شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1632
1548 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو حرة قال ثنا الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام من الليل افتتح صلاته بركعتين خفيفتين ثم صلى ثمان ركعات ثم أوتر فأخبرت هاهنا أنه كان يصلى ركعتين ثم ثمانيا ثم يوتر فكان معنى ثم يوتر يحتمل ثم يوتر بثلاث منهن ركعتان من الثمان وركعة بعدها فيكون جميع ما صلى إحدى عشرة ركعة ويحتمل ثم يوتر بثلاث متتابعات فيكون جميع ما صلى ثلاث عشرة ركعة فنظرنا فيما يحتمل من ذلك هل جاء شيء يدل على شيء منه بعينه
سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعات پڑھ کر شروع فرماتے پھر آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہاں خبر دی کہ آپ رات کی نماز دو رکعت پڑھتے ، پھرآٹھ رکعت ادا فرماتے پھر وتر پڑھتے پس " تم بوتر" کا معنی احتمال رکھتا ہے کہ تین رکعت وتر پڑھتے آٹھ رکعت میں دو رکعت اور ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا اس طرح تمام مل کر گیارہ رکعت پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ تین مسلسل رکعات وتر پڑھتے اس طرح آپ کی مجموعی رکعات کی تعداد گیارہ رکعت ہو جاتی ۔ پھر ہم نے ان احتمالات میں غور کیا کہ آیا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے کیا اس سلسلہ میں کوئی بات روایت میں وارد ہوئی ہے جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو ۔
عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1632
