شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1644
1558 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدى قال ثنا بن أبى ذئب عن الزهرى فذكر مثله بإسناده ففي هذا الحديث أن جميع ما كان يصليه بعد العشاء الآخرة الى الفجر إحدى عشرة ركعة فقد عاد ذلك الى حديث أبى سلمة وعلمنا به أن تلك الصلاة هى صلاته بعد ما بدن وأما قولها يسلم بين كل ركعتين فإن ذلك محتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين في الوتر وغيره فيثبت بذلك ما يذهب اليه أهل المدينة من التسليم بين الشفع والوتر ويحتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين من ذلك غير الوتر ليتفق ذلك وحديث سعد بن هشام ولا يتضادان مع أنه قد روى عن عروة في هذا خلاف ما رواه الزهرى عنه فمن ذلك ما
ابو عامر عقدی نے ابن ذہب سے انہوں نے زہری سے اور زہری نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ عشاء کی نماز صبح صادق تک آپ کل گیارہ رکعت ادا فرماتے تھے پس اس روایت کا مفہوم روایت ابو سلمہ کی طرف لوٹ گیا کہ اس میں آپ کی اس وقت کی نماز کا تذکرہ ہے جب آپ کا جسم بھاری اور بوجھل ہو گیا تھا التبہ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں دو احتمال ہیں اس روایت میں یہ ہے کہ عشاء کے بعد صبح تک آپ جو نماز ادا فرماتے اس کی تعداد گیارہ رکعت تھی ۔ یہ مفہوم ابو سلمہ کی روایت والا ہے اور ہم یہ بخوبی جان چکے ہیں کہ آپ کی یہ نماز جسم بھاری ہو جانے کے بعد تھی۔ رہا روایت کے یہ الفاظ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں احتمال ہے آپ وتر اور غیر وتر کی ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے تھے ۔ اس سے اہل مدینہ والے وتر ثابت ہو جائیں گے کہ دو رکعت اور ایک کے بعد سلام پھیرا ۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر دو وکعتوں کے مابین سلام پھیرتے جو وتر کے علاوہ ہوتیں ، تاکہ یہ روایت سعد کی روایت کے موافق ہو جائے اور ان میں تضاد نہ رہے اور اس بات کے ساتھ ساتھ کہ عروہ نے اس کے خلاف بھی روایت نقل کی ہے جو اس سے زہری نے نقل کی ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1644
