شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1692
1604 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهرى عن عطاء بن يزيد الليثي عن أيوب قال الوتر حق أو واجب فمن شاء أوتر بسبع ومن شاء أوتر بخمس ومن شاء أوتر بواحدة ومن غلب الى أن يومئ فليومئ فأخبر في هذا الحديث أنهم كانوا مخيرين في أن يوتروا بما أحبوا لا وقت في ذلك ولا عدد بعد أن يكون ما يصلون وترا وقد أجمعت الأمة بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم على خلاف ذلك وأوتروا وترا لا يجوز لكل من أوتر عنده ترك شيء منه فدل اجماعهم على نسخ ما قد تقدمه من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن الله عز و جل لم يكن ليجمعهم على ضلال
یزید لیثی نے حضرت ابو یوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وتر حق یا واجب ہیں ۔ پس جو چاہے سات پڑھے اور جو چاہے پانچ پڑھے اور جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہیے ایک پڑھےاور جس پر تکلیف کا غلبہ ہو تو اشارے سے ادا کرے ۔ ان روایات میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ صحابہ کرام کو وتروں کے سلسلہ میں تعداد کی پابندی نہ تھی جس قدر چاہیں پڑھ لیں ، نہ وقت تھا نہ تعداد متعین تھی ۔ البتہ ان کا طاق تعداد میں پڑھنا لازم تھا۔ اس بات پر آپ کے بعدا مت کا اتفاق ہو گیا کہ وہ وتر پڑھیں اور جو وتر پڑھیں اور جو وتر پڑھے تو اسے اس میں سے کسی چیز کا ترک جائز نہیں امت کا اجماع اس اختیار کے نسخ کی دلیل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ عبدالرحمان بن ابزی رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے اس طرح نقل کیا ہے ۔
أَيُّوبَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ
Hadith 1692
