت و سجدوں سمیت مکمل کی پھر یہ تشہد میں بیٹھ گئے پس آپ نے سب کو ساتھ سلام پھیرا۔ اس روایت میں امام کا پہلی رکعت ادا کرنے والی جماعت کے ساتھ دشمن کی طرف پھر جانا مذکور ہے یہ صرف اسی روایت میں مذکور ہے اور کسی روایت میں وارد نہیں اور قرآن مجید کی آیت بھی غلط ہونے پر دلالت کرتی ہے چنانچہ فرمایا :(فلیقم طائفۃ منھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)القرآن ۔ " پس ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز میں کھڑی ہو اور وہ اپنا اسلحہ بھی لیے رہیں ، پس جب وہ رکعت مکمل کر لیں تو وہ پیچھے چلے جائیں اور دوسری جماعت آجائے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی پس وہ آ پ کے ساتھ نماز پڑھیں اس آیت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس روایت کو رد کر رہی ہیں ۔ (1) لم یصلوا فلیصلوامعک۔ اس سے یہ دلالت مل رہی ہے کہ ان کا نماز میں داخلہ اسی وقت ہے جب وہ آئے ہیں اس سے پہلے نہیں ۔(2) فلتقم طائفۃ منھم معک ۔تو دونوں گروہوں کا امام کی طرف آنا ثابت ہو رہا ہے ۔ اور یہ چیز جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے وارد متواتر آثار کے موافق ہے جن میں آپ کا فعل مذکور ہے شروع باب میں بیان کر چکے وہ اس حدیث سے ہر اعتبار سے اولیٰ ہیں دوسرے علماء نے نماز خوف میں ایک اور راہ اپنائی ہے مستدل روایات ملاحظہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Hadith 1829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1830

1731 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن الأشعث عن الحسن عن أبى بكرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بهم صلاة الخوف فصلى بطائفة منهم ركعتين ثم انصرفوا وجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعا وصلى كل طائفة ركعتين

حسن نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ہمیں صلاۃ خوف پڑھائی پس ایک طائفہ کو دو رکعت پڑھائی پھر وہ لوٹ گئے (دشمن کے سامنے جا کرکھڑے ہوئے) اب دوسرا گروہ آیا پس انکو دو رکعت پڑھائی اس طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے چار رکعت ادا فرمائی اور ہر جماعت نے دو دو رکعت ادا کی۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْأَشْعَثِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Hadith 1830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1831

1732 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حرة عن الحسن عن أبى بكرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو حرہ نے حسن سے انہوں نے ابو بکرہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سےاسی طرح روایت نقل کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1832

1733 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا أبان قال ثنا يحيي عن أبى سلمة عن جابر بن عبد الله قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم بذات الرقاع فأقيمت الصلاة ثم ذكر مثله

ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے کہ ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں تھے پس جماعت کرائی گئی پھر اس کا طریقہ مندرجہ بالا روایت والا نقل کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن أبي داود

Hadith 1832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1833

1734 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الملك بن أبى الشوارب قال ثنا أبو عوانة عن أبى بشر عن سليمان بن قيس عن جابر بن عبد الله قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم محارب خصفة فصلى بهم صلاة الخوف فذكر مثل ذلك أيضا فقال قوم بهذا وزعموا أن صلاة الخوف كذلك ولا حجة لهم عندنا في هذه الآثار لأنه يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم صلاها كذلك لأنه لم يكن في سفر يقصر في مثله الصلاة فصلى بكل طائفة ركعتين ثم قضوا بعد ذلك ركعتين ركعتين وهكذا نقول نحن إذا حضر العدو في مصر فأراد أهل ذلك المصر أن يصلوا صلاة الخوف فعلوا هكذا يعنى بعد أن يكون تلك الصلاة ظهرا أو عصرا أو عشاء قالوا فإن القضاء ما ذكر قيل لهم قد يجوز أن يكونوا قد قضوا ولم ينقل ذلك في الخبر وقد يجيء في الأخبار مثل هذا كثيرا وان كانوا لم يقضوا فإن ذلك عندنا لاحجة فيه أيضا لأنه يجوز أن يكون ذلك كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم والفريضة تصلى حينئذ مرتين فيكون كل واحدة منهما فريضة وقد كان ذلك يفعل في أول الإسلام ثم نسخ

سلیمان بن قیس نے حضرت جابر بن عبداللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم حصفہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے پس صحابہ کو نما ز خوف پڑھائی پس اسی طرح روایت نقل کی جیسے اوپر گزری کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ نماز خوف اسی طرح ہے ۔ ہمارے ہاں ان آچار میں ہمارے لیے کوئی حجت نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے اس کو ادا کیا ہو اور آپ سفر میں نہ ہوں کہ جس میں قصر کی جاتی ہے ۔ اس سے آپ نے ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائیں اور بقیہ دو دو رکعتیں بعد میں انہوں نے پوری کر لیں ۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ جب دشمن شہر میں حملہ کر دے اور شہر کےلوگ نماز خوف ادا کرنا چاہتے ہوں تو وہ اسی طرح کریں یعنی اس کے بعد کہ وہ نماز ظہر یا عصر یا عشاء ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ قضا ء کا تو یہاں تذکرہ نہیں تو ان سے کہا جائے گا ممکن ہے کہ انہوں نے قضاء کی ہو مگر روایت میں مذکور نہیں اور روایات میں ایسا کثرت سے آتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قضاء نہ کی ہو مگر ہمارے ہاں اس کے لیے بھی کوئی دلیل روایت میں موجود نہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے کیا ہو اور اس زمانے میں فریضہ دو مرتبہ ادا کیا جاتا ہو۔ پس ان میں سے ہر ایک فرض ہوابتداء اسلام میں ایسا کا گیا پھر منسوخ ہو گیا ۔ چنانچہ آئندہ روایت ملاحظہ کریں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1834

1735 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أنا حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن سليمان مولى ميمونة رضي الله عنها قال أتيت المسجد فرأيت بن عمر جالسا والناس في الصلاة فقلت ألا تصلى مع الناس فقال قد صليت في رحلى إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن تصلى فريضة مرتين فالنهى لا يكون الا بعد الإباحة فقد كان المسلمون هكذا يصنعون في بدء الإسلام يصلون في منازلهم ثم يأتون المسجد فيصلون تلك الصلاة التي أدركوها على أنها فريضة فيكونوا قد صلوا فريضة مرتين حتى نهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك وأمر بعد ذلك من جاء الى المسجد فأدرك تلك الصلاة أن يصليها ويجعلها نافلة وترك بن عمر الصلاة مع القوم يحتمل عندنا ضربين يحتمل أن يكون تلك الصلاة صلاة لا يتطوع بعدها فلم يكن يجوز أن يصليها الا على أنها فريضة فقال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يصلى فريضة في يوم مرتين أي فلا يجوز أن أصليها فريضة لأنى قد صليتها مرة ولا أدخل معهم لأنى لا يجوز لي التطوع في ذلك الوقت ويحتمل أن يكون سمع من النبي صلى الله عليه و سلم النهى عن إعادتها على هذا المعنى الذي نهى عنه ثم رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك أن تصلى على أنها نافلة فلم يسمع ذلك بن عمر رضي الله عنهما فنظرنا في ذلك

سلیمان مولیٰ میمونہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں آیا اور میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں جبکہ دوسرے لوگ نماز میں مشغول ہیں تو میں نے کہا کیا آپ لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھیں گے ؟ تو انہوں نے جواب دیا میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہوں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک فرض کو دو مرتبہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے ممانعت کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اباحت کے بعد ہوا کرتی ہے ابتداء اسلام میں مسلمان اسی طرح کرتے تھے وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کرتے پھر وہ مسجد میں آتے اور جو نماز وہ جماعت کے ساتھ پاتے وہ فرض کے طور پر ادا کرتے پس وہ دو مرتبہ فرض ادا کرنے والے ہوتے یہاں تک کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو اس سے روک دیا اور ان کو حکم دیا کہ جو شخص مسجد میں آئے جبکہ وہ پہلے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو تو اس نماز میں شامل ہو کر اس کو نفل بنائے باقی اس روایت میں مذکورہ ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ نماز کو چھوڑ دیا اس میں دو احتمال ہیں ۔(1) ممکن ہے کہ وہ نماز ایسی ہو جس کے بعد نوافل نہیں پڑھے جاتے ۔ پس یہ جائز نہیں کہ اسے فرض کے علاوہ کسی دوسری نیت سے ادا کر لے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا ۔ نھی رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان یصلی فریضۃ فی یوم مرتین" یعنی یہ جائز نہیں ہے کہ میں اسے فرض کی نیت سے ادا کروں کیونکہ میں اسے اس طور پر تو ایک مرتبہ ادا کر چکا اور ان کے ساتھ میں فرض میں شامل نہ ہوں گا کیونکہ اس وقت نفل میرے لیے جائز نہیں اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے اس کا لوٹانے کی ممانعت اس معنی میں سنی ہو جس پر آپ نے ممانعت فرمائی اور بعد میں آپ نے نفلی طور پر اجازت مرحمت فرمائی وہ انہوں نے نہ سنی ہو۔ پس دونوں احتمالات کو روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں ۔

قد صليت في رحلى ← أتيت المسجد فرأيت بن عمر جالسا والناس في الصلاة فقلت ألا تصلى مع الناس ← سُلَيْمَانَ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Hadith 1834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1835

1736 - فإذا بن أبى داود قد حدثنا قال ثنا الوهبي قال ثنا الماجشون عن عثمان بن سعيد بن أبى رافع قال أرسلنى محرز بن أبى هريرة رضي الله عنه الى بن عمر أسأله إذا صلى الرجل الظهر في بيته ثم جاء الى المسجد والناس يصلون فصلى معهم أيتهما صلاته فقال بن عمر رضي الله عنهما صلاته الأولى ففي هذا الحديث أن بن عمر قد رأى أن الثانية تكون تطوعا فدل ذلك على أن تركه للصلاة في حديث سليمان إنما كان لأنها صلاة لا يجوز أن يتطوع بعدها فإن كانت في حديث أبى بكرة وجابر اللذين ذكرنا كان أولى الحكم ما وصفنا أن من صلى فريضة جاز أن يعيدها فتكون فريضة فلذلك صلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين بالطائفتين وذلك هو جائز لو بقي الحكم على ذلك فأما إذا نسخ فنهى أن تصلى فريضة مرتين فقد ارتفع ذلك المعنى الذي له صلى بكل طائفة ركعتين وبطل العمل به فلا حجة لهم في حديث أبي بكرة وجابر لاحتمالهما ما ذكرنا

عثمان بن سعید بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مجھے محرزبن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ( میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کروں) جب آدمی ظہر اپنے گھر میں ادا کرے پھر مسجد میں آئے اور لوگ ابھی نماز میں مصروف ہوں اور وہ ان کے ساتھ مل کر بھی نماز پڑھے تو اس کے فرض کون سے شمار ہوں گے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا فرض پہلی نماز والے ہوں گے اس روایت میں یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خیال فرمایا کہ دوسری نماز نفل ہو گی ۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان کا نماز چھوڑنا جسکا تذکرہ سیلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے ۔ وہ اس بنا ء پر تھا کہ وہ ایسی نماز تھی کہ جس کے بعد نفل ادا نہیں ہو سکتے پس اگر ابو بکرہ اور جابر رضی اللہ عنہ والی روایات جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان میں پہلا معنی مراد لیا جائے جو ہم نے بیان کیا کہ جو شخص فرض نماز ادا کر لے اس کو اسے دوبارہ پڑھتا درست ہے ۔ پس اس صورت میں یہ فرض قرار پائیں گے ۔ اسی وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم دو مرتبہ دو جماعتوں کو نماز پڑھائی اور یہ بشرطیکہ اس پر حکم باقی ہے اور اگر منسوخ ہو چکا ہو اور فرض کو دو مرتبہ پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا ہو تو یہ مفہوم خود ختم ہو گیا جس کی وجہ سے دو گرو ہوں کو دو دورکعت پڑھائیں اور اس پر عمل کرنا جائز نہ ہوا ۔ پس ان دو احتمالات کی وجہ سے حضرت ابو بکرہ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایات سے استدلال کی گنجائش نہ رہی ۔

عثمان بن سعيد بن أبى رافع ← الْمَاجِشُونُ، ← الوهبي ← فإذا بن أبي داود قد

Hadith 1835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1836

1737 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حبان يعنى بن هلال قال ثنا همام قال ثنا قتادة عن عامر الأحول عن عمرو بن شعيب عن خالد بن أيمن المعافري قال كان أهل العوالي يصلون في منازلهم ويصلون مع النبي صلى الله عليه و سلم فنهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعيدوا الصلاة في يوم مرتين قال عمرو قد ذكرت ذلك لسعيد بن المسيب فقال صدق وقد روى عن جابر بن عبد الله في هذا ما يدل على غير هذا المعنى

عمروبن شعیب نے خالد بن ایمن المعا فری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اہل موالی اپنے گھروں میں نماز پڑھتے اور پھر آکر جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو دن میں دو مرتبہ ایک فرض نماز پڑھنے سے منع فرمایا عمرو کہتے ہیں میں نے یہ بات سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کو نقل کی تو انہوں نے کہا خالد نے سچ فرمایا ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت آئی ہے جو اور مفہوم پر دلالت کرتی ہے ۔

كان أهل العوالي يصلون في منازلهم ← خالد بن أيمن المعافري ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حبان، يعني بن هلال، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1837

1738 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا معاذ بن هشام قال حدثني أبى عن قتادة عن سليمان اليشكري أنه سأل جابر بن عبد الله عن اقصار الصلاة في الخوف أي يوم أنزل وأين هو قال انطلقنا نتلقى عير قريش آتية من الشام حتى إذا كنا بنخل جاء رجل من القوم الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنت محمد قال نعم قال ألا تخافني قال لا قال فمن يمنعك منى قال الله يمنعني منك قال فسل السيف قال فتهدده القوم وأوعدوه فنادى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالرحيل وأخذوا السلاح ثم نودى بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بطائفة من القوم وطائفة أخرى يحرسونهم فصلى بالذين يلونه ركعتين ثم سلم ثم تأخر الذين يلونه على أعقابهم فقاموا في مصاف أصحابهم وجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين والآخرون يحرسونهم ثم سلم فكان للنبي صلى الله عليه و سلم أربع ركعات وللقوم ركعتان ركعتان ففي يومئذ أنزل الله عز و جل اقصار الصلاة وأمر المؤمنين بأخذ السلاح ففي هذا الحديث ما يدل على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بهم أربعا يومئذ قبل إنزال الله عليه في قصر الصلاة ما أنزل عليه وأن قصر الصلاة إنما أمره الله تعالى به بعد ذلك فكانت الأربع يومئذ مفروضة على رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان المؤتمون به فرضهم أيضا فيها كذلك لأن حكمهم حينئذ كان في سفرهم كحكمهم في حصرهم ولا بد إذا كان ذلك كذلك من أن يكون كل طائفة من هاتين الطائفتين قد قضت ركعتين ركعتين كما تفعل لو كانت في الحضر فإن قال قائل ففي هذا الحديث ما يدل على خروج رسول الله صلى الله عليه و سلم من الصلاة بعد فراغه من الركعتين اللتين صلاهما بالطائفة الأولى واستقباله الصلاة في وقت دخول الطائفة الثانية معه فيها لأن في الحديث ثم سلم قيل له قد يحتمل أن يكون ذلك السلام المذكور في هذا الموضع هو سلام التشهد الذي لا يراد به قطع الصلاة ويحتمل أن يكون سلاما أراد به اعلام الطائفة الأولى بأوان انصرافها والكلام حينئذ مباح له في الصلاة غير قاطع لها على ما قد روى في ذلك عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وعن أبى سعيد الخدري وعن يزيد بن أرقم على ما قد روينا عن كل واحد منهم في الباب الذي ذكرنا فيه وجوه حديث ذي اليدين في غير هذا الموضع من هذا الكتاب وقد روى عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه صلاها على غير هذا المعنى

سلیمان یشکری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نماز خوف میں قصد کا سوال کیا کہ یہ حکم کب نازل ہوا اور کہاں نازل ہوا؟ تو جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم شام سے آنے والے قریش کے قافلہ کا سامنا کرنے نکلے جب ہم مقام نخل میں پہنچے تو ایک آدمی قبیلے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا کیا تم محمد ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ تو اس نے کہا تمہیں مجھ سے کون بچائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا پھر اس تلوار سونت لی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو ڈانٹا اور دھمکایا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے کوچ کا حکم فرمایا انہوں نے ہتھیار تھام لیے پھر اذان د ی گئی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ایک جماعت کو نماز پڑھائی اور ایک جماعت ان کی حفاظت کرتی رہی جو جماعت آپ کے قریب تھی ا ن کو دو رکعت پڑھائی سلام پھیرا (علامتی سلام) پھر یہ جماعت الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئی اور اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کھڑے ہوئے اور دوسری جماعت آئی پس ان کو دو رکعت پڑھائی اور پہلی جماعت انکی حفاظت کر رہی تھی اور ہر گروہ کی دو رکعت ہوئیں پس اسی دن اللہ تعالیٰ نے نماز قصر اتاری اور مسلمانوں کو اسلحہ سمیت نماز کا حکم دیا ۔

سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 1837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1838

1739 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني يزيد بن الهاد قال حدثني شرحبيل بن سعد أبو سعد عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الخوف قال قام رسول الله صلى الله عليه و سلم وطائفة من خلفه من وراء الطائفة التي خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم قعود وجوههم كلهم الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكبرت الطائفتان وركع وركعت الطائفة التي خلفه والآخرون قعود ثم سجد فسجدوا أيضا والآخرون قعود ثم قام وقاموا فنكصوا خلفه حتى كانوا مكان أصحابهم وأتت الطائفة الأخرى فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة وسجدتين والآخرون قعود ثم سلم فقامت الطائفتان كلتاهما فصلوا لأنفسهم ركعة وسجدتين ركعة وسجدتين فهذا الحديث عندنا من المحال الذي لا يجوز كونه لأن فيه أنهم دخلوا في الصلاة وهم قعود وقد أجمع المسلمون أن رجلا لو افتتح الصلاة قاعدا ثم قام فأتمها قائما ولا عذر له في شيء من ذلك أن صلاته باطلة فكان الدخول لا يجوز الا على ما يكون عليه الركوع والسجود فاستحال أن يكون الذين كانوا خلف النبي صلى الله عليه و سلم في الصف الثاني دخلوا في الصلاة وهم قعود فثبت عن جابر بن عبد الله ما رويناه عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في غير هذا الحديث وذهب آخرون في صلاة الخوف الى ما

شرحبیل بن سعد ابو سعد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نماز خوف کے سلسلہ میں نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اور ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ایک گروہ اس گروہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا جو آپ کے پیچھے تھا مگر ان کے چہرے آپ کی طرف تھے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تکبیر کہی اور دونوں گروہوں نے تکبیر کہی آپ نے رکوع کیا اور جماعت کے بھی رکوع کیا جو آپ کے پیچھے تھی اور دوسری جماعت نے آپ کے پیچھے بیٹھے تھے پھر آپ نے سجدہ کیا اور انہوں نے بھی سجدہ کیا اور دوسرے بیٹھے رہے پھر آپ نے قیام کیا اور انہوں نے بھی قیام کیا اور پیچھے کی طرف ہٹ گئے اور بیٹھے والوں کی جگہ پہنچ گئے دوسرا گروہ آیا اور ان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دو سجدوں سمیت ادا کی ۔ اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو نماز قصر کے نزول سے پہلے ان کو چار رکعت نماز پڑھائی۔ قصر کا حکم اس کے بعد نازل ہوا ۔ پس اس وقت آپ صلی اللہ عیہ وسلم پر چار رکعت ہی فرض تھیں اور آپ کے مقتدیوں کی فرض نماز بھی اسی طرح تھی اس لیے کہ اس وقت تک ان کے حق میں سفر و حضر کا ھکم برابر تھا ۔ جب ایسی صورت تھی تو دونوں گروہوں نے دو دو رکعارت پور ی کیں جیسا کہ اگر مقیم ہوتے تو دو دو رکعت کو پورا کرنا لازم آتا ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد آپ نماز سے باہر ہے ، کیونکہ حدیث پہلے گروہ کے ساتھ دو رکعت پر سلام پھیرنا مذکور ہے ۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ یہ مذکورہ سلام تشہد والا ہو جس سے نماز سے نکلنے کا ارادہ نہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سلام سے اس جماعت کو نماز سے لوتنے کا مقام بتانا ہو اور اس زمانے مین گفتگو جائز تھی اس سے نماز قطع نہ ہوتی تھی ۔ جیسا کہ حضرت ابن مسعود ابو سعید خدری اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم نے کسی دوسرے موقعہ پر اس کتاب میں ان روایا ت کو ذکرکیا ہے ۔ جہاں حدیث والیدین رضی اللہ عنہ کی وجوہ ذکر کی گئی ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نماز خوف کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اس طریقہ کے علاوہ طریقہ سے بھی نقل کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد أبو سعد ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ

Hadith 1838

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter