Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1692

1604 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهرى عن عطاء بن يزيد الليثي عن أيوب قال الوتر حق أو واجب فمن شاء أوتر بسبع ومن شاء أوتر بخمس ومن شاء أوتر بواحدة ومن غلب الى أن يومئ فليومئ فأخبر في هذا الحديث أنهم كانوا مخيرين في أن يوتروا بما أحبوا لا وقت في ذلك ولا عدد بعد أن يكون ما يصلون وترا وقد أجمعت الأمة بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم على خلاف ذلك وأوتروا وترا لا يجوز لكل من أوتر عنده ترك شيء منه فدل اجماعهم على نسخ ما قد تقدمه من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن الله عز و جل لم يكن ليجمعهم على ضلال

یزید لیثی نے حضرت ابو یوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وتر حق یا واجب ہیں ۔ پس جو چاہے سات پڑھے اور جو چاہے پانچ پڑھے اور جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہیے ایک پڑھےاور جس پر تکلیف کا غلبہ ہو تو اشارے سے ادا کرے ۔ ان روایات میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ صحابہ کرام کو وتروں کے سلسلہ میں تعداد کی پابندی نہ تھی جس قدر چاہیں پڑھ لیں ، نہ وقت تھا نہ تعداد متعین تھی ۔ البتہ ان کا طاق تعداد میں پڑھنا لازم تھا۔ اس بات پر آپ کے بعدا مت کا اتفاق ہو گیا کہ وہ وتر پڑھیں اور جو وتر پڑھیں اور جو وتر پڑھے تو اسے اس میں سے کسی چیز کا ترک جائز نہیں امت کا اجماع اس اختیار کے نسخ کی دلیل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ عبدالرحمان بن ابزی رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے اس طرح نقل کیا ہے ۔

أَيُّوبَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Hadith 1692

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1693

1605 - وقد روى عبد الرحمن بن أبزى عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو المطرف بن أبي الوزير قال ثنا محمد بن طلحة عن زبيد عن ذر عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه أنه صلى مع النبي صلى الله عليه و سلم الوتر فقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد فلما فرغ قال سبحان الملك القدوس ثلاثا يمد صوته بالثالثة

حضرت عبدالرحمان بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وتر ادا کیے ۔ آپ نے پہلی رکعت میں سورہ اعلی اور دوسری میں کافرون اور تیری میں سورہ اخلاص پڑھی۔ پس جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ نے تین مرتبہ یہ کلمات سبحان الملک القدوس کہے اور تیسری مرتبہ میں آواز کو دراز کیا۔

سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ← أَبُو بَکْرَةَ ← وقد روى عبد الرحمن بن أبزى

Hadith 1693

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1694

1606 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن زبيد فذكر مثله بإسناده

حضرت زید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے ۔

زبيد فذكر مثله بإسناده ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Hadith 1694

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1695

1607 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا محمد بن طلحة عن زبيد فذكر مثله بإسناده غير أنه قال وفي الثانية قل للذين كفروا يعنى قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة الله الواحد الصمد فهذا يدل على انه كان يوتر بثلاث

حضرت زید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے البتہ اتنا فرق ہے کہ دوسری میں کافرون اور تیسری میں قل ھو اللہ پڑھی۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے یہ روایت کی ہے ۔

مثله بإسناده غير أنه ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Hadith 1695

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1696

1608 - وقد روى عن أبى هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمى عبد الله بن وهب قال ثنا سليمان بن بلال عن صالح بن كيسان عن عبد الله بن الفضل عن أبى سلمة بن عبد الرحمن والأعرج عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا توتروا بثلاث وأوتروا بخمس أو سبع ولا تشبهوا بصلاة المغرب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا تین کے ساتھ وتر نہ بناؤ بلکہ پانچ یا سات کے ساتھ وتر اور نماز مغر ب کی مشابہت مت کرو۔

لا توتروا بثلاث وأوتروا بخمس أو سبع ولا تشبهوا بصلاة المغرب ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبى سلمة بن عبد الرحمن والأعرج ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَقَدْ رُوِيَ

Hadith 1696

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1697

1609 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة حدثه عن عراك بن مالك عن أبى هريرة رضي الله عنه ولم يرفعه قال لا توتروا بثلاث ركعات تشبهوا بالمغرب ولكن أوتروا بخمس أو بسبع أو بتسع أو بإحدى عشرة فقد يحتمل أن يكون كره إفراد الوتر حتى يكون معه شفع على ما قد روينا قبل هذا عن بن عباس وعائشة رضي الله عنها فيكون ذلك تطوعا قبل الوتر وفي ذلك نفى الواحدة أن تكون وترا ويحتمل أن يكون على معنى ما ذكرنا من حديث أبى أيوب في التخيير الا أنه ليس فيه إباحة الوتر بالواحدة فقد ثبت بهذه الآثار التي رويناها عن النبي صلى الله عليه و سلم أن الوتر أكثر من ركعة ولم يرو في الركعة شيء وتأويله يحتمل ما قد شرحناه وبيناه في موضعه من هذا الباب ثم أردنا أن نلتمس ذلك من طريق النظر فوجدنا الوتر لا يخلو من أحد وجهين اما ان يكون فرضا أو سنة فإن كان فرضا فإنا لم نر شيئا من الفرائض الا على ثلاثة أوجه فمنه ما هو ركعتان ومنه ما هو أربع ومنه ما هو ثلاث وكل قد أجمع أن الوتر لا تكون اثنتين ولا أربعا فثبت بذلك أنه ثلاث هذا إذا كان فرضا وأما إذا كان سنة فإنا لم نجد شيئا من السنن إلا وله مثل في الفرض من ذلك الصلاة منها تطوع ومنها فرض ومن ذلك الصدقات لها أصل في الفرض وهو الزكاة ومن ذلك الصيام وله أصل في الفرض وهو صيام شهر رمضان وما أوجب الله عز و جل في الكفارات ومن ذلك الحج يتطوع به وله أصل في الفرض وهو حجة الإسلام ومن ذلك العمرة يتطوع بها ووجوبها فيه اختلاف سنبينه في موضعه إن شاء الله تعالى ومن ذلك العتاق له أصل في الفرض وهو ما فرض الله عز و جل في الكتاب من الكفارات والظهار فكانت هذه الأشياء كلها يتطوع بها ولها أصول في الفرض فلم نر شيئا يتطوع به الا وله أصل في الفرض وقد رأينا أشياء هى فرض ولا يجوز أن يتطوع بها منها الصلاة على الجنازة وهى فرض ولا يجوز أن يتطوع بها ولا يجوز لأحد أن يصلى على ميت مرتين بتطوع بالآخرة منهما فكان الفرض قد يكون في شيء ولا يجوز أن يتطوع بمثله ولم نر شيئا يتطوع به الا وله مثل في الفرض منه أخذ وكان الوتر يتطوع به فلم يجز أن يكون كذلك الا وله مثل في الفرض والفرض لم نجد فيه وترا الا ثلاثا فثبت بذلك أن الوتر ثلاث هذا هو النظر وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى في ذلك عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین رکعت سے وتر نہ بناؤ کہ جس سے نماز مغرب کی مشابہت اختیار کرو بلکہ پانچ یا سات یا نو یا گیارہ رکعت سے وتر بناؤ۔ پس اس میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے اکیلے وتروں کا ادا کرنا مکروہ خیال کہ جب تاکہ اس کے ساتھ ( دو یا چار) جفت نہ ہوں جیسا کہ ہم اس سے پہلے ابن عباس ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے وہ جفت رکعات وتر سے قبل نفل ہوں گے۔ اس میں ایک وتر ہونے کی نفی ہے یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا معنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کی طرح اختیار کاہو ۔ اگر اس ایک وتر کے پڑھنے کا جواز نہ ہو گا۔ ان آثار مرویہ سے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے مروی ہیں یہ ثابت ہو گیا کہ وتروں کی تعداد ایک سے زائد ہے اور ایک رکعت کے متعلق جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے کوئی چیز مروی نہیں ۔ پس تاویل محتملہ ہے ۔ جس کی وضاحت ہم نے کتاب ہذا میں اپنے موقع پر ذکر کر دی ۔ پھر ہم نے چاہا کہ نظر کے لحاظ سے وتروں کا حکم تلاش کریں وہ صورتیں بنیں گی یا تو وہ فرض ہوں گے یا سنت پس اگر وہ فرض ہو تو ہم فرائض کی تین صورتیں پاتے ہیں ۔1۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ دو رکعت ہیں ۔2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ چار رکعت ہیں ۔ 3۔تیسری صورت یہ ہے کہ وہ تین رکعت ہوں ۔ اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ وتر دو یا چار تو نہیں ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہ تین یہ اس صورت میں ہے جبکہ وہ فرض ہوں۔ اور اگر وہ سنت ہوں ہم تمام سنتوں کی مثالیں نماز کے فرائض میں پاتے ہیں ان میں سے نماز یں ہیں بعض تو ان میں فرض ہیں اور بعض نفل ہیں انم میں جو فرض ہیں وہ صدقات کے لیے کچھ فرضیت میں اصل ہیں اور وہ زکوۃ ہے ۔ اور اسی میں سے روزے ہیں ان کے لیے بھی اصل فرض ہیں اور وہ رمضان المبارک کے روزے ہیں اور وہ روزے جن کو کفارات میں لازم کیا ہے ۔ اور ان اصل فرائض میں سے حج ہے ۔ اور وہ نفلی بھی ہوتا ہے ۔ اصل فرض تو حج اسلام (زندگی میں ایک مرتبہ) ہے اور اس میں سے نقل عمرہ ہے ۔ اور اس کے واجب ہونے میں اختلاف ہے ۔ عنقریب اسے بیان کیا جائے گا انشاء اللہ ۔ اور اسی میں سے آزاد کرنا ہے ۔ اور اس میں اصل تو فرض ہے اور وہ مختلف کفارات ہیں اور ظہار ہے ۔ یہ جتنی چیزیں ہیں ان کی اصل فرض اور انکو نفلی طور پر بھی انجام دیا جاتا ہے ۔ تو ہم کوئی چیز نوافل کی ایسی نہیں پاتے جسکی اصل فرض میں موجود نہ ہو۔ البتہ ہم بہت سی ایسی فرض اشیاء پاتے ہیں مگر ان کو نفل کے طور پر اداکرنا درست نہیں مثلا ان میں سے نماز جنازہ ہے ۔ یہ ایسافرض ہے کہ اس کو نفل کے طور پر ادا نہیں کر سکتے اور کسی آدمی کوکسی میت پر دو مرتبہ جنازہ درست نہیں کہ دوسری مرتبہ کو وہ نفل قرار دے لے۔ تو گویا فرائض ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن کی نفلی ادائیگی درست نہیں ہے اور نوافل میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی کہ جس کو نفلی طور پر ادا کیا جا سکتا ہو۔ مگر فرائض میں اس کی کوئی مثل نہ ہو ۔فرائض ہم طاق تعداد تین ہی پاتے ہیں ۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ وتر تین ہیں نظر کا یہی تقاضا ہے ۔ اور امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول یہی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← فهد

Hadith 1697

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1698

1610 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه ح

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں روایات آئی ہیں ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 1698

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1699

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا مالك عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد قال أمر عمر بن الخطاب أبى بن كعب وتميم الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة قال فكان القارىء يقرأ بالمئين حتى يعتمد على العصا من طول القيام وما كنا ننصرف الا في وقوع الفجر فهذا يدل على أنهم كانوا يوترون بثلاث لأنه لا يجوز أن يكونوا كانوا يصلون شفعا واحدا ثم ينصرفون عليه حتى يصلوه بشفع آخر

یونس نے اپنے استاد کے ساتھ ساتب یزید نے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعت قیام اللیل کا حکم فرمایا۔ قاری سو سو آیات والی سورتیں تلاوت کرتے ، لوگ لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑ ے ہوتے کیونکہ قیام طویل ہوتا اور فجر قریب ہم گھروں کو لوٹتے۔ یہ روایت دلالت کر رہی ہے کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے کیونکہ یہ تو درست نہیں کہ وہ ایک شفعہ پڑھتے پھر لوٹ کراسے دوسرے شفعہ کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوں ۔

تميم الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة ← أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مَالِكٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1700

1611 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا يحيى بن سليمان الجعفي قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو عن بن أبى هلال عن بن السباق عن المسور بن مخرمة قال دفنا أبا بكر ليلا فقال عمر انى لم أوتر فقام وصففنا وراءه فصلى بنا ثلاث ركعات لم يسلم الا في آخرهن

ابن ابی داؤد نے مسور بن مخرمہ سےنقل کیا کہ ہم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت دفن کیا تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں وتر نہیں پڑھ سکا ، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے ہم نے ان کے پیچھے صف بنائی پس انہوں نے ہمیں تین رکعت پڑھائیں اور ان کے اختتام پر سلام پھیرا۔

دفنا أبا بكر ليلا ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← بن السباق ← بن أبي هلال ← عَمْرٍو، ← بن وَهْبٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← بن أبي داود

Hadith 1700

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1701

1612 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو خالدة قال سألت أبا العالية عن الوتر فقال علمنا أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أو علمونا أن الوتر مثل صلاة المغرب غير أنا نقرأ في الثالثة فهذا وتر الليل وهذا وتر النهار

ابو بکرہ نے ابو خالد سے نقل کیا کہ میں نے ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے وتر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے اصحاب محمد صلی اللہ عیہ وسلم سے سیکھا اور تم ہم سے سکھ لو کہ وتر نماز مغرب کی طرح ہیں سوائے اس بات کے کہ مغرب کی تیسری میں ہم قرات نہیں کرتے پس یہ دن کے وتر ہیں اور وہ رات کے وتر ہیں (ان کی تیسری رکعت میں قرات کرتے ہیں)

الْوَتْرِ ← سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ← أبو خالدة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1701

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1702

1613 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا شجاع عن سليمان بن مهران عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله بن مسعود قال الوتر ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب

یزید نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وتر تین رکعات ہیں جیسا کہ دن کی طاق نماز مغرب ہے ۔

الوتر ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← شجاع ← أبو بشر الرقي

Hadith 1702

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1703

1614 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن الأعمش عن مالك بن الحارث فذكر مثله إسناده

ابن مرزوق نے مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سےا سی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

مالك بن الحارث فذكر مثله إسناده ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Hadith 1703

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter