شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1716
1627 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا خالد بن نزار الأيلي قال ثنا عبد الرحمن بن أبى الزناد عن أبيه عن السبعة سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير والقاسم بن محمد وأبى بكر بن عبد الرحمن وخارجة بن زيد وعبيد الله بن عبد الله وسليمان بن يسار في مشيخة سواهم أهل فقه وصلاح وفضل وربما اختلفوا في الشيء فأخذ بقول أكثرهم وأفضلهم رأيا فكان مما وعيت عنهم على هذه الصفة أن الوتر ثلاث لا يسلم الا في آخرهن فهذا من ذكرنا من فقهاء المدينة وعلمائهم قد أجمعوا أن الوتر ثلاث لا يسلم الا في آخرهن وتابعهم على ذلك عمر بن عبد العزيز ولم ينكر ذلك منكر سواهم وقد علم سعيد بن المسيب ما كان من وتر سعد فأفتى بغيره ورآه أولى منه وقد أفتى عروة بن الزبير بذلك أيضا وقد روى عنه الزهرى وابنه هشام في الوتر ما قد تقدمت روايتنا له في هذا الباب فهذا عندنا مما لا ينبغي خلافه لما قد شهد له من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم فعل أصحابه وأقوال أكثرهم من بعده ثم اتفق عليه تابعوهم
ابو العوام محمد بن عبداللہ نے اپنے اسناد کے ساتھ ابوالزناد سے نقل کیا کہ مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ ابن المسیب ، عروہ ، قاسم ، ابو بکر بن عبدالرحمان ، خارجہ بن زید ، عبداللہ بن عبد اللہ ، سلیمان بن یسار یہ اپنے علاوہ مشائح اور فضیلت و صلاحیت والے فقہاء کے سامنے مسائل بیان کرتے ۔ بسا اوقات کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو پھر ان میں اکثریت کے قول کو اور افضل ترین کے قول کو لیتے ۔ پس میں نے ان سے اس سلسلہ میں جو یاد کیا وہ یہی تھا کہ وتر تین ہیں اور ان کے آخر سلام پھیرا جائے گا ۔ پس یہ فقہاء و علماء مدینہ منورہ جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وتر تین ہیں ۔ آخر میں سلام پھیرتے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی متابعت کی اور کسی انکار کرنے والے نے اس کا انکار نہیں کیا ۔ ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے وتروں کا علم تھا اس کے باوجود انہوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ اور ان کے عمل سے اس کو اولیٰ گردانا اور عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کا فتویٰ دیا۔ اور ان سے زہری اور ان کے بیٹے ہشام نے بھی روایت کی جو اسی بابت میں گزر چکی ۔ یہ ہمارے ہاں ایسا عمل ہے کہ اس کی خلاف ورزی مناسب نہیں اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی حدیث اس کی شاہد ہے اور پھر اس عمل کو آپ کے بعد آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اختیار کیا اور ان میں سے اکثریت کے اقوال بھی اس کی تائیدمیں ہیں پھرتا بعین کرام کا اس پر اتفاق ہو گیا۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1716
