Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1620

1537 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا فطر عن حبيب بن أبى ثابت عن طاوس قال سمعت بن عمر رضي الله عنهما يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے تھے کہ رات کی نماز دو دو رکعت جب صبح کا خطرہ ہو تو ایک ملا لے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← طَاوْسٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1620

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1621

1538 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن بديل بن ميسرة وأيوب عن عبد الله بن شقيق عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن شقیق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَأَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1621

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1622

1539 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا يحيى بن صالح قال ثنا معاوية بن سلام عن يحيي بن أبى كثير عن أبى سلمة ونافع عن بن عمر رضي الله عنهما أخبرهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح خبر د ی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عمر أخبرهما ← أَبِي سَلَمَةَ وَنَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1622

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1623

حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمي عبد الله بن وهب قال ثنا عمرو بن الحارث عن بن شهاب عن سالم وحميد بن عبد الرحمن حدثاه عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سالم اور حمید نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سالم وحميد بن عبد الرحمن حدثاه ← بن شِهَابٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1623

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1624

1540 - حدثنا أحمد بن أبى داود بن موسى قال ثنا علي بن بحر القطان قال ثنا الوليد بن مسلم عن الوضين بن عطاء قال أخبرني سالم بن عبد الله بن عمر أنه كان يفصل بين شفعه ووتره بتسليمة وأخبر بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك فقد أخبر أنه كان يصلى شفعا ووترا وذلك في الجملة كله وتر وقوله يفصل بتسليمة يحتمل أن يكون تلك التسليمة يريد بها التشهد ويحتمل أن يكون التسليم الذي يقطع الصلاة فنظرنا في ذلك

سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعت کے اور ایک رکعت کے مابین سلام سے فاصلہ کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ شفع اور وتر تین رکعت پڑھتے تھے اور یہ مجموعہ بھی وتر تھا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول " کان یفضل بتسلیمۃ" عین ممکن ہے کہ تسلیم سے تشہد مراد ہوا اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ سلام جس سے نماز کو منقطع کرتے ہیں پس اس میں ہم غور کرتے ہیں ۔ روایات ملاحظہ ہو ۔

الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← علي بن بحر القطان، ← أحمد بن أبى داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1624

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1625

1541 - فإذا يونس قد حدثنا قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يسلم بين الركعة والركعتين في الوتر حتى يأمر ببعض حاجته

نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعتوں اور اس رکعت کے درمیان سلام پھیرتے یہاں تک کہ اپنی بعض حاجات و ضروریات کا حکم فرماتے ۔

بن وهب أن مالكا ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1625

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1626

1542 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن منصور عن بكر بن عبد الله قال صلى بن عمر رضي الله عنهما ركعتين ثم قال يا غلام أرحل لنا ثم قام فأوتر بركعة ففي هذه الآثار أنه كان يوتر بثلاث ولكنه كان يفصل بين الواحدة والاثنتين فقد اتفق عنه في الوتر أنه ثلاث وقد جاء عنه من رأيه أيضا ما يدل على أن قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي ذكرناه كما وصفنا أنه يحتمل من التأويل

بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر فرمایا اے لڑکے کجا وہ باندھو پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت سے اس کو وتر بنایا۔ یہ آثار واضح کر رہے ہیں کہ آپ تین رکعات وتر پڑھتے تھے مگر دو رکعت اور ایک رکعت کے درمیان فاصلہ کرتے تھے ۔ پس آپ وتروں کی رکعات کے تین ہونے پر متفق ہیں اور آپ کی وہ رائے جو روایت میں وارد ہے وہ ہمارے بیان کے مطابق تاویل کا احتمال رکھتی ہے ۔

صلى بن عمر ركعتين ثم ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1626

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1627

1543 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة عن عقبة بن مسلم قال سألت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن الوتر فقال أتعرف وتر النهار قلت نعم صلاة المغرب قال صدقت أو أحسنت ثم قال بينا نحن في المسجد قام رجل فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوتر أو عن صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشيت الصبح فأوتر بواحدة أفلا ترى أن بن عمر حين سأله عقبة عن الوتر فقال أتعرف وتر النهار أي هو كهو وفي ذلك ما ينبئك أن الوتر كان عند بن عمر ثلاثا كصلاة المغرب إذ جعل جوابه لسائله عن وتر الليل أتعرف وتر النهار صلاة المغرب ثم حدثه بعد ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم بما ذكرنا فثبت أن قوله فأوتر بواحدة أي مع شيء تقدمها توتر بتلك الواحدة مما صليت قبلها وكل ذلك وتر وقد بين ذلك أيضا بما

عقبہ بن مسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وتر کس کیفیت سے؟ تو انہوں نے فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ! وہ نماز مغرب ہے تو انہوں نے فرمایا تم نے درست جواب دیا فرمایا بہت خوب جواب دیا پھر کہنے لگے ہم مسجد میں تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر یا رات کی نماز کا سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو ہے جب تمہیں صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت ساتھ ملا کر اس کو طاق بنا لو۔ کیا یہ بات تمہارے سامنے نہیں کہ جب حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وتروں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو۔ یعنی یہ بھی ان کے مشابہ ہیں ۔ اس میں اس بات کی اطلاع ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں وتر تین رکعت نماز مغرب کی طرح ہیں کیونکہ آپ نے رات کے وتروں سے متعلق سوال کرنے والے کو فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو اور وہ نماز مغرب ہے اس کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات بیان کی جس کو ہم ذکر کر آئے پس اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ آپ کا یہ فرمان ایک کے ساتھ وتر بنا لو ۔ یعنی جو کچھ پہلے پڑھا ہے اس کے ساتھ ایک رکعت ملا کر ان کو وتر بنا لو یہ مجموعہ طاق ہو گا۔ یہ بات آئندہ روایت میں واضح ہے ۔

عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1627

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1628

1544 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال ثنا محمد بن جعفر قال أخبرني موسى بن عقبة عن أبى إسحاق عن عامر الشعبي قال سألت بن عباس وابن عمر رضي الله عنهما كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقال ثلاث عشرة ركعة ثمان ويوتر بثلاث وركعتين بعد الفجر هكذا في النسخ

عامر شعبی کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات والی نماز کس طرح تھی تو انہوں نے جواب دیا تیرہ رکعت ہوتی تھی آٹھ اور تین وتر اور طلوع صبح صادق کے بعد دو رکعت ۔

ابن عمر كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سألت بن عباس ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1628

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1629

1545 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال حدثني المطلب بن عبد الله المخزومي أن رجلا سأل بن عمر رضي الله عنهما عن الوتر فأمره أن يفصل فقال الرجل انى لأخاف أن يقول الناس هي البتيراء فقال بن عمر رضي الله عنهما تريد سنة الله ورسوله صلى الله عليه و سلم هذه سنة الله ورسوله صلى الله عليه و سلم وقد روى عن عائشة رضي الله عنها في ذكرها وتر النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على حقيقة ما ذكرنا

مطلب بن عبداللہ المخزومی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وتر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا درمیان میں فاصلہ کر ے اس آدمی نے کہا تو لوگ وتر کو بتیرا (دم کٹی) کہنا شروع کر یں گے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےکہا اگر تم وتر کا سنت طریقہ چاہتے ہو تو وہ یہی ہے اور سنت اللہ اور سنت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے یعنی لوگ کچھ کہیں اس کو ترک نہیں کر سکتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کا تذکرہ فرمایا اس میں حقیقت کی طرف راہنمائی ملتی ہے ۔

الناس هي البتيراء ← الرجل انى لأخاف أن ← الْوِتْرِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَفْصِلَ، ← المطلب بن عبد الله المخزومي أن رجلا سأل بن عمر ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1629

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1630

1546 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا شجاع بن الوليد عن سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها قالت كان نبي الله صلى الله عليه و سلم لا يسلم في ركعتي الوتر

سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہ پھیرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1630

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1631

1547 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع عن سعيد فذكر بإسناده مثله فأخبرت أن الوتر ثلاثا لا يسلم بين شيء منهن ثم قد روى عن عائشة رضي الله عنها بعد هذا أحاديث في الوتر إذا كشفت رجعت الى معنى حديث سعد هذا فمن ذلك ما

محمد بن المنہال کہتے ہیں ہمیں یزید بن زریع نے انہوں نے سعید پھر سعید نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ پس حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ وتر تین رکعت ہیں اور ان کے مابین بالکل سلام نہ پھیرے پھر اس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب ان کو کھولا جائے گا تو ان کا مفہوم حضرت سعد رضی اللہ عنہ والی روایت کی طرف لوٹ آتا ہے ان میں سے یہ روایت ہے ۔

أن الوتر ثلاثا لا يسلم بين شيء منهن ثم قد روى ← بإسناده مثله ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1631

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter