شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1437
1369 - حدثنا علي بن معبد وحسين بن نصر وعلي بن شيبة عن يزيد بن هارون قال أنا أبو مالك الأشجعي سعد بن طارق قال قلت لأبي يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم وخلف أبي بكر وخلف عمر وخلف عثمان وخلف علي رضي الله عنهم ههنا بالكوفة قريبا من خمس سنين أفكانوا يقنتون في الفجر فقال أي بني محدث قال أبو جعفر فلسنا نقول إنه محدث على أنه لم يكن قد كان ولكنه قد كان بعده ما رويناه فيما قد رويناه في هذا الباب قبله فلما لم يثبت لنا القنوت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجعنا إلى ما روى عن أصحابه في ذلك
ابومالک سعد بن طارق کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے عرض کی ابا جی ! آپ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر، عمرو عثمان ،علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز ادا کی ہوگی یہاں کوفہ میں آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نما ز پڑھتے پانچ سال گزرے کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے تو وہ فرمانے لگے اے بیٹے ۔ یہ نو ایجاد چیز (یعنی منسوخ کو دوبارہ کیا جا رہا ہے ) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس معنی میں اس کو محدث نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی طرح ہے اور ہم نے روایات کا نسخ خوب اچھے طریقے سے واضح کر دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کو اس معنی نو ایجاد نہیں کہتے کہ اس کی اصل نہیں ، بلکہ اس کی اصل تھی جیسا کہ روایات سابقہ میں مذکور ہوا ۔ ان میں قنوت کا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوخ ہونے کے بعد پڑھنا ثابت نہ ہوا ۔
أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة ← حسين بن نصر ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1437
