شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1656
1570 - وحدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال حدثني معاوية بن صالح عن عبد الله بن أبى قيس قال قلت لعائشة بكم كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر قالت كان يوتر بأربع وثلاث وثمان وثلاث وعشر وثلاث ولم يكن يوتر بأنقص من سبع ولا بأكثر من ثلاث عشرة ففي هذا الحديث ذكرها لما كان يصليه صلى الله عليه و سلم في الليل من التطوع وتسميها إياه وترا الا أنها قد فصلت بين الثلاث وبين ما ذكرت معها وليس في ذلك الا لأن الثلاث كان لها معنى بائن من معنى ما قبلها فدل ذلك على معنى حديث الأسود ومسروق ويحيي بن الجزار عن عائشة أنه كذلك والدليل على ذلك أيضا ما روى عنها من قولها
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کتنے وتر پڑھتے ۔ انہوں نے فرمایا آپ چار اور تین پڑھتے کبھی آٹھ اور تین پڑھتے، اور تین پڑھتے ، سات سے کم کو وتر نہ بناتے اور نہ تیرہ سے زیادہ کو وتر بنا تے۔ اس روایت میں آپ کی رات کی نفل نماز ذکر کی اور اس کا نام وتر رکھا ، البتہ تین اور اس کے ساتھ مذکورہ رکعات میں فاصلہ کیا اور اس کی وجہ واضح ہے کہ تین دوسری رکعات سے معنوی اعتبار سے جدا ہیں ۔ اور اس کا معنی روایت اسود ، مسروق ،یحییٰ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی جیسا ہے اور اس کی دلیل ان کا یہ قول بھی ہے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1656
