شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1473
1403 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه ح
ابن وہب نے مالک سے روایت نقل کی ہے ۔
بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Hadith 1473
Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.
ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1473
1403 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه ح
ابن وہب نے مالک سے روایت نقل کی ہے ۔
بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Hadith 1473
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1474
وحدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي عن مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان لا يقنت في شيء من الصلوات
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ کسی بھی نماز میں قنوت نہ کرتے تھے ۔
بن عمر أنه كان لا يقنت في شيء من الصلوات ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← وحدثنا بن مرزوق
Hadith 1474
شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1475
1404 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أنا محمد بن مسلم الطائفي قال حدثني عمرو بن دينار قال كان عبد الله بن الزبير يصلي بنا الصبح بمكة فلا يقنت قال أبو جعفر فهذا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه لم يكن يقنت في دهره كله وقد كان للمسلمون في قتال عدوهم في كل ولاية عمر أو في أكثرها فلم يكن يقنت لذلك وهذا أبو الدرداء ينكر القنوت وابن الزبير لا يفعله وقد كان محاربا حينئذ لأنه لم نعلمه أم الناس إلا في وقت ما كان الأمر صار إليه فقد خالف هؤلاء عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب وعبد الله بن عباس رضي الله عنهم أجمعين فيما ذهبوا إليه من القنوت في حال المحاربة بعد ثبوت زوال القنوت في حال عدم المحاربة فلما اختلفوا في ذلك وجب كشف ذلك من طريق النظر لنستخرج من المعنيين معنى صحيحا فكان ما روينا عنهم أنهم قنتوا فيه من الصلوات لذلك الصبح والمغرب خلا ما روينا عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقنت في صلاة العشاء فإن في ذلك محتمل أيضا أن يكون هي المغرب ويحتمل أن يكون هي العشاء الآخرة ولم نعلم عن أحد منهم أنه قنت في ظهر ولا عصر في حال حرب ولا غيره فلما كانت هاتان الصلاتان لاقنوت فيهما في حال الحرب وفي حال عدم الحرب وكانت الفجر والمغرب والعشاء لاقنوت فيهن في حال عدم الحرب ثبت أن لاقنوت فيهن في حال الحرب أيضا وقد رأينا الوتر فيها القنوت عند أكثر الفقهاء في سائر الدهر وعند خاص منهم في ليلة النصف من شهر رمضان خاصة فكانوا جميعا إنما يقنتون لتلك الصلاة خاصة لا لحرب ولا لغيره فلما انتفى أن يكون القنوت فيما سواها يجب لعلة الصلاة خاصة لا لعلة غيرها انتفى أن يكون يجب لمعنى سوى ذلك فثبت بما ذكرنا أنه لا ينبغي القنوت في الفجر في حال حرب ولا غيره قياسا ونظرا على ما ذكرنا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
حضرت عمروبن دینار نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن الزبیر ہمیں مکہ میں فجر کی نماز پڑھاتے اور قنوت نہ کرتے تھے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو کہ کبھی بھی کسی زمانہ میں بھی قنوت نہ پڑھتے تھے ۔ اور مسلمان کفار کے خلاف تو ہر وقت زمانہ فاروقی میں بر سر پیکار رہتے اور اس کے لیے انہوں نے قنوت نہ پڑھی یہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ قنوت کا انکار کررہے ہیں اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی اسے نہیں کرتے اور جنگ کی حالت میں نہ کرتے تے حالانکہ وہ اس وقت حالت جنگ میں تھے اور ان تک نماز پڑھانے کی نوبت اسی وقت آئی جب یہ امراخلافت ان کے پاس آیا ۔ ان حضرات کی رائے حضرت عمر ، علی ، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مختلف ٹھہری اس لیے کہ یہ حضرات جنگ کی حالت میں قنوت کے قائل اور لڑائی نہ ہونے کی حالت میں قنوت نہ پڑھتے تھے اب جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات میں اختلاف ہوا تو غور و فکر کی راہ سے صحیح معنی کی تلاش لازم ہوئی ۔ پس ان حضرات نے صبح و مغرب میں قنوت پڑھی ۔ البتہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہوا کہ وہ نماز عشاء میں قنوت پڑھتے تھے ۔ اور اس میں بھی احتمال ہے کہ یہ عشاء اولیٰ (مغرب ہو یا پچھلی عشاء ہی ہو اور ہمارے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ صحابی نے بھی لڑائی اور امن کی کسی بھی حالت میں ظہر و عصر میں قنوت پڑھی ہو ۔ جب یہ دو نمازیں ایسی ہیں کہ ان میں جنگ اور عدم جنگ کسی بھی حالت میں قنوت جائز نہیں ہے اور مغرب ، عشاء و فجر میں امن کی حالت میں قنوت ثابت نہیں ۔ ہم نے وتروں کی نماز پر نگاہ ڈالی کہ اکثر فقہاء کے ہاں ان میں ہمیشہ قنوت پڑھی جائے گی ۔ اور بعض علماء کے نزدیک رمضان آخری نصف میں صرف پڑھی جائے گی ۔ یہ تمام حضرات خاص طور پر اس نماز کے لیے قنوت پڑھتے اس میں جنگ اور غیر جنگ کا کوئی دخل نہیں۔ پس جب دوسری نمازوں سے خاص نماز کے لحاظ سے نفی ہو گئی کسی اور سبب کی بناء پر نہیں تو وہ کسی اور وقت کی بناء پر لازم نہیں ہم نے جو ذکر کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ نماز فجر میں قنوت تو جنگ کی حالت میں پڑھی جائے اور نہ جنگ کے علاوہ حالت میں پڑھی جائے ۔ نظر وقیاس کا یہی تقاضا ہے کہ اور یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔
عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود
Hadith 1475