Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1595

1513 - حدثنا الحسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن محمد بن الحنفية عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مفتاح الصلاة الطهور واحرامها التكبير واحلالها التسليم فذهب قوم الى أن الرجل إذا انصرف من صلاته بغير تسليم فصلاته باطلة لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال تحليلها التسليم فلا يجوز أن يخرج منها بغيره خالفهم في ذلك آخرون فافترقوا على قولين فمنهم من قال إذا قعد مقدار التشهد فقد تمت صلاته وان لم يسلم ومنهم من قال إذا رفع رأسه من آخر سجدة من صلاته فقد تمت صلاته وان لم يتشهد ولم يسلم وكان من الحجة للفريقين جميعا على أهل المقالة الأولى أن ما روى عن النبي صلى الله عليه و سلم من قوله تحليلها التسليم إنما روي عن علي رضي الله عنه وقد روي عن علي رضي الله عنه من رأيه في مثل ذلك ما يدل على أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك كان عنده على غير ما حمله عليه أهل المقالة الأولى فذكروا ما قد

محمد بن حنفیہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کا تحریمہ تکبیر اور اس کی تحلیل (حلال ہونا ، نکلنا) سلام ہے ۔ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ آدمی جب اپنی نماز سے سلام کے بغیر باہر آجائے تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام تحلیل صلاۃ قرار دیا ۔ پس سلام کے بغیر نماز سے نکلنا جائز نہیں جبکہ دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کیا پھر ان کی دو جماعتیں بن گئیں ۔ بعض نے تو کہا کہ جب وہ تشہد کی مقدار بیٹھ جائے تو اسکی نماز مکمل ہو جائے گی خوہ وہ سلام نہ پھیرے اور دیگر کا قول یہ ہے کہ جب وہ اپنی نماز کی آخری رکعت کے آخری سجدہ سے سر اٹھائے گا تو اس کی نماز مکمل ہو گئی خواہ وہ سلام تشہد نہ پڑھے ۔ ان دونوں گروں نے پہلے قول کے قائلین کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ روایت " تحلیلھا التسلم " یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنا فتویٰ بھی خود اس کی تصدیق کرتا ہے اب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کے ہاں اس قول کا وہ معنی نہیں جو پہلے قول والوں نے اختیار کیا ہے ۔ پس انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1595

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1596

1514 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم عن أبى عوانة عن الحكم عن عاصم بن ضمرة عن على رضي الله عنه قال إذا رفع رأسه من آخر سجدة فقد تمت صلاته فهذا علي رضي الله عنه قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال تحليلها التسليم ولم يكن ذلك عنده على أن الصلاة لا تتم الا بالتسليم إذ كانت تتم عنده بما هو قبل التسليم وكان معنى تحليلها التسليم عنده أيضا هو التحليل الذي ينبغي أن يحل به لا بغيره والتمام الذي لا يجب بما يحدث بعده إعادة الصلاة غيره فإن قال قائل قد قال تحريمها التكبير فكان هو الذي لا يدخل فيها الا به فكذلك لما قال وتحليلها التسليم كان كهو أيضا لا يخرج منها الا به قيل له انه لا يجوز الدخول في الأشياء الا من حيث أمر به من الدخول فيها وقد يخرج من الأشياء من حيث أمر أن يخرج به منها ومن غير ذلك كم ذلك أنا قد رأينا النكاح قد نهى أن يعقد على المرأة وهى في عدة وكان من عقده عليها وهى كذلك لم يكن بذلك مالكا لبعضها ولا وجب له عليها نكاح في أشباه لذلك كثيرة يطول بذكرها الكتاب وأمر أن لا يخرج منه الا بالطلاق الذي لا إثم فيه وأن تكون المطلقة طاهرا من غير جماع فكان من طلق على غير ما أمر به من ذلك فطلق ثلاثا أو طلق امرأته حائضا يلزمه ذلك وان كان إثما ويخرج بذلك الطلاق المنهى عنه من النكاح الصحيح فكان قد تثبت الأسباب التي تملك بها الأبضاع كيف هي والأسباب التي تزول بها الأملاك عنها كيف هو ونهوا عما خالف ذلك أوشيئا منه فكان من فعل ما نهى عنه من ذلك ليدخل به في النكاح لم يدخل به فيه وإذا فعل شيئا منه ليخرج به من النكاح خرج به منه فلما كان لا يدخل في الأشياء الا من حيث أمر به والخروج منها قد يكون من حيث أمر به وقد يكون بغير ذلك كان كذلك في النظر في الصلاة أن يكون كذلك فيكون الدخول فيها غير واجب إلا بما أمر به من الدخول فيها ويكون الخروج منها بما أمر به مما يخرج به منها ومن غير ذلك وكان مما احتج به من ذهب الى أنه إذا رفع رأسه من آخر سجدة من صلاته فقد تمت صلاته ما

عاصم بن ضمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا جب اس نے آخری سجدہ سے سر اٹھایا تو اس کی نماز مکمل ہو گئی ۔ تو یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے یہ ذکر کیا " تحلیلھا التسلیم" ان کے سلام تو نماز کے لیے ضڑوری نہیں بلکہ سلام سے پہلے ان کے ہاں نماز مکمل ہو جاتی ہے پس تحلیلھا التسل کا مفہوم ان کے ہاں یہ ہے کہ سلام کے ذریعہ نماز سے فراغت حاصل کی جائے کسی اور عمل سے نہیں اور تکمیل نماز یہ ہے کہ اگر اس کے بعد کوئی چیز پیش آجائے (جس سے نماز سے نکل جائے) تو نماز کو لوٹانے کی حاجت نہ ہو ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو " تحریمھا التکبیر" تحریم صلاۃ وہ ہے کہ جس کے بغیر نماز میں داخلہ درست نہ ہو ( اور یہ مسلم ہے) تو اسی طرح آ پ نے فرمایا تحلیلھا التسلم کا بھی یہی معنی ہے کہ اس کے بغیر نماز سے باہر آنا جائز نہیں ۔ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ کسی چیز کی ابتداء کے لیے وہی بات اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کا حکم ہے مگر باہر آنے کے لیے بھی وہی بات اختیار کرتے ہیں جس کا حکم ملا ہو اور بعض اوقات اس کے علاوہ کو اختایر کرتے ہیں مثلا یہ ہمارے سامنے ہے کہ معتدۃ کے نکاح جائز نہیں اور جو شخص عدت کے دوران نکاح کرے اس کو ملکیت بضعہ حاصل نہ ہو گی اور نہ نکاح منعقعد ہو گا ۔ اس کی مثالیں بہت ہیں جن کو اگر ہم ذکر کریں تو کتاب لمبی ہو جائے گی ۔ نکاح سے باہر آنے کے لیے طلاق کا حکم ہے جس طلاق میں گناہ نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت بھی حیض سے پاک ہو اور اس نے اس طہر میں جماع بھی نہ کیا ہو۔ پس جس نے اس طریقہ کو چھوڑ کر طلاق دی خواہ وہ تین طلاقیں دے یا حائضہ کو طلاق دے تو طلاق پڑجائے گی مگر طلاق دینے والا گناہ کا مرتکب ہو گا اور اس طلاق ممنوعہ کے ذریعے صحیح نکاح جاتا رہے گا اور ایسے اسباب بھی واضح کر دیے گئے ہیں جن سے ملک بضعہ حاصل ہوتی ہے اور ایسے اسباب کو ظاہر کر دیا گیا کہ جن سے بالکل ملک بضعہ جاتی رہتی ہے اور ان اسباب کی مخالفت سے روکا گیاہے یا ان میں سے بعض کی مخالفت سے بھی روکا گیا ہے پس جو آدمی ممنوعہ طریقہ سے نکاح کرنا چاہے گا اس کا نکاح تو واقع نہ ہو گا مگر نکاح سے نکلنے کے لیے بتلائے ہوئے درست طریقے اور غیر درست طریقے دونوں سے نکل سکتا ہے پس جب حاصل یہ ہوا کہ چیزوں میں داخلہ کے لیے تو مقررہ طریقوں کو اختیار کرنا پڑے گا مگر ان سے نکلنے کے لیے مقررہ یا غیر مقرر دونوں طریقوں سے وہ نکل جائے گا ۔ پس نماز کے متعلق یہی قیاس سامنے رہے کہ اس میں داخلے کے لیے تو وہی مقرر ہ طریقہ جس داخلے کا حکم ہے ۔ مگرخارج ہونے کے لیے کبھی تو مقررہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور کبھی اس کے علاوہ اور جو لوگ اس بات کے قائل کہ جو نہی آخری سجدے سے اٹھیں تو نماز پوری ہو جائے گی ۔ ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایت ہے۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← الْحَكَمِ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1596

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1597

1515 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا عبد الله بن المبارك عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبد الرحمن بن رافع وبكر بن سوادة عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا رفع رأسه من آخر السجود فقد مضت صلاته إذا هو أحدث وما

عبدالرحمن بن رافع اور بکر بن سوادہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آخری سجدہ سے سر اٹھائے تو اس کی نماز ختم ہوئی جبکہ وہ اس وقت بے وضو ہوجائے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَبَکْرِ بْنِ سَوَادَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1597

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1598

1516 - حدثنا يزيد بن سنان ومحمد بن العباس بن الربيع اللؤلؤى قال ثنا معاذ بن الحكم عن عبد الرحمن بن زياد فذكر مثله بإسناده قيل لهم ان هذا الحديث قد اختلف فيه فرواه قوم هكذا ورواه آخرون على غير ذلك

معاذ بن حکم نے عبدالرحمن بن زیاد سے اسی طرح اس کی اسناد سے روایت نقل کی ہے ان سے کہا جائے گا کہ یہ روایت مختلف فیہ ہے ۔ بعض نے اس کو اسی طرح روایت کیا مگر دوسروں نے اور طریقے سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← معاذ بن الحكم ← يزيد بن سنان ومحمد بن العباس بن الربيع اللؤلؤى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1598

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1599

1517 - حدثنا إبراهيم بن منقذ وعلى بن شيبة قالا ثنا أبو عبد الرحمن المقرىء عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبد الرحمن بن رافع التنوخي وبكر بن سوادة الحذامى عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا قضى الإمام الصلاة فقعد فأحدث هو أو أحد ممن أتم الصلاة معه قبل أن يسلم الإمام فقد تمت صلاته فلا يعود فيها قال أبو جعفر فهذا معناه غير معنى الحديث الأول وقد روى هذا الحديث أيضا بلفظ غير هذا

عبدالرحمن بن رافع تنوخی اور بکر بن سوادہ جذامی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام نے نماز کو پورا کر لیا اور وہ بیٹھا رہا تو اس کو بے وضگی کی حالت پیش آئی یا اس کے مقتدی کو ایسی حالت میں حدث لاحق ہو گئی جبکہ اس کے امام نے ابھی سلام نہ پھیرا تھا تو اس نے اپنی نماز کو پورا کر لیا پس وہ اعادہ نہ کرے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عبد الرحمن بن رافع التنوخي وبكر بن سوادة الحذامى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← إبراهيم بن منقذ وعلى بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1599

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1600

1518 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا معاذ بن الحكم قال ثنا سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم فذكر مثل حديث أبي بكرة عن أبي داود عن بن المبارك قال معاذ فلقيت عبد الرحمن بن زياد بن أنعم فحدثني عن عبد الرحمن بن رافع وبكر بن سوادة فقلت له لقيتهما جميعا فقال كليهما حدثني به عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا رفع المصلى رأسه من آخر صلاته وقضى تشهده ثم أحدث فقد تمت صلاته فلا يعود لها واحتج الذين قالوا لا تتم الصلاة حتى يقعد فيها قدر التشهد بما

عبدالرحمن بن زیاد نے ابو بکرہ جیسی روایت نقل کی ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں کہ معاذ نے بتلایا کہ میں عبدالرحمن بن زیاد کو ملا انہوں نے عبدالرحمن بن رافع اور بکر بن سوادہ دونوں سے مجھے بیان کیا میں نے کہا کیا تو سب کو ملا ہے تو اس نے کہا دونوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نمازی نے اپنی نماز کے اختتام پر سجدہ سے سر اٹھالیا اور تشہد پڑھ لیا پھر اس کا وضو ٹوٹ گیا تو گویاا اس کی نماز پوری ہو گئی وہ اس کا اعادہ نہ کرے ۔ اس روایت کو ان لوگوں نے دلیل بنایا جن کا مقولہ یہ ہے کہ جب تک تشہد کی مقدارقعدہ نہ کرے اسکی نماز مکمل نہ ہو گی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← بِهِ ← كِلَيْهِمَا ← عبد الرحمن بن رافع وبكر بن سوادة فقلت له لقيتهما جميعا ← معاذ فلقيت عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ← بن الْمُبَارَكِ، ← أَبِي دَاوُدَ، ← مثل حديث أبي بكرة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← معاذ بن الحكم ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1600

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1601

1519 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم وأبو غسان واللفظ لأبى نعيم قالا ثنا زهير بن معاوية عن الحسن بن الحر قال حدثني القاسم بن مخيمرة قال أخذ علقمة بيدى فحدثني أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أخذ بيده وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ بيده وعلمه التشهد فذكر التشهد على ما ذكرنا عن عبد الله في باب التشهد وقال فإذا فعلت ذلك أو قضيت هذا فقد تمت صلاتك ان شئت أن تقوم فقم وان شئت أن تقعد فاقعد

قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا کر مجھے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑکر بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کرمجھے تشہد سکھائی پھر وہ تشہد ذکرکیا جو ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ سے باب التشہد میں نقل کر آئے ہیں اور فرمایا جب تم نے اس کو کر لیا یا پورا کر دیا تو گویا تیری نماز مکمل ہو گئی اگر چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اگر بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو ۔

أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو نعيم وأبو غسان واللفظ لأبي نعيم ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1601

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1602

1520 - حدثنا الحسين بن نصر قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا الحسن بن الحر فذكر مثله بإسناده

زہیر نے بیان کیا کہ ہمیں حسن بن حرنے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کیا ۔

الحسن بن الحر فذكر مثله بإسناده ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1602

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1603

1521 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال ثنا المقدمي قال ثنا أبو معشر البراء عن أبى جمرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر التشهد وقال لا صلاة الا بتشهد فرووا ما ذكرنا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رووا من قول عبد الله ما

علقمہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا پھر تشہد کا ذکر کیا اور کہا تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ انہوں نے جناب رسول اللہ ق کا ارشاد روایت کیا پھر عبداللہ کا قول روایات کیا ۔

التشهد ← النبي صلى الله عليه و سلم ثم ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1603

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1604

1522 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا أبو وكيع عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال التشهد انقضاء الصلاة والتسليم إذن بانقضاءها ثم قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا ما يدل على أن ترك السلام غير مفسد للصلاة وهو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الظهر خمسا فلم يسلم فلما أخبر بصنيعه فثنى رجله فسجد سجدتين كما

ابو اسحاق نے ابو الاحوص سے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا تشہد نماز کا اگر اختتام ہے تو تسلیم اختتام کا اعلان ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت کا معنی پہلی روایت سے مختلف ہے اور اس روایت کو دیگر الفاظ سے بھی روایت کیا گیا ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات وارد ہوتی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سلام کا چھوڑ دینا نماز کو نہیں توڑتا اور وہ اس طرح کہ آپ نے نماز ظہر پانچ رکعت پڑھائی اور سلام نہ پھیرا جب آپ کے عمل کی آپ کو اطلاع د ی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کو موڑ ا اور دو سجدے ادا فرمائے ۔

التشهد انقضاء الصلاة والتسليم إذن بانقضاءها ثم قد روي ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبُو وَكِيعٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1604

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1605

1523 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا وهيب بن خالد عن منصور بن المعتمر عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك ففي هذا الحديث أنه أدخل في الصلاة ركعة من غيرها قبل السلام ولم ير ذلك مفسدا للصلاة ولو رآه مفسدا لها إذا لأعادها فلما لم يعدها وقد خرج منها الى الخامسة لا بتسليم دل ذلك أن السلام ليس من صلبها ألا ترى أنه لو كان جاء بالخامسة وقد بقى عليه مما قبلها سجدة كان ذلك مفسدا للأربع لأنه خلطهن بما ليس منهن فلو كان السلام واجبا كوجوب سجود الصلاة لكان حكمه أيضا كذلك ولكنه بخلافه فهو سنة وقد روى أيضا في حديث أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا صلى أحدكم فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا فليبن على اليقين ويدع الشك فإن كانت صلاته نقصت فقد أتمها وكانت السجدتان ترغمان الشيطان وان كانت صلاته تامة كان ما زاد والسجدتان له نافلة فقد جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الخامسة الزائدة والسجدتين اللتين للسهو تطوعا ولم يجعل ما تقدم من الصلاة بذلك [ ص 276 ] فاسدا وان كان المصلى قد خرج منها اليه فثبت بذلك أن الصلاة تتم بغير تسليم وأن التسليم من سننها لا من صلبها فكان تصحيح معاني الآثار في هذا الباب يوجب ما ذهب اليه الذين قالوا لا تتم الصلاة حتى يقعد مقدار التشهد لأن حديث علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد احتمل ما ذكرنا واختلف في حديث عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم على ما وصفنا وأما حديث بن مسعود فهو الذي لم يختلف فيه وأما وجه ذلك من طريق النظر فإن الذين قالوا انه إذا رفع رأسه من آخر سجدة من صلاته فقد تمت صلاته قالوا رأينا هذا القعود قعود التشهد وفيه ذكر يتشهد به وتسليم يخرج به من الصلاة وقد رأينا قبله في الصلاة قعودا فيه ذكر يتشهد به فكل قد أجمع أن ذلك القعود الأول وما فيه من الذكر ليس هو من صلب الصلاة بل هو من سننها واختلف في القعود الأخير فالنظر على ما ذكرنا أن يكون كالقعود الأول ويكون ما فيه كما في القعود الأول فيكون سنة وكل ما يفعل فيه سنة كما كان القعود الأول سنة وكل ما يفعل فيه سنة وقد رأينا القيام الذي في كل الصلاة والركوع والسجود الذي فيها أيضا كله كذلك فالنظر على ما ذكرنا أن يكون القعود فيها أيضا كله كذلك فلما كان بعضه باتفاقهم سنة كان ما بقى منه كذلك أيضا في النظر واحتج عليهم الآخرون فقالوا قد رأينا القعود الأول من قام عنه ساهيا فاستتم قائما أمر بالمضى في قيامه ولم يؤمر بالرجوع الى القعود وقد رأينا من قام من القعود الآخر ساهيا حتى استتم قائما أمر بالرجوع الى قعوده قالوا فما يؤمر بالرجوع اليه بعد القيام عنه فهو الفرض ومالا يؤمر بالرجوع اليه بعد القيام عنه فليس ذلك بفرض ألا ترى أن من قام وعليه سجدة من صلاته حتى استتم قائما أمر بالرجوع الى ما قام عنه لأنه قام فترك فرضا فأمر بالعود اليه وكذلك القعود الأخير لما أمر الذي قام عنه بالرجوع اليه كان ذلك دليلا أنه فرض ولوكان غير فرض إذا لما أمر بالرجوع اليه كما لم يؤمر بالرجوع الى القعود الأول فكان من الحجة عليهم الآخرين انه إنما أمر سقط بالعود الى القعود لأنه ما لم يستتم قائما فلم يدخل في فرض فأمر بالعود مما ليس بسنة ولا فرض الى القعود الذي هو سنة وكان يؤمر بالعود مما ليس بسنة ولا فريضة الى ما هو سنة ويؤمر بالعود من السنة الى ما هو فريضة وكان الذي قام من القعود الأخير حتى استتم قائما داخلا لا في سنة ولا في فريضة وقد قام من قعود هو سنة فأمر بالعود اليه وترك التمادى فيما ليس بسنة ولا فريضة كما أمر الذي قام من القعود الأول الذي هو سنة فلم يستتم قائما فيدخل في الفريضة أن يرجع من ذلك الى القعود الذي هو سنة فلهذا أمر الذي قام من القعود الأخير حتى استتم قائما بالرجوع اليه لا لما ذهب اليه الآخرون قال أبو جعفر فهذا هو النظر عندنا في هذا الباب لا ما قال الآخرون ولكن أبا حنيفة وأبا يوسف ومحمدا رحمهم الله تعالى ذهبوا في ذلك الى قول الذين قالوا ان القعود الأخير مقدار التشهد من صلب الصلاة لأنه ثبت بالنص كما ذكرنا وقد قال بعض المتقدمين بما قالوا من ذلك كما

ابراہیم نے علقمہ سے انہوں نے عبداللہ سے بیان کیا اور عبداللہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو بیان کیا ( جو اوپر ظہر کے واقعہ والی گزری ) اس روایت میں یہ ہے ک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سلام سے پہلے ایک اور پانچوں رکعت پڑھ دی اور اس کو نماز کےلیے مفسد قرار نہ دیا گیا اگر آپ اسے نماز کے لیے مفسد قرار دیتے تو ضرور اس کا اعادہ کرتے جب آپ نے اعادہ نہ کیا اور پانچویں رکعت کی طرف بلا تسلیم نکل گئے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ نماز کے ارکان سے نہیں ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آپ پانچویں رکعت کی طرف اس حالت میں منتقل ہوتے کہ آپ کے ذمہ کوئی ایسی چیز باقی ہوتی جس سے پہلے سجدہ ہے تو یہ چاروں رکعات کے لیے مفسد بن جاتی کیونکہ اس سے ان رکعات کا ان چیزوں سے ملانا لازم آتا جو ان میں سے نہیں ۔ پس اگر سلام واجب ہوتا جیسا کہ نماز میں سجدے لازم ہیں تو اس کا حکم بھی اسی طرح ہوتا مگر اس کے برعکس وہ سنت ہے اور یہ بات حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں آئی ہے کہ جناب رسول اللہ ق نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے اور اس کو یہ یاد نہ رہے کہ اس سے تین پڑھی ہیں یا چار تو یقین پر عمل کرے اور شک کو ترک کر دے پھر اگر اس کی نماز کم ہو تو اس کو (رکعت ملاکر) مکمل کرلے اور دو سجدے شیطان کی ناک رگڑنے کے لیے کرے اور اگر نماز مکمل ہو چکی تو جو زائد پڑھا ہے وہ اور دو سجدے اس کے لیے نفل بن جائیں گے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں زائد رکعت اور سہو گے دو سجدوں کو نفل قرار دیا اور اس سے پہلے والی رکعات کو فاسد قرار نہیں دیا خواہ نمازی اس فرض سے اس نقل کی طرف منتقل ہو گیا ہے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نماز بعد سلام بھی مکمل ہو جاتی ہے اور سلام نماز کی سنن سے ہے فرائض سے نہیں ۔ پس اس باب کے آثار کے معنی کی درستی اس بات کو لازم کرتی ہے کہ جنہوں نے یہ کہا کہ مقدار تشہد بیٹھنے سے نماز مکمل ہو جاتی ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت میں اس بات کا احتمال ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا ۔ البتہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں اختلاف نہیں ۔ غور و فکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت سنیے۔جن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ جب نماز کے آخری سجدہ سے سر اٹھائے تو نماز مکمل ہو جاتی ہے ۔وہ بطور ثبوت کہتے ہیں کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ تشہد والا قعدہ ہے ۔ اس تشہد والا ذکر اور سلام جس کے ذریعے نماز سے باہر آتے ہیں اور ہم یہ پاتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی اسی نماز میں ایک قعدہ ہے جس میں تشہد کا ذکر تو موجود ہے ۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قعدہ اور اس میں تشہد کاپڑھنا فرائض نماز سے نہیں بلکہ سنن اور واجبات سےہے ۔ آخری قعدہ سے متعلق اختلاف ہے ہم نے جو کچھ کہا اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ بھی پہلے قعدہ کی طرح ہو اور اس میں جو کچھ ہے اس کا حکم وہی ہو جو پہلے قعدہ کے افعال و اعمال کا ہے ۔ اس لحاظ سے وہ سنت یا واجب ہو گا۔ اور اس کے اعمال بھی سنت غیر فرض ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قیام رکوع اور سجدہ یہ تمام چیزیں ہر نماز کا لازمی حصہ ہیں ۔ پس جو ابت ہم نے ذکر کی اس کے لحاظ سے غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ قعدہ کا حکم بھی نماز میں اسی طرح ہو جب اس کا ایک حصہ بالا اتفاق سنت یا واجب ہے تو اس کے بقیہ کا بھی قیاس کے لحاظ سے وہی حکم ہے دوسروں نے انکے خلا ف یہ دلیل پیش کی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قعدہ اول سے جو شخص بھول کر کھڑا ہو جاتا ہے اگر وہ مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہو جائے تو اس کے لیے قیام میں برقرار رہنے کا ہی حکم ہے ۔ اس کو قعد کی طرف لوٹنے کا حکم نہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو شخص قعدہ اخیرہ میں بھول کر کھڑا ہو جائے اور مکمل سیدھا کھڑا ہو جائے تو اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جاتا ہے تو جس قعدہ میں مکمل قیام کے بعد لوٹنے کا حکم ہو وہ فرض ہے تبھی تو اس کی طرف لوٹنے کا حکم دیا گیا اور قعدہ اول میں اس کی طرف لوٹنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ان کے خلاف دلیل دوسروں کی طرف سے یہ دی جاتی ہے پہلے قعدہ میں کھڑے ہونے کے بعد قیام میں بر قرار رہنے کا حکم دیا گیا اور قعدے کی طرف لوٹنے کا نہیں کہا گیا کیونکہ و ہ ایسے قعدہ سے کھڑا ہوا ہے جو فرض نہیں ہے اور دوسری طرف وہ ایسے قیام میں داخل ہو چکا جو کہ فرض ہے اس وجہ سے اس کے چھوڑنے اور غیر فرض کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی گئی اور فرض میں برقرار رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ اس کی تکمیل کر لیں اگر وہ پہلا قعدہ کھڑا ہواگر مکمل طور پر سیدھا نہ ہوا تو اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیں گے کیونکہ وہ مکمل کھڑا نہیں ہوا۔ جس سے وہ فرض میں داخل نہیں ہوا اسی لیے واپسی کا حکم ہو گیا جو نہ تو سنت ہے اور نہ فرض ہے اور یہ اس قعدے کی طرف واپس آیا جو کہ سنت سے ثابت ہے تو اس کو لوٹنے کا حکم اس کے لیے کہا گیا جو کہ سنت سے ثابت ہے اور سنت سے اس کی طرف لوٹا جاتا ہے جو کہ فرض ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل و ہ شخص جو کہ آخری قعدہ میں سیدھا کھڑا ہو گیا تو وہ ایسی چیز میں داخل ہو نے والا ہے جو نہ سنت ہے نہ فرض اور وہ ایسے قعدہ سے اٹھا ہے جو کہ سنت ہے اور اس میں برقرار رہنے نہ دیا جائے گا جو کہ سنت و فرض میں سے کچھ بھی نہیں جیسا کہ اس شخص کو حکم دیا گیا جو کہ قعدہ اول سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ وہ سنت سے ثابت ہے اور مکمل سیدھا کھڑا نہیں ہوا تھا کہ وہ فرض میں داخل ہوتا اس لیے اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے گاجو کہ سنت ہے ۔ بالکل اسی طرح قعدہ اخیرہ سے اٹھ جانے والے کو حکم دیا جائے گا خواہ وہ مکمل کھڑا ہو گیا کہ وہ سنت کی طرف واپس لوٹ آئے اس بناء پر نہیں جس کی طرف دوسرے لوگ گئے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارےہاں نظر وفکر کا تقاضا اس باب میں اسی طرح ہے اسی طرح نہیں جس کی طرف دوسرے لوگ گئے ہیں لیکن امام ابو حنیفہ، ابو یوسف ، اور محمد محمد رحمۃ اللہ علیہم نے اس مقام پر ان لوگوں کا قول اختیار کیا جو یہ کہتے ہیں کہ آخری قعدہ تشہد کی مقدار نماز کے فرائض میں سے ہے کیونکہ یہ نص کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور بعض متقد مین میں بھی اسی قول کی طرف گئے ہیں جیسے کہ یہ روایات سے ثابت کرتی ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1605

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1606

1524 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم قال ثنا شعبة عن يونس عن الحسن في الرجل يحدث بعد ما رفع رأسه من آخر السجدة فقال لا يجزيه حتى يتشهد أو يقعد قدر التشهد

یونس نے حسن سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنا سر اٹھانے کے بعد بات چیت کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے تو انہوں نے فرمایا اس کی نماز درست نہیں ہو گی جب تک تشہد نہ پڑھے یا اسی کی مقدار بیٹھ نہ جائے ۔

لا يجزيه حتى يتشهد أو يقعد قدر التشهد ← بعد ما رفع رأسه من آخر السجدة ← الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1606

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter