Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1632

1548 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو حرة قال ثنا الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام من الليل افتتح صلاته بركعتين خفيفتين ثم صلى ثمان ركعات ثم أوتر فأخبرت هاهنا أنه كان يصلى ركعتين ثم ثمانيا ثم يوتر فكان معنى ثم يوتر يحتمل ثم يوتر بثلاث منهن ركعتان من الثمان وركعة بعدها فيكون جميع ما صلى إحدى عشرة ركعة ويحتمل ثم يوتر بثلاث متتابعات فيكون جميع ما صلى ثلاث عشرة ركعة فنظرنا فيما يحتمل من ذلك هل جاء شيء يدل على شيء منه بعينه

سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعات پڑھ کر شروع فرماتے پھر آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہاں خبر دی کہ آپ رات کی نماز دو رکعت پڑھتے ، پھرآٹھ رکعت ادا فرماتے پھر وتر پڑھتے پس " تم بوتر" کا معنی احتمال رکھتا ہے کہ تین رکعت وتر پڑھتے آٹھ رکعت میں دو رکعت اور ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا اس طرح تمام مل کر گیارہ رکعت پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ تین مسلسل رکعات وتر پڑھتے اس طرح آپ کی مجموعی رکعات کی تعداد گیارہ رکعت ہو جاتی ۔ پھر ہم نے ان احتمالات میں غور کیا کہ آیا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے کیا اس سلسلہ میں کوئی بات روایت میں وارد ہوئی ہے جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو ۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1632

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1633

فإذا إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن سليمان الباغندي قد حدثانا قالا حدثنا أبو الوليد ثنا حصين بن نافع العنبري عن الحسن عن سعد بن هشام قال دخلت على عائشة رضي الله عنها فقلت حدثينى عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلى بالليل ثمان ركعات ويوتر بالتاسعة فلما بدن صلى ست ركعات وأوتر بالسابعة وصلى ركعتين وهو جالس ففي هذا الحديث أنه كان يوتر بالتاسعة فذلك محتمل أن يكون يوتر بالتاسعة مع اثنتين من الثمان التي قبلها حتى يتفق هذا الحديث وحديث زرارة ولا يتضادان

سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا اور میں نے کہا مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتلائیے تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو آٹھ رکعت ادا فرماتے اور نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آپ کا بدن بھاری ہو گیا ۔(بڑھاپا آگیا) تو چھ رکعت ساتویں ملا کر وتر بنا لیتے اور پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اس روایت میں یہ ہے کہ آپ نویں رکعت کے ساتھ وتر بنا لیتے پس اس میں احتمال ہے آٹھوں میں آخری دو رکعت کے ساتھ تیری ملا کر ان کو وتر بنا لیتے تاکہ یہ اور زرارہ والی روایت متفق ہو جائیں اور انکا تضاد نہ رہے ۔

صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت على عائشة فقلت حدثينى ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← فإذا إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن سليمان الباغندي قد حدثانا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1633

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1634

1549 - حدثنا بكار قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حرة عن الحسن عن سعد بن هشام الأنصاري أنه سأل عائشة رضي الله عنها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان يصلى العشاء ثم يتجوز بركعتين وقد أعد سواكه وطهوره فيبعثه الله لما شاء أن يبعثه فيتسوك ويتوضأ ثم يصلى ركعتين ثم يقوم فيصلى ثمان ركعات يسوى بينهن في القراءة ثم يوتر بالتاسعة فيبعثه الله لما شاء أن يبعثه فيتسوك ويتوضأ ثم يصلى ركعتين ثم يقوم فيصلى ثمان ركعات يسوى بينهن في القراءة ثم يوتر بالتاسعة فلما أسن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأخذه اللحم جعل تللك الثمانى ستا ثم يوتر بالسابعة ثم يصلى ركعتين وهو جالس يقرأ فيهما بقل يا أيها الكافرون وإذا زلزلت الأرض ففي هذا الحديث أنه كان يصلى قبل الثمانى التي يوتر بتاسعتهن أربعا فجميع ذلك ثلاث عشرة ركعة منها الوتر الذي فسره زرارة عن سعد عن عائشة رضي الله عنها وهو ثلاث ركعات لا يسلم الا في آخرهن فقد صحت رواية سعد عن عائشة وثابت على ما ذكرنا وقد روى عبد الله بن شقيق عن عائشة في ذلك ما

سعد بن ہشام انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے سلسلہ میں دریافت کیا تو وہ فرمانے لگیں آپ عشء کی نماز ادا فرماتے پھر آپ مختصر دو رکعت ادا فرماتے آپ کی مسواک اور پانی والا لوٹا تیار ہوتا پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا آپ کو بیدار کر دیتا آپ مسواک کرتے پھر وضو کرتے پھر دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر آپ کھڑے ہو کر آٹھ رکعت ادا فرماتے ان میں ایک جیسی قراء ت فرماتے پھر نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے اس روایت میں ہے کہ آپ جن آٹھ رکعات کے ساتھ نوویں ملا کر وتر بناتے ان میں پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ،پھر یہ ملا کر تیرہ رکعت بن جاتیں جن میں وہ ور بھی شامل تھے جن کا زرارہ نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے اور زرارہ نے وہ حضرت عائشہ صدیقہ اور سعد رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے اور وہ تین رکعات ہیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرتے تھے پس حضرت سعد کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ اور ثابت رضی اللہ عنہم درست ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور عبداللہ بن شقیق نے بھی حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے ۔

سعد بن هشام الأنصاري: ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1634

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1635

1550 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا هشيم بن بغير قال أنا خالد الحذاء قال أنا عبد الله بن شقيق قال سألت عائشة عن تطوع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان إذا صلى بالناس العشاء يدخل فيصلى ركعتين قالت وكان يصلى من الليل تسع ركعات فيهن الوتر فإذا طلع الفجر صلى ركعتين في بيتي ثم يخرج فيصلى بالناس صلاة الفجر ففي هذا الحديث أنه كان يصلى إذا دخل بيته بعد العشاء ركعتين ومن الليل تسعا فيهن الوتر فذلك عندنا على تسع غير الركعتين اللتين كان يخفهما على ما قال سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفتتح صلاته من الليل ركعتين خفيفتين وانما حملنا معنى حديث عبد الله بن شقيق على هذا المعنى ليتفق هو وحديث سعد بن هشام ولا يتضادان وقد روى أبو سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها في ذلك ما قد

عبداللہ بن شقیق نے بتلایا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز میں متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگیں جب آپ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا لیتے گھر میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر رات کو نو رکعت نماز ادا فرماتے جن میں وتر تین عدد بھی ہوتے ( جیسا گزشتہ روایت میں گزرا) جب فجر طلوع ہوتی تو میرے گھر میں دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر لوگوں کو فجرکی نماز پڑھانے کے لیے باہر تشریف لاتے ۔ اس روایت میں اس طرح فرمایا کہ جب آپ رات کو گھر تشریف لاتے تو دو رکعت ادا فرماتے اور رات کو نو رکعت اداور فرماتے جن میں وتر بھی ہوتے تھے ۔یہ نو رکعات ہمارے ہاں ان دو کے علاوہ ہیں جن کو ہلکا پھلکا ادا فرماتے ۔ جیسا سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اپنی رات کی نماز دو خفیف رکعات سے شروع فرماتے ہم عبداللہ بن شقیق کی روایت کا یہ معنی کیا ہے تاکہ یہ روایت اور سعد بن ہشام کی روایت میں تضاد نہ رہے۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هشيم بن بغير ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1635

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1636

1551 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبان بن يزيد قال ثنا يحيى بن أبى كثير قال ثنا أبو سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلى من الليل ثلاث عشرة ركعة يصلى ثمان ركعات ثم يوتر بركعة ثم يصلى ركعتين وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع وصلى بين أذان الفجر والإقامة ركعتين فيحتمل أن يكون الثمان ركعات التي أوتر بتاسعتهن في هذا الحديث هى الثمان ركعات التي ذكر سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى قبلهن أربع ركعات ليتفق هذا الحديث وحديث سعد ويكون هذا الحديث قد زاد على حديث سعد وحديث عبد الله بن شقيق تطوع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد الوتر ويحتمل أيضا أن يكون هذه التسع هى التسع التي ذكرها سعد بن هشام في حديثه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصليها لما بدن فيكون ذلك تسع ركعات مع الركعتين الخفيفتين اللتين كان يفتتح بهما صلاته ثم كان يصلى بعد الوتر ركعتين جالسا بدلا مما كان يصليه قبل أن يبدن قائما وهو ركعتان فقد عاد ذلك أيضا الى ثلاث عشرة ركعة

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے آٹھ رکعت ادا فرماتے پھر ایک رکعت ملا کر ان کو وتر بنا لیتے یعنی آخری دو کے ساتھ تیسری ملا کر وتر بنا تے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے پس جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے اور فجر کی اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت (فجر کی سنتیں ) پڑھتے ۔ اس روایت میں احتمال ہے کہ وہ آٹھ رکعات جن کے ساتھ ایک ملا کر ان کو وتر بنایا یہ وہی آٹھ رکعات ہو جن کا تذکرہ سعد بن ہشام کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان سے پہلے چار رکعت ادا فرماتے تاکہ یہ روایت سعد والی روایت سے متفق ہو جائے اور اس حدیث سے سعد والی روایت اور عبد اللہ بن شقیق والی روایت پر اضافہ ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم وتر کے بعد نفل پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ نو وہی رکعت ہوں جن کا تذکرہ سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں کیا ہے ۔ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان کو ادا فرماتے رہے جب آپ کا ان کا بدن مبارک بھاری ہو گیا پس وہی نو رکعات دو خفیف رکعات سمیت رہیں جن سے آپ اپنی نماز کو شروع فرماتے ، پھر وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر ان کے بدلے میں ادا فرماتے جن کو آپ بدن بھاری ہونے سے پہلے ادا فرماتے تھے اور وہ دو رکعت ہوتیں اس طرح یہ بھی تیرہ رکعت کی طرف بات لوٹ گئی ۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1636

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1637

1552 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل الخزاز قال ثنا على بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبى كثير عن أبى سلمة قال سألت عائشة رضي الله عنها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان يصلى ثلاث عشرة ركعة يصلى ثمان ركعات ثم يصلى ركعتين وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع قائما ثم يسجد وكان يصلى ركعتين بين الأذان والإقامة من صلاة الصبح فهذا الحديث معناه معنى حديث أحمد بن داود عن سهل غير أنه ترك ذكر الوتر

ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے سلسلہ میں سوال کیا تو کہنے لگیں آپ تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور آپ آٹھ رکعت پڑھتے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ان میں جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہوکر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے اور دو رکعت (سنت فجر ) نماز صبح کی اقامت و اذان کے درمیان پڑھتے۔ پس یہ روایت اس کا وہی معنی ہے جو احمد بن داؤد کی سہل والی روایت کا ہے ۔ التبہ اس میں وتر کا ذکر اس سے چھوڑ دیا ۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1637

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1638

1553 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى بالليل إحدى عشرة ركعة منها ركعتان وهو جالس ويصلى ركعتين قبل الصبح فذلك ثلاث عشرة ركعة فقد وافق هذا الحديث أيضا حديث أحمد بن داود وقولها يصلى ركعتين قبل الصبح يعنى قبل صلاة الصبح وهما الركعتان اللتان ذكرهما أحمد بن داود في حديثه أنه كان يصليهما بين الأذان والإقامة

ابو سلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے ان میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اور دو رکعت نماز صبح سے پہلے یہ تیرہ رکعت ہوئیں ۔ یہ روایت بھی احمد بن داؤد والی روایت کے موافق ہو گئی اور روایت کے یہ الفاظ " یصلی رکعتین قبل الصبح" کا مطلب یہ ہے کہ نماز صبح سے پہلے دو رکعت ادا فرماتے ہیں دو رکعات ہیں جن کا تذکرہ احمد بن داؤد نے اپنی روایت میں کیا ، یہ وہی رکعات ہیں جن کو آپ اذان و اقامت کے درمیان ادا فرماتے تھے ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1638

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1639

1554 - حدثنا أحمد بن أبى عمران قال ثنا القواريرى ح

احمد بن ابی عمران نے کہا کہ ہمیں القواریری نے بیان کیا ۔ یہ روایت بھی ابو سلمہ والی روایت کے موافق ہے ۔

الْقَوَارِيرِيُّ ← أحمد بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1639

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1640

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا حامد بن يحيى قالا ثنا سفيان قال ثنا بن أبى لبيد قال سمعت أبا سلمة يقول دخلت على عائشة رضي الله عنها فسألتها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان صلاته في رمضان وغيره ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر فقد وافق هذا الحديث أيضا ما رويناه قبله من أحاديث أبى سلمة

ابن ابی الولید کہتے ہیں میں نے ابو سلمہ کو کہتے سنا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی روات کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو فرمانے لگیں آپکی نماز رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعت ہوتی تھی ان میں فجر کی دو رکعت بھی تھیں ۔

صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل ← دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا ← أَبَا سَلَمَةَ ← بن أبي لبيد ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1640

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1641

1555 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن سعيد بن أبى سعيد المقبري عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره أنه سأل عائشة كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلى أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلى أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلى ثلاثا قالت عائشة فقلت يا رسول الله أتنام قبل ان توتر قال يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي فيحتمل هذا الحديث أن يكون قولها ثم يصلى ثلاثا تريد يوتر باحداهن اثنتين من الثمان ثم يصلى الركعتين الباقيتين وهما الركعتان اللتان ذكرهما أبو سلمة فيما تقدم مما روينا عنه أنه كان يصليهما وهو جالس حتى يتفق هذا الحديث وما تقدمه من أحاديثه ويحتمل أن يكون الثلاث وترا كلها وهو أغلب المعنيين لأنها قد فصلت صلاته فقالت كان يصلى أربعا ثم أربعا ووصفت ذلك كله بالحسن والطول ثم قالت ثم يصلى ثلاثا ولم تصف ذلك بطول وجمعت الثلاث بالذكر فذلك عندنا على الوتر فيكون جميع ما كان يصليه إحدى عشرة ركعة مع الركعتين الخفيفتين اللتين في حديث سعد بن هشام أو مع الركعتين اللتين كان يصليهما وهو جالس بعد الوتر وهذا أشبه بروايات أبى سلمة لأن جميعها تخبر عن صلاته بعد ما بدن وحديث سعد بن هشام يخبر عن صلاته بعد ما بدن وعن صلاته قبل ذلك وقد روى عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها في ذلك ما

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی تو فرمانے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز ادا نہیں فرماتے تھے آپ صلی اللہ عیہ وسلم چار رکعت پڑھتے انکی خوبی کے متعلق مت پوچھو اور انکی درازی مت پوچھ پھر چار پڑھتے ان کے حسن و طول کا مت سوال کرو۔ پھر تین رکعت (وتر) پڑھتے ۔ پس اس روایت میں احتمال ہے کہ روایت کے الفاظ " تم یصلی ثلاثا" اس سے مراد ان آٹھ رکعت میں سے دو کے ساتھ ایک ملا کر وتر تین پڑھتے اور پھر وہ رکعات پڑھتے جن کا تذکرہ ابو سلمہ کی روایت میں پہلے گزر ا کہ آپ ان کو بیٹھ کر ادا فرماتے تا کہ یہ روایت پہلی روایات کے موافق ہو جائے اور اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ تین وترہوں اور یہ مفہوم زیادہ شاندار ہے ۔ کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ چار رکعت اور انکی پھر عمدگی اور طوالت میں تعریف فرمائی پھر فرماتی ہیں کہ پھر آپ تین رکعت ادا فرماتے ان کے متعلق یہ بیان نہیں کیا کہ وہ لمبی ہوتی تھیں اور آپ نے تین رکعات کا اکٹھا ذکر کیا ہمارے ہاں اس سے وتر مراد ہیں ۔ اسی طرح آپ کی تمام نفلی نماز گیارہ رکعت ٹھہری اس کے ساتھ وہ دو خفیف رکعات ملائیں جن کا تذکرہ سعد بن ہشام کی روایت میں ہے جن کو آپ وتروں کے بعد بیٹھ کر ادا فرماتے تو اس طرح تیرہ رکعت بن گئیں ۔یہ معنی ابو سلمہ کی روایت سے زیادہ مطابقت کرنے والا ہے ، کیونکہ تمام روایات میں آپ کے جسم کے بھاری ہونے کے بعد کی نماز کی خبر دی ہے اور سعد بن ہشام کی روایت مین بدن کے بھاری ہونے سے پہلے اور بعد دونوں نمازوں کا ذکر کیا ہے عروہ کی روایت ملاحظہ ہو۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1641

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1642

1556 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى من الليل إحدى عشرة ركعة ويوتر منها بواحدة فإذا فرغ منها اضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن فيصلى ركعتين خفيفتين فهذا يحتمل أن يكون على صلاته بعد ما بدن فيكون ذلك على إحدى عشرة منها تسع فيها الوتر وركعتان بعدهما وهو جالس على ما في حديث أبى سلمة وعلى ما في حديث سعد بن هشام وعبد الله بن شقيق غير أن غير مالك روى هذا الحديث فزاد فيه شيئا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کی نماز گیارہ رکعت ادا فرماتے اور ایک کوشفعہ کے ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آ پ فارغ ہو جاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ موذن آتا تو دو خفیف رکعتیں (فجر کی سنتیں ) ادا فرماتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1642

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1643

1557 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس وعمرو بن الحارث وابن أبى ذئب عن بن شهاب أخبرهم عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويوتر بواحدة ويسجد سجدة قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية فإذا سكت المؤذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن للاقامة فيخرج معه وبعضهم يزيد على بعض في قصة الحديث

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نماز عشاء کی فراغت سے لے کر نماز فجر تک کے دوران گیارہ رکعت ادا فرماتے ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر بنالیتے اور تمہارے پچاس آیات پڑھنے کی مقدار ایک سجدہ یعنی رکعت ادا کرتے جب موذن نماز فجر سے خاموش ہو جاتا اور فجر روشن ہو جات تو وہ ہلکی پھلکی رکعتیں ادا فرماتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ موذن آتا پس آپ نماز کے لیے نکلتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← يونس وعمرو بن الحارث وابن أبى ذئب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1643

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter