Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1581

1500 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن عاصم عن أبي رزين قال كان علي رضي الله عنه يسلم عن يمينه وعن شماله قيل لسفيان علي رضي الله عنه قال نعم

عاصم نے ابو رزین سے نقل کیا کہ علی رضی اللہ عنہ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے سفیان سے کسی نے سوال کیا کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہتے ہو؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا ۔

نَعَمْ ← يمينه وعن شماله قيل لسفيان علي ← كان علي يسلم ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1581

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1582

1501 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن عاصم عن أبي رزين قال صليت خلف علي رضي الله عنه وعبد الله فسلما تسليمتين

عاصم نے ابورزین سے نقل کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے اور حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کےپیچھے نماز ادا کی دونوں نے دونوں طرف سلام کیا ۔

صليت خلف علي وعبد الله فسلما تسليمتين ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1582

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1583

1502 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا زهير عن أبي إسحاق عن شقيق بن سلمة عن علي رضي الله عنه أنه كان يسلم في الصلاة عن يمينه وعن شماله

شقیق بن سلمہ نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ وہ نماز میں اپنےدائیں بائیں سلام پھیرتے تھے ۔

یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ ← علي أنه كان يسلم في الصلاة ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1583

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1584

1503 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي أنه صلى خلف علي رضي الله عنه وابن مسعود فكلاهما يسلم عن يمينه وعن يساره السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله

ابو عبدالرحمن سلیمی کہتے ہیں کہ میں نے جناب علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی دونوں اپنے دائیں بائیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ سے سلام پھیرتے تھے ابن مرزوق نے حکم سے نقل کیا کہ میں ابن ابی لیلی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نماز پڑھتا تھا وہ اپنے دائیں اور بائیں سلام " السلام علیکم و رحمۃ اللہ " کے ساتھ پھیرتے تھے ۔

يمينه وعن يساره السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله ← أبي عبد الرحمن السلمي أنه صلى خلف علي وابن مسعود فكلاهما يسلم ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1584

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1585

1504 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زهير بن معاوية عن أبي إسحاق عن شقيق عن علي رضي الله عنه أنه كان يسلم في الصلاة عن يمينه وعن شماله

شقیق نے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ نماز میں اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے ۔

یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ ← علي أنه كان يسلم في الصلاة ← شَقِيقٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1585

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1586

1505 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عثمان بن أبي شيبة قال ثنا جرير عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله أن أميرا صلى بمكة فسلم تسليمتين فقال بن مسعود رضي الله عنه أترى من أين علقها فسمعت بن أبى داود يقول قال يحيى بن معين هذا من أصح ما روى في هذا الباب

عبدالرحمن بن یزید نے عبداللہ سے نقل کیا کہ ایک امیر نے مکہ میں نماز پڑھائی تو اس نے دوسلام کیے اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا تیرا کیاخیال ہے اس نے کہاں سے اس کو حاصل کیا ہے ۔میں نے ابن ابی داؤد کو فرماتے سنا ہے کہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ روایت اس باب کی صحیح ترین روایات سے ہے ۔

بن أبي داود ← بن مسعود أترى من أين علقها ← عبد الله أن أميرا صلى بمكة فسلم تسليمتين ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1586

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1587

1506 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى إسحاق عن حارثة بن مضرب قال كان عمار أميرا علينا سنة لا يصلى صلاة الا سلم عن يمينه وعن شماله السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله

حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ ہم پر ایک سال امیر رہے وہ ہر نماز میں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کے ساتھ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے ۔

يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ. ← كان عمار أميرا علينا سنة لا يصلى صلاة الا سلم ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1587

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1588

1507 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني عبد العزيز بن أبى حازم عن أبيه أنه رأى سهل بن سعد الساعدي إذ انصرف من الصلاة سلم عن يمينه وعن شماله قال أبو جعفر فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أبو بكر وعمر وعلى وابن مسعود رضي الله عنهم وعمار ومن ذكرنا معهم يسلمون عن أيمانهم وعن شمائلهم لا ينكر ذلك عليهم غيرهم على قرب عهدهم برؤية رسول الله صلى الله عليه و سلم وحفظهم لأفعاله فما ينبغي لأحد خلافهم لو لم يكن روى في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء فكيف وقد روى عنه صلى الله عليه و سلم ما يوافق فعلهم رضي الله عنهم فإن أنكر منكر ما روينا عن أبى وائل عن علي رضي الله عنه أنه كان يسلم في الصلاة تسليمتين وما روينا عنه في ذلك عن عبد الله واحتج لما أنكر من ذلك ما

عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ انہوں نے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب وہ نماز سے فارغ ہوتے تو اپنے دائیں بائیں سلام پھیرتے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام حضرت ابو بکر و عمر ، علی ابن مسعود ، عمار رضی اللہ عنہم اور دیگر جن کا ہم نے ان کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔ یہ تمام دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرنے والے ہیں اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب ان کو اس حالت میں دیکھنے کے باوجود ان کی مخالفت نہ کرنے والے تھے حالانکہ عہد نبوی کا بالکل قرب تھا۔ یہ ان کے فعل سے موافقت کے سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی مروی نہ ہوتا تب بھی انکی مخالفت مناسب نہ تھی ،تواب جبکہ ان کی موافقت میں آپکے ارشادات موجود ہیں تو انکی مخالفت کیونکہ درست ہو گی۔ اگر کوئی انکار کرنے والا اس روایت کو تسلیم نہ کرے جو کہ ہم نے ابو وائل کی سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ آپ نماز میں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے اور اس سلسلہ میں ان کی وساطت سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور منکریہ کہے ایک سلام والی روایت ملاحظہ ہو۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1588

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1589

1508 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة ح

عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا کیا تمہیں تکبیر یاد ہے تو انہوں نے کہا جی ہاں میں نے پوچھا کیا تمہیں سلام یاد ہے انہوں نے کہا ایک ۔ تو اس روایت میں وہ ایک سلام کو یاد رکھنے کا کہہ رہے ہیں اور آپ کی روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو سلام ذکر کرتے ہیں تو ان دونوں روایتوں میں تعارض ہوا پس اس سے دو سلام پر استدلال درست نہ رہا تو یہ کس طرح درست ہے کہ ان کو ایک سلام محفوظ ہو اور انہوں نے حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دو سلام کرتے دیکھا ہو ۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ ان دو کے علاوہ انہوں یہ سلام کس سے یاد کیا ، حالانکہ وہ انہی کی وہ باتیں یاد کرنے اور انکی اقتداء کرنے والے تھے ۔ پس اس روایت کا ثبوت اور جو چیز اس روایت سے ثابت ہوتی ہے وہ اس روایت کے فساد کو ظاہر کر رہی ہے جو تم دو سلام کے سلسلے میں روایت کر چکے ہو ۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ دو سلام کے سلسلے میں ہم نے جو روایت کی وہ بالکل درست ہے ۔ اس کی سند و متن بے غبار ہیں اور اس کا تعلق رکوع و سجدہ والی نماز کے سلام سے تعلق رکھتا ہے رہی ابو وائل کی عمرو بن مرہ والی روایت جس میں ایک سلام کا ذکر ہے ۔ اس کا تعلق تکبیر ات والی نماز سےہے۔ کوفہ کے علماء کی ایک جماعت جن میں ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں اپنے جنائز میں خفیف سلام پھیرتے اور اپنی بقیہ تمام نمازوں میں دو سلام پھیرتے تھے ہمارے نزدیک ابو وائل کی روایت کا یہی معنی ہے ۔ پس زیادہ بہتر ہے کہ ان سے مروی دوسری روایت کو بھی اسی پر محمول کریں تاکہ روایات میں تضاد نہ ہو۔ اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ عمربن عبدالعزیز ، حسن اور ابن سیرین اپنی نمازوں میں ایک سلام پھیرتے تھے جیسا ان روایات میں ہے ۔

شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1589

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1590

وبما حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال قلت لأبى وائل أتحفظ التكبير قال نعم قال قلت فالتسليم قال واحدة قال فكيف يجوز أن يحفظ هو التسليم واحدة وقد رأى عليا رضي الله عنه وعبد الله يسلمان اثنتين أفترى عمن حفظ الواحدة غيرهما وعنهما كان يتحفظ وبهما كان يقتدى ففي ثبوت هذا عنه ما يجب به فساد ما رويتم عنه في التسليمتين قيل له ان الذي روينا عنه في التسليمتين صحيح لم يدخله شيء في إسناده ولا في متنه وذلك على السلام من الصلوات ذوات الركوع والسجود والذي أراده أبو وائل في حديث عمرو بن مرة من السلام مرة واحدة هو في الصلاة ذات التكبير فإنه قد كان جماعة من الكوفيين منهم إبراهيم يسلمون فلى صلاتهم على جنائزهم تسليمة خفية ويسلمون في سائر صلواتهم تسليمتين فهكذا معنى حديث أبى وائل عندنا في ذلك ولهذا أولى أن يحمل عليه ما روى عنه في ذلك حتى لا يضاد بعضه بعضا فإن قال قائل فقد كان عمر بن عبد العزيز والحسن وابن سيرين يسلمون في صلاتهم تسليمة واحدة وذكر في ذلك ما قد

اشعب نے حسن رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق نقل کیا کہ وہ نماز میں سامنے طرف ایک سلام پھیرتے تھے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسی روایات بلا شبہ ان سے مروی ہیں مگر ان کے بالمقابل صحابہ کرام کی کثیر روایات جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اتر کے ساتھ مروی ہیں وہ ان کےخلاف موجود ہیں ۔ جن کا تذکرہ ہم اس باب میں کر آئے ہیں ۔ (دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت سعید بن المسیب اور ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہم جو کہ اکا بر تابعین سے ہیں انکی روایات ان کےخلاف ہیں ( پس ان کی روایات سے استدلال کا کوئی جواز نہیں ہے )

فكيف يجوز ← «وَاحِدَةً» ← قلت فالتسليم ← نَعَمْ ← قلت لأبى وائل أتحفظ التكبير ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ ← وَبِمَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1590

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1591

1509 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا معاذ عن بن عون عن محمد وعن أشعث عن الحسن انهما كانا يسلمان في الصلاة تسليمة واحدة حيال وجوههما وما حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن بن عون عن الحسن ومحمد تسليمة واحدة

ابن عون نے محمد اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہم کے متعلق نقل کیا کہ وہ دونوں ایک طرف سلام پھیرتے تھے ۔ یہ دونوں جلیل القدر تابعی ہیں جن کو صحابہ کرام کی کثیر صحبت حاصل رہی جن کا تذکرہ اس باب میں ہوا ۔ (مدینہ منورہ میں) صحابہ کرام کے درمیان رہنے کا شرف جوان کو میسر ہوا وہ دوسروں کو نہیں ملا۔ ہم نے روایات میں جو نقل کیا وہ اولیٰ ہے کیونکہ ان حضرات نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی موافقت میں پہلے حضرات کی پیروی کی ، امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے

الحسن ومحمد تسليمة واحدة ← بن عون ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق ← الحسن انهما كانا يسلمان في الصلاة تسليمة واحدة حيال وجوههما وما ← محمد وعن أشعث ← بن عون ← مُعَاذٌ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1591

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1592

1510 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد عن سعيد عن عمر بن عبد العزيز مثله قيل له صدقت قد روى هذا عن هؤلاء وقد روى عمن قبلهم ممن ذكرنا ما يخالف ذلك مع ما قد تواتر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما قدمت ذكره في هذا الباب وقد روى عن سعيد بن المسيب وابن أبى ليلى وهما من التابعين أكبر من أولئك خلاف ما روى عنهم

سعید نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق نقل کیا کہ وہ ایک طرف سلام پھیرتے تھے ۔ ابن مرزوق نے عمر بن عبد العزیز سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ جواب میں کہا جائے گا کہ ایسی روایات بلا شبہ ان سے مروی ہیں مگر ان کے بالمقابل صحابہ کرام کی کثیر روایات جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ مروی ہیں وہ ان کے خلاف موجود ہیں ۔ جن کا تذکرہ ہم اس باب میں کر آئے ہیں ۔ (دوسرا جواب یہ ہے ) کہ حضرت سعید بن المسیب اور ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ جو کہ اکابر تابعین سے ہیں ان کی روایات ان کے خلاف ہیں ( پس ان کی روایات سے استدلال کا کوئی جواز نہیں ہے )

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1592

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter