Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1786

1693 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى جمرة قال سألت بن عباس رضي الله عنهما عن الصلاة بعد العصر فقال رأيت عمر رضي الله عنه يضرب الرجل إذا رآه يصلى بعد العصر

ابو جمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب وہ کسی آدمی کو عصر کے بعد نماز پڑھتا دیکھتے تو اسکو مارتے۔

الصلاة بعد العصر ← سألت بن عباس ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1786

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1787

1694 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا عبيد الله بن أياد بن لقيط عن أياد بن لقيط عن البراء بن عازب قال بعثني سليمان بن ربيعة بريدا الى عمر بن الخطاب رضي الله عنه في حاجة له فقدمت عليه فقال لي لا تصلوا بعد العصر فإني أخاف عليكم أن تتركوها الى غيرها

ایاد بن لقیط نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مجھے سلیمان بن ربیعہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط دے کر بھیجا جو کسی ضرورت کے سلسلہ میں تھا میں ان کی خدمت میں آیا تو مجھے فرمایا عصر کے بعد نماز مت پڑھا کرو مجھے خدشہ ہو گیا ہے کہ کہیں اس کو تم دوسروں کے لیے نہ چھوڑ جاؤ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1787

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1788

1695 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال أنبأني سعد بن إبراهيم قال سمعت عبد الله بن رافع بن خديج يحدث عن أبيه قال فاتتنى ركعتان من العصر فقمت أقضيهما وجاء الى عمر رضي الله عنه ومعه الدرة فلما سلمت قال ما هذه الصلاة فقلت فاتتنى ركعتان فقمت أقضيهما فقال ظننتك تصلى بعد العصر ولو فعلت ذلك لفعلت بك وفعلت

عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد رافع سے سنا کہ مجھ سے عصر سے پہلے دو رکعت فوت ہو گئیں میں ان کو پورا کرنے کھڑا ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور ان کے پاس درہ تھا جب میں نے سلام پھیرا تو انہوں نے پوچھا یہ کیا نماز ہے جس کو تو ادا کر رہا تھا ؟ میں نےکہا یہ میری پہلی رہی ہوئی رکعتیں جن کو میں قضاء کر رہا تھا کہنے لگے میں نے خیال کیا کہ تو عصر کے بعد نماز پڑھ رہا ہے اگر تو ایسا کرتا تو میں درے سے تیری مرمت کرتا۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن رافع بن خديج ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1788

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1789

1696 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعد عن عبيد الله بن رافع عن أبيه فذكر مثله

عبید اللہ بن رافع نے اپنے والد سے نقل کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبيه فذكر مثله ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ، ← سَعْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1789

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1790

1697 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير عن محمد بن عمرو عن عمر بن عبد الملك بن المغيرة بن نوفل عن أبى سعيد الخدري أنه قال أمرني عمر بن الخطاب أن أضرب من كان يصلى بعد العصر الركعتين بالدرة

عمر بن عبدالملک بن مغیرہ بن نوفل نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جس کو عصر کے بعد نماز پڑھتا دیکھوں اس کو درے سے ماروں

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عمر بن عبد الملك بن المغيرة بن نوفل ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1790

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1791

1698 - حدثنا الحسين بن الحكم الجيزي قال ثنا أبو غسان قال ثنا سعد بن مسعود عن الحسن بن عبيد الله عن محمد بن شداد عن عبد الرحمن بن يزيد عن الأشتر قال كان خالد بن الوليد يضرب الناس على الصلاة بعد العصر

عبدالرحمن بن یزید نے اشتر سے نقل کیا کہ خالد بن الولید رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں کو درے مارتے تھے ۔

كَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَضْرِبُ النَّاسَ عَلَى الصَّلاَة بَعْدَ الْعَصْرِ. ← الأَشْتَرِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أبو غسان، ← الحسين بن الحكم الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1791

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1792

1699 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني عامر بن مصعب عن طاوس أنه سأل بن عباس رضي الله عنهما عن الركعتين بعد العصر فنهاه وقال وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم الآية فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهون عنهما ويضرب عمر بن الخطاب رضي الله عنه عليهما بحضرة سائر أصحابه على قرب عهدهم برسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينكر ذلك عليه منهم منكر فإن قال قائل فقد أخبرت أم سلمة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان نهى عنهما ثم صلاهما بعد ذلك لما تركهما بعد الظهر فهكذا أقول يصليهما بعد العصر من تركهما بعد الظهر ولا يصلى أحد بعد العصر شيئا من التطوع غيرهما قيل له ان رسول الله صلى الله عليه و سلم لما صلاهما حينئذ قد نهى عنهما أن يقضيهما أحد وذلك أن على بن شيبة

طاؤس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے منع فرمایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی (وما کان لمومن ۔۔۔۔۔من امر ھم) الاحزاب 26) یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں جو ان نوافل سے روکتے ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ انکی موجودگی میں عہد نبوت کے قرب کے باوجود کی پٹائی کرتے ہیں اور کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ خبر دی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تو اس سے روکا ہے پھر ظہر کے بعد رہ جانے والے نوافل کو اس کے بعد ادا کیا۔ اسی طرح میں یہ کہتا ہوں کہ عصر کے بعد وہ شخص پڑھے جو ظہر کے بعد نوافل چھوڑنے والا ہو۔ البتہ کوئی شخص عصر کے بعد نوافل میں سے کوئی چیز نہ پڑھے اس سے کہا جائے گا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان رکعات کو ادا فرمایا تو اسی وقت ان کی قضاء سے بھی منع فرمادیا اس کی دلیل یہ روایت ہے ۔

طَاوْسٍ ← عَامِرِ بن مصعب، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1792

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1793

1700 - حدثنا قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن ذكوان عن أم سلمة قالت صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم العصر ثم دخل بيتي فصلى ركعتين فقلت يا رسول الله صليت صلاة لم يكن تصليها قال قدم على مال فشغلنى عن ركعتين كنت أصليهما بعد الظهر فصليتهما الآن قلت يا رسول الله أفنقضيهما إذا فاتتا قال لا فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث أحد أن يصليهما بعد العصر قضاء عما كان يصليه بعد الظهر فدل ذلك على ان حكم غيره فيهما إذا فاتتاه خلاف حكمه فليس لأحد أن يصليهما بعد العصر ولا أن يتطوع بعد العصر أصلا وهذا هو النظر أيضا وذلك أن الركعتين بعد الظهر ليستا فرضا فإذا تركتا حتى يصلي صلاة العصر فإن صليتا بعد ذلك فإنما تطوع بهما مصليهما في غير وقت تطوع فلذلك نهينا أحدا أن يصلى بعد العصر تطوعا وجعلنا هاتين الركعتين وغيرهما من سائر التطوع في ذلك سواء وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ذکوان نے ام سلمہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے عصر کی نماز ادافرمائی پھر میرے گھر تشریف لائے اور دورکعت نماز ادا فرمائی پھر میرے گھر تشریف لائے اور د و رکعت نماز ادا فرمائی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپ پہلے نہ پڑھتے تھے آپ نے فرمایا میرے پاس (صدقہ کا) مال آیا جس کی تقسیم نے مجھے مشغول کر دیا یہ رکعتیں میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا پس اب میں نے ان کو پڑھا ہے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کیا ہم بھی سنت کے فوت ہونے پر ان کو قضاء کر لیا کریں آپ نے فرمایا نہیں ۔ اس ارشاد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ظہر کے بعد والی نماز کے قضاء کی بھی ممانعت فرمائی ہے پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ظہر کے بعد رکعات فوت شدہ کو حکم رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے لیے دوسروں سے الگ ہے لہذا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ عصر کے بعد قضاء نفل ادا کرے اور عصر کے بعد نفل تو بالکل نہ پڑھ چکا تو اب ان کو پڑھا جائے تو وہ نفل ہیں جو اپنے وقت کے علاوہ ادا کیے جا رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے ہم عصر کے بعد نوافل سے منع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ان دو رکعتوں اور دیگر نوافل کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← ذَكْوَانَ، ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1793

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter