Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1644

1558 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدى قال ثنا بن أبى ذئب عن الزهرى فذكر مثله بإسناده ففي هذا الحديث أن جميع ما كان يصليه بعد العشاء الآخرة الى الفجر إحدى عشرة ركعة فقد عاد ذلك الى حديث أبى سلمة وعلمنا به أن تلك الصلاة هى صلاته بعد ما بدن وأما قولها يسلم بين كل ركعتين فإن ذلك محتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين في الوتر وغيره فيثبت بذلك ما يذهب اليه أهل المدينة من التسليم بين الشفع والوتر ويحتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين من ذلك غير الوتر ليتفق ذلك وحديث سعد بن هشام ولا يتضادان مع أنه قد روى عن عروة في هذا خلاف ما رواه الزهرى عنه فمن ذلك ما

ابو عامر عقدی نے ابن ذہب سے انہوں نے زہری سے اور زہری نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ عشاء کی نماز صبح صادق تک آپ کل گیارہ رکعت ادا فرماتے تھے پس اس روایت کا مفہوم روایت ابو سلمہ کی طرف لوٹ گیا کہ اس میں آپ کی اس وقت کی نماز کا تذکرہ ہے جب آپ کا جسم بھاری اور بوجھل ہو گیا تھا التبہ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں دو احتمال ہیں اس روایت میں یہ ہے کہ عشاء کے بعد صبح تک آپ جو نماز ادا فرماتے اس کی تعداد گیارہ رکعت تھی ۔ یہ مفہوم ابو سلمہ کی روایت والا ہے اور ہم یہ بخوبی جان چکے ہیں کہ آپ کی یہ نماز جسم بھاری ہو جانے کے بعد تھی۔ رہا روایت کے یہ الفاظ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں احتمال ہے آپ وتر اور غیر وتر کی ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے تھے ۔ اس سے اہل مدینہ والے وتر ثابت ہو جائیں گے کہ دو رکعت اور ایک کے بعد سلام پھیرا ۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر دو وکعتوں کے مابین سلام پھیرتے جو وتر کے علاوہ ہوتیں ، تاکہ یہ روایت سعد کی روایت کے موافق ہو جائے اور ان میں تضاد نہ رہے اور اس بات کے ساتھ ساتھ کہ عروہ نے اس کے خلاف بھی روایت نقل کی ہے جو اس سے زہری نے نقل کی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1644

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1645

1559 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى بالليل ثلاث عشرة ركعة ثم يصلى إذا سمع النداء ركعتين خفيفتين فهذا خلاف ما في حديث بن أبى ذئب وعمرو ويونس عن الزهرى عن عروة فذلك محتمل أن يكون الركعتان الزائدتان في هذا الحديث هما الركعتان الخفيفتان اللتان ذكرهما سعد بن هشام في حديثه وليس في ذلك دليل على وتره كيف كان فنظرنا في ذلك

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے تھے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی پھلکی رکعات (فجر کی سنتیں) ادا فرماتے ۔ اس میں احتمال ہے کہ اس سے آپ کی وہ نماز مراد ہو جو بدن کےبھاری ہونے سے پہلے تھی تو اس لحاظ سے ان دوخفیف رکعات سمیت جن سے نماز کا اختتام فرماتے یہ رکعات مراد ہوں گی اور دوسرا احتمال یہ آپ کی جسم کے بھاری ہونے کے بعد والی نماز ہو ۔ اس صورت میں گیارہ رکعت اس طرح ہوں گی کہ ان میں سے نو رکعات جن میں وتر بھی شامل ہیں اور دو خفیف رکعات جن کو آپ بیٹھ کر ادا فرماتے جن کا تذکرہ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ۔ جس کا تذکرہ سعد بن ہشام اور عبداللہ بن شقیق کی روایات میں بھی ہے ۔ البتہ مالک نے اپنی روایت میں بعض اضافے نقل کیے ۔ یہ اس روایت کے مخالف ہے جو ابن ابی ذئب اور عمر و یونس نے زہری سے نقل کی ہیں ۔پس اس لحاظ یہ روایت محتمل ہے کہ اس میں دو زائد رکعت مراد ہوں اور یہ وہی دو خفیف رکعات ہیں جن کا تذکرہ سعدہ بن ہشام نے اپنی روایت میں کیا ہے اس میں وتر کی کیفیت کا کچھ بھی تذکرہ نہیں کہ دلیل بن سکے ۔ پس غور سے یہ روایت دیکھیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1645

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1646

1560 - فإذا بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بخمس سجدات يعنى ركعات

ہشام نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم پانچ سجدات یعنی رکعات کے ساتھ وتر بنا لیا کرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← فإذا بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1646

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1647

1561 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث عن هشام عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوتر بخمس سجدات ولا يجلس بينهما حتى يجلس في الخامسة ثم يسلم

لیث سے ہشام عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پانچ سجدات یعنی رکعات کے ساتھ وتر بناتے ان کے درمیان نہ بیٹھتے یہاں تک کہ پانچویں میں بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1647

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1648

1562 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير قال أنا محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر بخمس لا يجلس الا في آخرهن فقد خالف ما روى هشام ومحمد بن جعفر عن عروة ما روى الزهرى من قوله كان يصلى إحدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة ويسلم بين كل ركعتين فلما اضطرب ما روى عن عروة في هذا عن عائشة من صفة وتر رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن فيما روى عنها في ذلك حجة ورجعنا الى ما روى عنها غيره فنظرنا في ذلك

محمد بن جعفر بن زبیر عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پانچ رکعات کو وتر بناتے اور ان کے درمیان میں نہ بیٹھتے بس آخڑ میں بیٹھتے ۔ زہری کی روایت ہشام اور حجر بن جعفر کی روایت کے مخالف ہے کہ آپ گیارہ رکعت ادا فرماتے اور ان میں سے ایک کے ساتھ وتر بنا لیتے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے ۔ پس جب عروہ سے وار د روایات مضطرب ہو گئیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے وتروں کی کیفیت کیا تھی اور ان میں سے کسی روایت کو بطور اختیار نہیں کر سکتے تو ہم نے عروہ کے علاوہ روات کی روایات جو انہوں نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے کیا ہے رجوع کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1648

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1649

1563 - فإذا على بن عبد الرحمن قد حدثنا قال ثنا عبد الغفار بن داود قال ثنا موسى بن أعين عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بتسع ركعات

ابراہیم نے اسود سے انہون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نو رکعتوں سے وتر بناتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ← فإذا على بن عبد الرحمن قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1649

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1650

1564 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا موسى بن أعين عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بتسع ركعات

ابراہیم نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نو رکعات سے وتر بناتے تھے (دو نفل تین وتر)

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1650

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1651

1565 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبو عوانة عن الأعمش عن أبى الضحى عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر بتسع فلما بلغ سنا وثقل أوتر بسبع

مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نو رکعات سے وتر بناتے تھے (4 نفل تین وتر)

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1651

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1652

1566 - حدثنا أبو أيوب يعنى بن خلف الطبراني قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا بن فضيل عن الأعمش عن عمارة عن يحيى بن الجزار عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث أن وتره كان تسعا

یحییٰ بن جزار نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اس روایت میں ہے کہ آپ کے وتر نو رکعت تھے البتہ فہد نے ابراہیم سے جو روایت کی وہ اس سے مختلف ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں اسود نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح نقل کیا کہ آپ کی نماز رات کو نو رکعت ہوا کرتی تھی ۔ اس نے اسود والی روایت کی مخالفت کی ہے ۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ تمام نماز جس کو اس نے وتر سے تعبیر کیا ہے وہ وتر سمیت مکمل نماز تھی اور اس کی دلیل یحییٰ کی روایت میں ہے کہ آپ کی ضعف سے پہلے کی نماز نو رکعت تھی جب آپ کو بڑھاپا آگیا تو آپ نے سات رکعت ادا فرمائیں پس یہ ہشام کی اس روایت کے موافق ہو گئی جس میں آٹھ رکعات کا تذکرہ جن کو پہلے ادا فرماتے اور پھر ایک ملا کران کو وتر بنا لیتے ۔ پھر جب آپ کا جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے ان آٹھ کو چھ میں بدل دیا اور ایک ملا کر سات کو وتر بنا لیا۔ یہ اس طور پر ہے کہ آپ کی تمام نماز جس میں وتربھی شامل تھے انہوں نے اس کا نام وتر رکھا تاکہ یہ آثار متفق ہو کہ ان میں تضاد جاتا رہے البتہ اتنی بات رہے گی کہ وتر کی حقیقت پر روشنی زرارہ کی روایت کے بغیر نہیں پڑ سکتی ۔ پس ہم نے اس میں غور و فکر کیا کہ آیا کوئی روایت ایسی ملتی ہے جس میں وتر کی کیفیت مذکور ہو تو یہ روایات مل گئیں ۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← بن فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أبو أيوب يعنى بن خلف الطبراني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1652

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1653

1567 - الا أن فهدا حدثنا قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن إبراهيم قال أبو جعفر فيما أظن عن الأسود عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلى من الليل تسع ركعات ففى هذا الحديث أن تلك التسع هي صلاته التي كان يصليها في الليل فخالف هذا ما قبله من حديث الأسود واحتمل أن يكون جميع ما سماه وترا هو جميع صلاته التي فيها الوتر والدليل على ذلك ما في حديث يحيى بن الجزار أنه كان يصلى قبل أن يضعف تسعا فلما بلغ سنا صلى سبعا فوافق ذلك ما روى سعد بن هشام في حديثه من الثمان التي كان يصليهن أولا ويوتر بواحدة فلما بدن جعل تلك الثمان ستا وأوتر بالسابعة فدل هذا على أنه سمى جميع صلاته في الليل التي كان فيها الوتر وترا حتى تتفق هذه الآثار فلا تتضاد غير أنا لم نقف بعد على حقيقة الوتر الا في حديث زرارة بن أوفى عن سعد بن هشام خاصة فنظرنا هل في غير ذلك دليل على كيفية الوتر أيضا كيف هى قد حدثنا قال ثنا سعيد بن عقير قال أنا يحيى بن أيوب عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقرأ في الركعتين اللتين كان يوتر بعدهما بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون ويقرأ في التي في الوتر قل هو الله أحد وقل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس

یحییٰ بن سعید نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان دو رکعتوں میں جن میں آخری رکعت کو ملا کر وتر بنانا ہوتا تو اول میں سبح اسم ربک الاعلیٰ دوسری میں قل یا ایھالکافرون اور تیسری جس میں سے ان کو وتر بناتے اس میں قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برلفلق ،الناس پڑھتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أبو جعفر فيما أظن ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← الا أن فهدا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1653

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1654

1568 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي قال ثنا شعيب بن يحيى قال ثنا يحيي بن أيوب عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بثلاث يقرأ في أول ركعة بسبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد والمعوذتين فأخبرت عمرة عن عائشة رضي الله عنها في هذا الحديث بكيفية الوتر كيف كانت ووافقت على ذلك سعد بن هشام وزاد عليها سعد أنه كان لا يسلم الا في آخرهن

حضرت عمرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تین رکعت وتر پڑھے ، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ھو اللہ اور معوذ تین پڑھے۔ اس روایت میں عمرہ نے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے وتروں کی کیفیت ذکر کی ہے سعد بن ہشام کی روایت اس کے موافق ہے اور سعد کی روایت میں یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ وہ آخر میں سلام پھیرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1654

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1655

1569 - حدثنا أبو زرعة عن عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا صفوان بن صالح قال ثنا الوليد بن مسلم عن إسماعيل بن عياش عن محمد بن يزيد الرحبي عن أبى إدريس عن أبى موسى عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في وتره في ثلاث ركعات قل هو الله أحد والمعوذتين فقد وافق هذا الحديث أيضا ما روى سعد وعمرة

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اپنے تین وتروں میں قل ھو اللہ اور معوذ تین پڑھتے ۔ یہ روایت سعد و عمرہ کی روایت کے موافق ہے ۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّحَبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ← أَبُو زُرْعَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1655

chevron_left Previous
12345…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter