Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1704

1615 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن حميد عن أنس رضي الله عنه قالوا الوتر ثلاث ركعات وكان يوتر بثلاث ركعات

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وتر تین رکعت ہیں ۔

الوتر ثلاث ركعات وكان يوتر بثلاث ركعات ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1704

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1705

1616 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا ثابت قال صلى بي أنس رضي الله عنه الوتر أنا عن يمينه وأم ولده خلفنا ثلاث ركعات لم يسلم الا في آخرهن ظننت أنه يريد أن يعلمنى

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے ثابت کہتے ہیں کہ ہمیں انس رضی اللہ عنہ وتر پڑھاتے ، میں ان کی دائیں جانب اور ان کی ام والدہ ہمارے پیچھے تھی ۔ انہوں نے تین رکعت انکے آخر میں سلام پھیرا۔

صلى بي أنس الوتر ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1705

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1706

1617 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو عاصم عن بن عجلان عن نافع والمقبرى سمعا معاذا القارىء يسلم في الركعتين من الوتر

میں نے گمان کیا کہ انہوں نے مجھے سکھانے کے لیے ایسا کیا ۔ نافع اور مقبری نے معاذ القاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ وتر کی دو رکعت پر سلام پھرتے تھے ۔

نافع والمقبرى سمعا معاذا القارىء يسلم في الركعتين من الوتر ← بن عَجْلَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1706

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1707

1618 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث عن عياش بن عباس القتباني عن عامر بن يحيي عن حنش الصنعاني قال كان معاذ يقرأ للناس في رمضان فكان يوتر بواحدة يفصل بينها وبين الثنتين بالسلام حتى يسمع من خلفه تسليمه فلما توفى قام للناس زيد بن ثابت فأوتر بثلاث لم يسلم حتى فرغ منهن فقال له الناس أرغبت عن سنة صاحبك فقال لا ولكن ان سلمت انفض الناس فهؤلاء جميعا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كانوا يوترون بثلاث فمنهم من كان يسلم في الاثنتين ومنهم من كان لا يسلم فلما ثبت عنهم أن الوتر ثلاث نظرنا في حكم التسليم بين الاثنتين منهن كيف هو فرأينا التسليم يقطع الصلاة ويخرج المسلم به منها حتى يكون في غير صلاة وقد رأينا ما اجمعوا عليه من الفرض لا ينبغي أن يفصل بعضه من بعض بسلام فكان النظر على ذلك أن يكون كذلك الوتر لا ينبغي أن يفصل بعضه من بعض بسلام فإن قال قائل فإنه قد روى عن غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم انه كان يوتر بواحدة فذكر ما

حنش صنعانی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رمضان میں لوگوں کو قرآن سناتے وہ ایک وتر پڑھا کرتے وہ پہلی دور کعتوں اور اس میں سلام سے فاصلہ کرتے یہاں تک کہ ان کے پیچھے لوگ سن لیتے ۔ جب ان کی وفات ہو گئی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ انکی جگہ کھڑے ہو ئے وہ لوگوں کو وتر پڑھاتے اور ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ کرتے بلکہ فراغت پر سلام پھیرتے لوگوں نے کہا کیا تم نے اپنے ساتھی کے طریقہ کو ترک کر دیا ۔ انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر میں سلام پھروں تو لوگ بکھر جائیں گے۔ یہ تمام اصحاب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ہیں جو تین وتر ادا کرتے تھے ۔ ان میں سے بعض دو پر سلام پھیرتے جبکہ دوسرے درمیان میں سلام پھیرتے پس جب ان سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وتر تین ہیں تو اب ہم دو کے بعد سلام پھیرنے کے مسئلہ کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی صورت کیا ہے ۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ سلام سے نماز منقطع ہو جاتی ہے اور سلام کرنے والا نماز سے نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز سے باہر ہو جاتا ہے ۔ اور ہم نے غور سے دیکھا کہ فرائض کے سلسلہ میں اس پر اتفاق ہے کہ ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ ہونا چاہیے پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وتر کا حکم یہی ہو ۔ اور ان میں بھی سلام سے فاصلہ مناسب نہ ہو ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ بہت سے اصحاب رسول صلی اللہ عیہ وسلم سے مروی ہے کہ وہ ایک وتر پڑھتے تھے ۔

لاَ وَلَكِنْ ← سنة صاحبك ← له الناس أرغبت ← كان معاذ يقرأ للناس ← حنش الصنعاني ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1707

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1708

1619 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا فليح بن سليمان الخزاعي قال ثنا محمد بن المنكدر عن عبد الرحمن التيمى قال قلت لا يغلبنى الليلة على القيام أحد فقمت أصلي فوجدت حس رجل من خلفى في ظاهرى فنظرت فإذا عثمان بن عفان فتنحيت له فتقدم فاستفتح القرآن حتى ختم ثم ركع وسجد فقلت أو هم الشيخ فلما صلى قلت يا أمير المؤمنين إنما صليت ركعة واحدة فقال أجل هي وتري قيل له قد يجوز أن يكون عثمان كان يفصل بين شفعه ووتره فيكون قد صلى شفعه قبل ذلك ثم أوتر في وقت ما رآه عبد الرحمن وفي إنكار عبد الرحمن فعل عثمان دليل على أن العادة التي قد كان جرى عليها قبل ذلك وعرفها على غير ما فعل عثمان وعبد الرحمن فله صحبة فقد دخل بذلك هذا المعنى في المعنى الأول وان احتج في ذلك محتج بما روى عن سعد فإنه قد

ابو بکر نے حضرت عبدالرحمان تیمی سے نقل کیا کہ میں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ آج رات کے قیام پر مجھ پر کوئی چیز غالب نہ آسکے گی پس میں نماز پڑھنے لگا میں نے اپنے پیچھے ایک آدمی کی آہٹ محسوس کی ، تو میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے ان کے لیے جگہ چھوڑ دی وہ آگے بڑھے اور قرآن مجید کو شروع کر کے مکمل کیا پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا میں نے کہا شیخ کو وہم ہو گیا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا اے امیر المومنین تم نے ایک رکعت ادا کی ہے ۔ آپرضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں وہ میرے وتر ہیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے حضرت عثمان اپنے وتر اور شفعہ کے درمیان فاصلہ کرتے ہوں ۔ پس انہوں نے اس سے پہلے فعہ پڑھا ہو گا پھر جب اس وقت میں جب عبد الرحمان نے ان کو دیکھا تو انہوں نے اس کو طاق بنا لیا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبدالرحمان کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل پر انکار سے یہ دلیل مل گئی کہ عام عادت تو اس سے پہلے ان کے ہاں معروف تھی وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فعل سے مختلف تھی اور حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں۔ اس سے یہ مفہوم بھی پہلے معنی میں شامل ہو گیا ۔ اگر کوئی معترض حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایت سے حجت و دلیل پکڑ لے روایت یہ ہے ۔

عبد الرحمن التيمى ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1708

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1709

1620 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة حدثهم عن يعقوب بن عبد الله بن الأشج عن سعيد بن المسيب قال شهد عندي من شيب من آل سعد بن أبى وقاص ان سعد بن أبى وقاص كان يوتر بواحدة

یونس نے اپنی سند سے ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا کہ میر ے پاس آل سعد بن وقاص کے ایک بوڑھے نے گواہی دی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک وتر پڑھتے (ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ 296/2)

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1709

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1710

1621 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا حصين عن مصعب بن سعد عن أبيه أنه كان يوتر بواحدة

خالی ہے ۔

أبيه أنه كان يوتر بواحدة ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1710

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1711

1622 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال أمنا سعد بن أبى وقاص في صلاة العشاء الآخرة فلما انصرف تنحى في ناحية المسجد فصلى ركعة فاتبعته فأخذت بيده فقلت له يا أبا إسحاق ما هذه الركعة فقال وتر أنام عليه قال عمرو فذكرت ذلك لمصعب بن سعد فقال كان يوتر بركعة واحدة يعنى سعدا قيل له فد يجوز أن يكون سعد فعل في ذلك ما احتمله ما فعله عثمان فيما ذكرنا قبله فإن قال قائل ففي حديث عمرو بن مرة ما يدل على خلاف ذلك لأنه قال صلى بنا فلما انصرف تنحى فصلى ركعة قيل له قد يجوز أن يكون ذلك الانصراف هو الانصراف الى منزله وقد صلى قبل ذلك بعد انصرافه من صلاته وقد

ابن خزیمہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن سلمہ سے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز میں ہماری امامت کرائی ۔ پس جب اس سے فارغ ہوئے تو وہ مسجد کے ایک کونے میں الگ چلے گئے اور ایک رکعت ادا کی ۔ پس میں ان کے پیچھے چلدیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا اے ابو اسحاق یہ رکعت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ وتر ہیں جن کو پڑھ کر میں سوتا ہوں ۔ عمرو کہنے لگے میں نے یہ مصعب بن سعد کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا سعد ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ممکن ہے کہ وہ سعد رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا ہو جو احتمال ہم نے اوپر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ عمرو بن مرہ کی روایت اس کے برعکس ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے ۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک طرف ہٹ کر انہوں نے ایک رکعت ادا کی ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے کہ اس لوٹنے سے گھر کی طر لوٹنا مراد ہو اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نماز پڑھی ہو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1711

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1712

1623 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال ثنا داود بن أبى هند عن عامر قال كان آل سعد وآل عبد الله بن عمر يسلمون في الركعتين من الوتر ويوترون بركعة ركعة فقد بين الشعبي في الحديث مذهب آل سعد في الوتر وهم المقتدون بسعد المتبعون لفعله وإن وترهم الذي كان ركعة ركعة إنما هو وتر بعد صلاة قد فصلوا بينه وبينها بتسليم فقد عاد ذلك الى قول الذين ذهبوا الى أن الوتر ثلاث وقد

ابو امیہ نے اپنے اسناد سے نقل کیا کہ آل سعد اور آل عبداللہ بن عمرو تر کی دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت اور ملا کر وتر بناتے تو اس روایت میں شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے واضح کر دیا کہ وتروں میں آل سعد رضی اللہ عنہ کا طریقہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے قول و فعل کی اتباع تھی ۔ ان کے وتر وہ ایک ایک رکعت تھی اور وہ رکعت ایسی ہوتی کہ اس سے پہلے ایک شفعہ پڑھ کر سلام پھیرتے پس اس معنی کو اختیار کرنے سے اس کا وہی مفہوم ہوا جو کہتے ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں ۔

عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1712

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1713

1624 - حدثنا بكار قال ثنا أبو داود قال ثنا حماد عن حماد عن إبراهيم أن بن مسعود عاب ذلك على سعد ومحال عندنا أن يكون عبد الله عاب ذلك على سعد مع نبل سعد وعلمه إلا لمعنى قد ثبت عنده وهو أولى من فعله ولو كان بن مسعود إنما خالفه برأيه لما كان رأيه أولى من رأى سعد ولما عاب ذلك على سعد إذا كان ما أخذ ذلك منه هو الرأي ولكن الذي علمه بن مسعود رضي الله عنه مما خالف فعل سعد في ذلك هو غير الرأي وان احتج في ذلك بما

ابراہیم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد پر اس سلسلہ میں تنقید کی ۔ اور ہمارے ہاں یہ بات ناممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ پر باوجود ان کے عمل و فضل کے تنقید بلاوجہ کریں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے ہاں ثابت شدہ تھی ۔ اور وہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اولیٰ تھی ۔ اگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد سے ان پر تنقید کرتے تو ان کی بات سعد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اولیٰ نہ ہوتی ۔ جب انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ پر تنقید کی اس لیے کہ جس کو وہ اختیار کرنے والے تھےوہ اجتہاد تھا لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ جس بات کو سعد کے فعل کے خلاف جانتے تھے وہ صرف رائے نہ تھی بلکہ ثابت شدہ عمل تھا ۔ اگر کوئی اس روایت کو بطور دلیل پیش کرے ۔

حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1713

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1714

1625 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن كثير عن الأوزاعي عن يزيد بن أبى مريم عن أبى عبيد الله قال رأيت أبا الدرداء وفضالة بن عبيد ومعاذ بن جبل رضي الله عنه يدخلون المسجد والناس في صلاة الغداة فيتنحون الى بعض السوارى فيوتر كل واحد منهم بركعة ثم يدخلون مع الناس في الصلاة قيل له قد يجوز أن يكون ذلك كان منهم بعد ما كانوا صلوا في بيوتهم أشفاعا كثيرة فكان ذلك الذي صلوا في بيوتهم هو الشفع وما صلوا في المسجد هو الوتر فيعود ذلك أيضا الى الوتر ثلاث وقد

فہد نے اپنے اسناد سے ابو عبید اللہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت ابوالدرداء ، فضالہ بن عبید اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہو رہے ہیں اس وقت تمام لوگ صبح کی نماز میں مشغول تھے وہ بعض ستونوں کی طرف گئے اور ہر ایک نے ایک وتر ادا کیا ، پھرلوگوں کے ساتھ نماز صبح میں شامل ہو گئے ۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ عین ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے گھروں میں کئی شفعات پڑھے ہوں۔ تو وہ نماز جو انہوں نے گھروں میں ادا کی وہ شفع ہوا اور جو انہوں نے مسجد میں ادا کی وہ وتر ہو ۔ پس یہ بھی تین وتر کی طرف لوٹ جائے گی ۔

أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1714

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1715

1626 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبى الزناد عن أبيه قال أثبت عمر بن عبد العزيز والوتر بالمدينة بقول الفقهاء ثلاثا لا يسلم الا في آخرهن

ربیع نے اپنی اسناد کے ساتھ ابو الزناد سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ میں فقہاء کے کہنے کے مطابق تین وتر جاری کر دیے جن کے آخر میں سلام پھیرتے ۔

أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1715

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter