Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1815

1717 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شريك عن أبى إسحاق عن سليم بن عيد عن حذيفة قال صلاة الخوف ركعتان وأربع سجدات قال أبو جعفر فدل ذلك على أنهم قد كانوا فعلوا كذلك مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأحاديث الأول ثم اعتبرنا الآثار هل نجد فيها من ذلك شيئا

سلیم بن عبدنے حضرت حذیفہ سے نقل کیا کہ نماز خوف دورکعت ہیں اور چار سجدے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے یہ دلیل مل گئی کہ پہلی روایات میں بھی یہی بات ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح کیا۔ اب ہم روایات کو جانچتے ہیں کہ آیا ان میں کوئی ایسی روایت ملتی ہے چنانچہ وہ روایت میسر آگئی ۔

صلاة الخوف ركعتان وأربع سجدات ← حُذَيْفَةَ ← سليم بن عيد ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1815

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1816

1718 - فإذا أبو بكرة قد حدثنا قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حرة عن الحسن عن أبى موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بأصحابه صلاة الخوف فصلى بطائفة منهم ركعة وكانت طائفة بإزاء العدو فلما صلى بهم ركعة سلم فنكصوا على أعقابهم حتى انتهوا الى إخوانهم ثم جاء آخرون فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة ثم سلم فقام كل فريق فصلوا ركعة ركعة فقد أخبر في هذا الحديث أنهم قضوا وبين ما وصفنا أنه يحتمل في الآثار الأول وكان قوله ثم سلم بعد الركعة الأولى يحتمل أن يكون سلاما لا يريد به قطع الصلاة ولكن يريد به إعلام المأمومين موضع الانصراف

حسن نے حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خوف کی نماز پڑھائی پس ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی ایک گروہ دشمن کے مقابل تھا جب آپ نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیرا پھر ایک گروہ کھڑا ہوا اور انہوں نے ایک ایک رکعت ادا کی ۔ اس حدیث سے یہ اطلاع میسر آگئی کہ انہوں نے بقیہ نماز کو پورا کیا ۔ ہم نے پہلی روایات میں جو احتمال نقل کیا ہے وہ بھی مذکور ہے ۔ باقی روایت میں " ثم سلم بعد الرکعۃ الاولیٰ" میں یہ احتمال ہے کہ اس سلام سے نماز توڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا بلکہ مقتدیوں کو لوٹنے کا مقام بتلانے کے لیے سلام فرمایا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← فإذا أبو بكرة قد

Hadith 1816

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1817

1719 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان ح

علی بن شیبہ کہتے ہیں ہمیں قبیصہ نے سفیان سے روایت بیان کی ہے۔

سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Hadith 1817

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1818

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن خصيف عن أبى عبيدة عن عبد الله قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في بعض أيامه فصف صفا خلفه وصفا موازى العدو وكلهم في صلاة فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة ثم قضوا ركعة ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فقضوا ركعة

ابو عبیدہ نے عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک دن نماز خوف پڑھائی آپ کے پیچھے ایک صف بنائی گئی اور ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی کر دی گی تمام نماز میں شامل تھے آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور صف بستہ گروہ آیا پس ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر ایک ایک رکعت انہوں نے ادا کی پھر یہ گروہ ان کی جگہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آیا۔ انہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← خُصَيْفٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1818

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1819

1720 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا بكر بن بكار القيسي قال ثنا عبد الملك بن الحسين قال ثنا خصيف عن أبى عبيدة عن عبد الله قال لما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في حرة بنى سليم ثم ذكر نحوه غير أنه لم يذكر وكلهم في صلاة وزاد وكانوا في غير القبلة قال أبو جعفر فقد أخبر في هذا الحديث أنهم قضوا ركعة ركعة وأخبر أنهم دخلوا في الصلاة جميعا فقد ثبت بما ذكرنا من الآثار أن صلاة الخوف ركعتان غير أن حديث بن مسعود رضي الله عنهما ذكر فيه دخولهم في الصلاة معا فأردنا أن ننظر هل عارض هذا الحديث غيره في هذا المعنى فنظرنا في ذلك

ابو عبیدہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے حرہ بنی سلیم میں سلاۃ الخوف پڑھائی پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ اس روایت میں و کلہم فی صلاۃ کا جملہ نقل نہیں کیا اور یہ اضافہ نقل کیا ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس حدیث میں صاف بتلایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ایک رکعت مزید ادا کی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ تمام ایک نماز میں داخل ہوئے ۔ پس ان روایات مذکورہ سے ثابت ہو گیا کہ نماز خوف کی دو رکعت ہیں البتہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت مین ان تمام کے نماز میں ایک ہی وقت میں داخلے کاذکر ہے پس ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مندرجہ مفہوم میں یہ روایت دوسری روایات کے خلاف تو نہین تو تلاش کرنے پر روایات مل گیں " وکانوافی غیر القبلہ" حرۃ سیاہ پتھر یلی زمین ۔،

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← خُصَيْفٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1819

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1820

1721 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر كان إذا سئل عن صلاة الخوف قال يتقدم الإمام وطائفة من الناس فيصلى بهم ركعة ويكون طائفة منهم بينه وبين العدو ولم يصلوا فيتقدم الذين لم يصلوا ويتأخر الآخرون فيصلى بهم ركعة ثم ينصرف الإمام وقد صلى ركعتين فتقوم كل طائفة من الطائفتين فيصلون لأنفسهم ركعة ركعة بعد أن ينصرف الإمام فيكون كل واحدة من الطائفتين قد صلوا ركعتين ركعتين قال نافع لا أرى بن عمر ذكر ذلك الا عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد أخبر في هذا الحديث أن دخول الثانية في الصلاة بعد أن يصلي الإمام بالطائفة الأولى ركعة والكتاب شاهد لهذا فإن الله تعالى قال ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك فقد ثبت بما وصفنا أن دخول الثانية في الصلاة بعد فراغ الإمام من الركعة الأولى وهذا الخبر صحيح الإسناد وأصله مرفوع وان كان نافع قد شك فيه في وقت ما حدث به مالك وهكذا رواه عنه أصحابه الأكابر

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب ان سے صلاۃ خوف کے متعلق دریافت کیا جاتا تو فرماتے امام اور ایک گروہ نماز شروع کرے امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ایک جماعت ان کے اور دشمنوں کے درمیان حائل رہے اور نماز میں شامل نہ ہو پھر وہ لوگ آگے آئیں جنہوں نے ابھی ایک ایک رکعت بھی ادا نہیں کی اور پہلی جماعت پیچھے ہٹ جائے ان کو امام ایک رکعت پڑھائے پھر امام لوٹ جائے کیونکہ وہ دو رکعت پوری کر چکا پھر ہر طائفہ اپنی اپنی ایک ایک رکعت ادا کر لیں اس کے بعد کہ امام نماز سے فارغ ہو چکا پس اس طرح ہر گروہ دو دو رکعت ادا کرنے والا بن جائے گا۔ نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ بات جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے ہی نقل کر کے بتلاتے تھے پس اس روایت میں یہ خبر دی کہ دوسرا گروہ نماز میں اس وقت شامل ہو جبکہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھالے اور قرآن مجید کی آیت بھی اسی کی شہادت دیتی ہے ۔ چنانچہ فرمایا : (ولتات طائفۃ اخری لم یصلوافلیصلوا معک) (القرآن) اور دوسرے گروہ کو آنا چاہیے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ، پس وہ آپ کے ساتھ نماز ادا کریں" اس بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو گئی کہ دوسری جماعت اس وقت نماز میں شامل ہو گی جب امام رکعت اول سے فارغ ہو چکے گا۔ یہ روایت صحیح ہے اور اصل کے لحاظ سے مرفوع ہے اگرچہ نافع سے مالک سے بیان کرتے ہوئے اس کے رفع میں شک کیا مگر ان کے اکابر شاگردوں نے ان سے مرفوع نقل کی ہے ۔

بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Hadith 1820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1821

1722 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في بعض أيامه فقامت طائفة منهم معه وطائفة منهم فيما بينه وبين العدو فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى به ركعة ثم سلم عليهم ثم قضت الطائفتان ركعة ركعة

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک غزوہ کے موقعہ پر صلاۃ خوف پڑھائی ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا اور ایک دشمن اور آپ کے درمیان حائل تھا آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ دشن کی طرف گئے اور دوسرے آکر نماز کے لیے صف بستہ ہوئے آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر دونوں جماعتوں نے ایک ایک رکعت (الگ الگ ) ادا کی ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Hadith 1821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1822

1723 - حدثنا فهد بن سليمان وأحمد بن مسعود الخياط قالا ثنا محمد بن كثير عن الأوزاعي عن أيوب بن موسى عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بمثل معناه وقد رواه أيضا سالم عن أبيه مرفوعا

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبيه مرفوعا ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد بن سليمان وأحمد بن مسعود الخياط

Hadith 1822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1823

1724 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو ربيع الزهراني قال ثنا فليح بن سليمان عن الزهرى عن سالم عن أبيه أنه صلاها مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كذلك

سالم نے اپنے والد سے مرفوعا نقل کیا کہ میں صلوۃ خوف کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھی نے اسی طرح ادا کیا ہے ۔

أبيه أنه صلاها مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كذلك ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو رَبِيعٍ الزَّهْرَانِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 1823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1824

1725 - حدثنا أبو محمد فهد بن سليمان قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى قال أخبرني سالم أن عمر قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوته قبل نجد فوازينا العدو ثم ذكر مثله وذهب آخرون في ذلك الى ما

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی معیت میں اس غزوہ میں شرکت کی جو نجد کی جانب کیا پس دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے دیگر علماء ان روایات کی طرف گئے ہیں ۔

سالم أن عمر ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أبو محمد فهد بن سليمان

Hadith 1824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1825

1726 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن رومان عن صالح بن خوات عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف أن طائفة صفت معه وطائفة وجاه العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ثبت قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا فصفوا وجاه العدو وجاءت الطائفة الأخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته ثم ثبت جالسا وأتموا لأنفسهم ثم سلم بهم

یزید رومان نے صالح بن حوات رضی اللہ عنہ سے نقل کیا یہ ان لوگوں سے ہیں جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع میں صلاۃ خوف میں خود شمولیت کی ہے کہ ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہی آپ نے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ کھڑے رہے اور انہوں نے اپنی رکعت ملا کر نماز پوری کر لی پھر یہ دشمن کی طرف چلے گئے اور صف بستہ ہو گئے دوسری جماعت آئی آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی تھی پھر آپ تشہد میں ٹھہرے رہے انہوں نے اپنی ایک رکعت مکمل کر لی پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔

يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 1825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1826

1727 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد بن أبى بكر عن صالح بن خوات الأنصاري أن سهل بن أبى حثمة أخبره أن صلاة الخوف فذكر نحوه ولم يذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم وزاد في ذكر الآخرة قال فيركع بهم ويسجد ثم يسلم فيقومون فيركعون لأنفسهم الركعة الباقية ثم يسلمون

محمد بن ابی بکر نے حضرت صالح بن خوات انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ سسہل بن ابی حشمہ نے ان کو بتلایا کہ نماز خوف اس طرح ہے پھر روایت بالا کی طرح رویت نقل کی ہے اور اس روایت کو انہوں نے مرفوعا نقل نہیں کیا البتہ اس روایت میں ہ اضافہ ہے فبر کع بہم و سجد یسلم کہ امام رکوع اور سجدہ کرائے گا پھر امام سلام پھیر دے گا فیقومون فیر کعون لا نفسہم الرکعۃ الباقیہ ثم یسلمون پھر وہ خود کھڑے ہو کر رکوع سجدہ کر کے اپنی بقیہ رکعت مکمل کریں گے اور سلام پھیریں گے۔

فيركع بهم ويسجد ثم يسلم فيقومون فيركعون لأنفسهم الركعة الباقية ثم يسلمون ← الآخرة ← النبي صلى الله عليه و سلم وزاد في ← أن صلاة الخوف فذكر نحوه ولم يذكره ← صالح بن خوات الأنصاري أن سهل بن أبى حثمة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 1826

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter