شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1762
1670 - حدثنا الحجاج بن عمران بن الفضل البصري قال ثنا يوسف بن موسى القطان قال ثنا أبو أسامة قال ثنا الوليد بن كثير قال حدثني محمد بن عمرو بن عطاء عن عبد الرحمن بن أبى سفيان أن معاوية أرسل الى عائشة يسألها عن السجدتين بعد العصر فقالت ليس عندي صلاهما ولكن أم سلمة رضي الله عنها حدثتني أنه صلاهما عندها فأرسل الى أم سلمة رضي الله عنها فقالت صلاهما رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي لم أره صلاهما قبل ولا بعد فقلت يا رسول الله ما سجدتان رأيتك صليتهما بعد العصر ما صليتهما قبل ولا بعد فقال هما سجدتان كنت أصليهما بعد الظهر فقدم على قلائص من الصدقة فنسيتهما حتى صليت العصر ثم ذكرتهما فكرهت أن أصليهما في المسجد والناس يرونى فصليتهما عندك
عبدالرحمن بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ہاں آپ نے وہ دو رکعت نہیں پڑھیں لیکن ام سلمہ نے مجھے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان کو ان کے ہاں پڑھا پس انہوں نے ام سلمہ کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے میرے ہاں دو رکعت پڑھیں میں نے وہ دو رکعتیں اس سے پہلے اور بعد پڑھتے نہیں پایا اس پر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت میں سوال کیا یہ کیا رکعتیں ہیں جن کو آپ نے پڑھا ہے اس سے پہلے اور بعدمیں آپ کو پڑھتے نہ دیکھا تو آپ نے فرمایا یہ دو رکعت میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا میرے پاس صدقہ کی اونٹنیاں آئیں۔ (قلائص جمع قلوص۔ جواں سال اونٹنی)(ان کی تقسیم میں مشغول ہو کر ) میں پڑھنا بھول گیا یعنی پڑھنے سے رہ گئیں پھر ابھی مجھے یاد آئیں تو میں نے ان کو مسجد میں پڑھنا ناپسند کیا کہ لوگ مجھے دیکھیں اور وہ پڑھنا شروع کر دیں۔ پس میں نے تمہارے گھر میں ادا کیں ۔
السجدتين بعد العصر ← عبد الرحمن بن أبى سفيان أن معاوية أرسل الى عائشة يسألها ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← الحجاج بن عمران بن الفضل البصري
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1762
