Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1425

1356 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو بكر عن حميد عن أنس رضي الله عنه قال قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرين يوما

حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن قنوت پڑھی۔

قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرين يوما ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Hadith 1425

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1426

1357 - حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور البالسي قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا أبو هلال الراسبي عن حنظلة السدوسي عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح يكبر حتى إذا فرغ كبر فركع ثم رفع رأسه فسجد ثم قام في الثانية فقرأ حتى إذا فرغ كبر فركع ثم رفع رأسه فدعا

حنطلہ سدوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں دیکھا کہ آپ تکبیر کہتے جب قراءت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہہ کر رکوع کرتے پھر سر اٹھا تے اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر قراءت کرتے جب اس سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہہ کر رکوع کرتے پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو دعا کرتے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الحسن بن عبد الله بن منصور البالسي

Hadith 1426

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1427

1358 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا همام عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة حدثني أنس بن مالك رضي الله عنه قال دعا النبي صلى الله عليه و سلم ثلاثين صباحا على رعل وذكوان وعصية الذين عصوا الله ورسوله

اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل و ذکوان اور عصیہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تیس روز تک دعا فرمائی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 1427

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1428

1359 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن أنس رضي الله عنه قال قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا بعد الركوع يدعو على حي من أحياء العرب ثم تركه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى إثبات القنوت في صلاة الفجر ثم افترقوا فرقتين فقالت فرقة منهم هو بعد الركوع وقالت فرقة قبل الركوع وممن قال ذلك منهم بن أبي ليلى ومالك بن أنس رضي الله عنهما كما

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت پڑھی آپ اس میں عرب کے بعض قبائل کے متعلق دعا فرماتے تھے پھر آپ نے چھوڑ دی ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بعض لوگ نماز فجر میں قنوت کو ثابت کرتے ہیں پھر وہ دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ یہ رکوع کے بعد ہے جبکہ دوسرے گروہ نے کہا کہ یہ رکوع سے پہلے ہے اور جنہوں نے یہ کہا وہ ابن ابی لیلیٰ اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 1428

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1429

1360 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال سمعت مالكا يقول الذي أخذته في خاصة نفسي القنوت في الفجر قبل الركوع فكان من حجة من ذهب منهم إلى أنه بعد الركوع ما ذكرناه عن أبي هريرة وابن عمر رضي الله عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر وكانت الحجة عليهم للفريق الآخر ما ذكرناه في حديث سفيان عن عاصم عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قنت بعد الركوع شهرا وإنما القنوت قبل الركوع وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا نرى القنوت في صلاة الفجر أصلا قبل الركوع ولا بعده وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذه الآثار المروية في القنوت قد رويت على ما ذكرنا فكان أحد من روى ذلك عنه عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قد روينا عنه فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قنت ثلاثين يوما فكان قد ثبت عنده قنوت رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلمه ثم قد وجدنا عنه ما

ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو یہ کہتے سنا کہ میرے دل میں جو بات بیٹھی ہے وہ یہ ہے کہ قنوت فجر میں رکوع سے پہلے پڑھی جائے ۔جن حضرات کے ہاں رکوع کے بعد قنوت ہے ان کی مستدل روایات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ابن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ان کے خلاف دوسری جماعت کا کہنا ہے قنوت صرف ایک ماہ پڑھی گئی اور قنوت رکوع سے پہلے ہے ان کی مستدل روایات میں انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ قنوت جناب رسول اللہ نے ایک ماہ پڑھی اور رکوع سے پہلے پڑھی ان دونوں کو فریق اول کے عنوان سے ذکر کر کے یہ روایات ذکر کر دی گئی ہیں ۔ دوسرے حضرات نے اس سلسلے میں انکی مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ قنوت کے سلسلہ میں آنے والی روایات جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک راوی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ہم نے انکی روایت بھی نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس روز تک قنوت پڑھی ۔ پس ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قنوت پڑھنا ثابت و معلوم تھا ۔ پھر ہم نے یہ روایت پائی ۔

مَالِکًا ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 1429

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1430

1361 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو غسان قال ثنا شريك عن أبي حمزة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال لم يقنت النبي صلى الله عليه و سلم إلا شهرا لم يقنت قبله ولا بعده

علقمہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی اس سے پہلے اور بعد نہیں پڑھی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شَرِيکٍ ← أبو غسان، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Hadith 1430

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1431

1362 - وحدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا أبو معشر قال ثنا أبو حمزة عن إبراهيم عن علقمة عن بن مسعود قال قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا يدعو على عصية وذكوان فلما ظهر عليهم ترك القنوت وكان بن مسعود رضي الله عنه لا يقنت في صلاة الغداة قال أبو جعفر فهذا بن مسعود رضي الله عنه يخبر أن قنوت رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي كان إنما كان من أجل من كان يدعو عليه وإنه قد كان ترك ذلك فصار القنوت منسوخا فلم يكن هو من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم يقنت وكان أحد من روى ذلك أيضا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ثم قد أخبرهم أن الله عز و جل نسخ ذلك حين أنزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون فصار ذلك عند بن عمر رضي الله عنهما منسوخا أيضا فلم يكن هو يقنت بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان ينكر على من كان يقنت كما

علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عصیہ و ذکوان کے متعلق بددعا کے لیے قنوت پڑھی ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قنوت تو کفار کے خلاف بدعا کے لیے تھے اور آپ نے اس کو چھوڑ دیا تو قنوت منسوخ ہو گئی ۔چنانچہ آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قنوت کے روات میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں وہ بتلا رہے ہیں کہ اللہ نے (لیس لک من الامر شی) کو اتار کر قنوت کو منسوخ کر دیا ۔ پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں بھی منسوخ ہو چکی ۔ پس اسی بناء پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قنوت نہ پڑھتے تھے بلکہ پڑھنے والوں پر اعتراض کرتے تھے ۔

بن مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← أبو معشر ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Hadith 1431

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1432

1363 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا شعبة قال ثنا قتادة عن أبي مجلز قال صليت خلف بن عمر رضي الله عنه الصبح فلم يقنت فقلت آلكبر يمنعك فقال ما أحفظه عن أحد من أصحابي وكما

قتادہ نے ابو مجلز سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز ادا کی انہوں نے قنوت نہ پڑھی تو میں نے کہا کیا بڑھاپے کی وجہ سے آپ نے قنوت نہیں پڑھی ! تو فرمانے لگے مجھے تو اپنے ساتھیوں میں سے کسی کے متعلق یاد نہیں کہ وہ قنوت پڑھتا ہو۔

أحد من أصحابي وكما ← ما أحفظه ← صليت خلف بن عمر الصبح فلم يقنت فقلت آلكبر يمنعك ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 1432

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1433

1364 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب ومؤمل قالا حدثنا شعبة عن الحكم عن أبي الشعثاء قال سألت بن عمر رضي الله عنه عنهما عن القنوت فقال ما شهدت وما رأيت هكذا في حديث وهب وفي حديث مؤمل ولا رأيت أحدا يفعله وكما

ابوالشعشاء کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قنوت سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا نہ میں نے اسے دیکھا اور نہ اس کامشاہدہ کیا۔ یہ وہب و مومل کی روایت میں بھی اسی طرح ہے ۔ نہ میں نے اکابر صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے پایا ہے ۔

الْقُنُوتِ، ← سألت بن عمر عنهما ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وهب ومؤمل ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1433

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1434

1365 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة عن الأشعث عن أبيه قال سئل بن عمر رضي الله عنه عنهما عن القنوت فقال وما القنوت فقال إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو قال ما رأيت أحدا يفعله وإني لأظنكم معاشر أهل العراق تفعلونه وكما

اشعت نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ابن عمر سے قنوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا قنوت کیا ہے ؟ اس نے کہا جب امام دوسری رکعت کی قراءت سے فراغت پا لے تو کھڑے ہو کر دعا کرے ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے تو نہیں دیکھا کہ کوئی اسے کرتا ہو اور میرے خیال میں تو اہل عراق اس کو کرتے ہیں ۔

إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو ← وما القنوت ← الْقُنُوتِ، ← سئل بن عمر عنهما ← أَبِيهِ ← الْأَشْعَثِ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1434

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1435

1366 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة عن منصور عن تميم بن سلمة قال سئل بن عمر رضي الله عنهما عن القنوت فذكر مثله إلا أنه قال ما رأيت ولا علمت فوجه ما روى عن بن عمر رضي الله عنه في هذا الباب أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رفع رأسه من الركعة الآخرة قنت حتى أنزل الله تعالى ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون فترك لذلك القنوت الذي كان يقنته وسأله أبو مجلز فقال آلكبر يمنعك من القنوت فقال ما أحفظه من أحد من أصحابي يعني من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أي إنهم لم يفعلوه بعد ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه وسأله أبو الشعثاء عن القنوت وسأله بن عمر رضي الله عنه عن ذلك القنوت ما هو فأخبره أن الامام إذا فرغ من القراءة في الركعة الآخرة من صلاة الصبح قام يدعو فقال ما رأيت أحدا يفعله لأن ما كان هو علمه من قنوت النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان الدعاء بعد الركوع وأما قبل الركوع فلم يره منه ولا من غيره فأنكر ذلك من أجله فقد ثبت بما روينا عنه نسخ قنوت رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد الركوع ونفى القنوت قبل الركوع أصلا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن يفعله ولا خلفاؤه من بعده وكان أحد من روى عنه القنوت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الرحمن بن أبي بكر فأخبر في حديثه الذي رويناه عنه بأن ما كان يقنت به رسول الله صلى الله عليه و سلم دعاء على من كان يدعو عليه وأن الله عز و جل نسخ ذلك بقوله ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم الآية ففي ذلك أيضا وجوب ترك القنوت في الفجر [ ص 247 ] وكان أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك أيضا خفاف بن إيماء فذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لما رفع رأسه من الركوع قال أسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها وعصية عصت الله ورسوله اللهم العن بني لحيان ومن ذكر معهم ففي هذا الحديث لعن من لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي حديثي بن عمر رضي الله عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر وقد أخبراهما في حديثهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك ذلك حين أنزلت عليه الآية التي ذكرنا ففي حديثهما النسخ كما في حديث خفاف بن إيماء فهما أولى من حديث بن إيماء وفي ذلك وجوب ترك القنوت أيضا وكان أحد من روى عنه ذلك أيضا البراء فروى عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقنت في الفجر والمغرب ولم يخبر بقنوته ذلك ما هو فقد يجوز أن يكون ذلك القنوت الذي رواه بن عمر رضي الله عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر ومن روى ذلك معهما ثم نسخ ذلك بهذه الآية أيضا وقد قرن في هذا الحديث بين المغرب والفجر فذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقنت فيهما ففي إجماع مخالفنا لنا على أن ما كان يفعله في المغرب من ذلك منسوخ ليس لأحد بعده أن يفعله دليل على أن ما كان يفعله في الفجر أيضا كذلك وكان أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا القنوت في الفجر أنس بن مالك رضي الله عنه فروى عمرو بن عبيد عن الحسن عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يزل يقنت بعد الركوع في صلاة الغداة حتى فارقه فأثبت في هذا الحديث القنوت في صلاة الغداة وأن ذلك لم ينسخ وقد روى عنه من وجوه خلاف ذلك فروى أيوب عن محمد بن سيرين قال سئل أنس أقنت رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح فقال نعم فقيل له قبل الركوع أو بعده فقال بعد الركوع يسيرا وروى إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عنه أنه قال قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثين صباحا علي رعل وذكوان وروى قتادة عنه نحوا من ذلك وروى عنه حميد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قنت عشرين يوما فهؤلاء كلهم قد أخبروا عنه خلاف ما روي عمرو عن الحسن وقد روى عاصم عنه إنكار القنوت بعد الركوع أصلا وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما فعل ذلك شهرا ولكن القنوت قبل الركوع فضاد ذلك أيضا ما روى عمرو بن عبيد وخالفه فلم يجز لأحد أن يحتج في حديث أنس رضي الله عنه بأحد الوجهين مما روى عن أنس رضي الله عنه لأن لخصمه أن يحتج عليه بما روى عن أنس مما يخالف ذلك وأما قوله ولكن القنوت قبل الركوع فلم يذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد يجوز أن يكون ذلك أخذه عمن بعده أو رأيا رآه فقد رأى غيره من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فلا يكون قوله أولى من قول من خالفه إلا بحجة تبين لنا فإن قال قائل فقد روى أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال كنت جالسا عند أنس بن مالك رضي الله عنه فقيل له إنما قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا فقال ما زال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقنت في صلاة الغداة حتى فارق الدنيا قيل له قد يجوز أن يكون ذلك القنوت هو القنوت الذي رواه عمرو عن الحسن عن أنس رضي الله عنه فإن كان ذلك كذلك فقد ضاده ما قد ذكرنا ويجوز أن يكون ذلك القنوت هو القنوت قبل الركوع الذي ذكره أنس رضي الله عنه في حديث عاصم فلم يثبت لنا عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم في القنوت قبل الركوع شيء وقد ثبت عنه النسخ للقنوت بعد الركوع وكان أبو هريرة رضي الله عنه أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا القنوت في الفجر فذلك القنوت هو دعاء لقوم ودعاء على آخرين وفي حديثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك ذلك حين أنزل الله عز و جل ليس لك من الأمر شيء الآية فإن قال قائل فكيف يجوز أن يكون هذا هكذا وقد كان أبو هريرة رضي الله عنه بعد النبي صلى الله عليه و سلم يقنت في الصبح فذكر ما قد حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف ح

نعیم بن سلمہ کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے اسی طرح کی بات فرمائی جو پہلی روایت میں گزری صرف فرق یہ تھا " مارایت ولا علمت" نہ میں نے یہ دیکھا اور نہ میں اسے جانتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی وضاحت اس سلسلہ میں اس طرح ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ جب آپ دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھتے تو قنوت پڑھتے، یہاں تک کہ (لیس لک من الامر القرآن) آیت نازل ہوئی ۔ اس وقت آپ نے اس قنوت کو ترک کر دیا ۔ چنانچہ ابو مجلز نے ان سے دریافت کیا آپ بڑھاپے کی وجہ سے قنوت نہیں پڑھتے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے تو تو اپنے کسی دوست کے متعلق بھی یہ بات یاد نہیں کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑنے کے بعد اس کو اختیار کیا ہو ابو اشعثاء نے جب ان سے قنوت کے متعلق دریافت کیا اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے سوال پر فرمایا وہ قنوت کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب بتلایا کہ امام جب دوسری رکعت کی قراءت سے فارغ ہو جائے تو وہ دعا مانگے ۔ وہ فرمانے لگے میں نے تو کسی کو یہ عمل کرتے نہیں دیکھا اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قنوت تو رکوع کے بعد دعا کی صورت میں تھی ۔مگر رکوع سے پہلے انہوں نے نہ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور نہ کسی اور کو اس وجہ سے انہوں نے تعجب کرتے ہوئے انکار فرمایا ۔ ہم نے ان کی جو روایت ذکر کی ہے اس سے رکوع کے بعد والی قنوت کا نسخ ثابت ہو گیا ۔ اور رکوع ماقبل قنوت کی انہوں نے خود نفی کر دی اور یہ واضح کر دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے بعد خلفاء کا یہ طرز عمل نہ تھا ۔ قنوت کے منجملہ روات میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ انہوں نے اپنی اس روایت میں جو ہم نے ذکر کی یہ واضح کر دیا کہ آپکی قنوت تو کفار کے خلاف بددعا تھی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے (لیس لک من الامر القرآن) کے ذریعے اس کو منسوخ کر دیا ۔ اس روایت سے بھی نماز فجر میں قنوت کے ترک کا وجوب ثابت ہوا ۔ قنوت کے روات میں حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ کانا بھی آتا ہے ان کی روایت میں یہ ہے کہ آپ نے جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا کہ اللہ قبیلہ اسلم والوں کو سلامت رکھے اور غفار کی بخشش فرمائے اور عصبہ قبیلہ کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، اے اللہ بنو لحیان اور ان کے ساتھ جو مذکور ہوئے ان پر لعنت کر ۔ اس روایت کے مطابق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد و قبائل پر لعنت کی اور ابن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایات میں بتلایا کہ آیت لیس لک اترنے پر اس لعنت کرنے کو ترک کر دیا تھا پس ان دونوں روایات میں خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح نسخ ہے ۔ یہ دونوں روایات اس روایت سے اعلیٰ ہیں ۔ اگر حضرت خفاف رضی اللہ عنہ کی روایت قنوت کے چھوڑنے کو لازم کر رہی ہے اور قنوت کو روایت کرنے والوں میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بھی ہیں انکی روایت کا حاصل یہ ہے کہ آپ نماز فجر و مغرب میں قنوت پڑھتے تھے مگر اس قنوت کی حقیقت روایت میں مذکور نہیں تو ممکن ہے کہ یہ وہی قنوت ہو جس کو ابن عمر اور عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایات میں ذکر کیا، اور ان سے یہ منقول ہوئی پھر منسوخ ہو گئی اور اس کا نسخ بھی اس آیت سے ہوا اور اس میں فجر و مغرب کا اکٹھا ذکر کیا کہ ان میں قنقت پڑھی جاتی تھی ۔ مغرب کے بارے میں تو ہمارے مخالفین کو بھی اتفاق ہے کہ وہ منسوخ ہو چکی ۔ تو ہم کہتے ہیں فجر کے متعلق بھی یہی حکم ہےکسی نسخ کے بعد پڑھنا جائز نہیں۔ قنوت کے روات میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھی نام آتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز رکوع کے بعد وفات تک قنوت پڑھتے رہے اس روایت میں یہ فجر میں قنو ت کا عدم نسخ ہو رہا ہے اور اس روایت کے روات کو اسکو مختلف انداز سے بیان کیا، چنانچہ ہم عرض کرتے ہیں (1) ابن سیرین کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں قنوت پڑھی تو انہوں نے کہا جی ہاں ۔ پھر میں نے پوچھا کیا رکوع سے پہلے یا بعد تو انہوں نے فرمایا ذرا بعد میں ۔ (2)اسحاق کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک صبح کی نماز میں رعل و ذکوان کے لیے قنوت پڑھی ۔ (3) قتادہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ (4) حمید کی روایت میں ہے کہ بیس دن قنوت پڑھنے کا تذکرہ ہے ۔یہ تمام حضرات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے خلاف ذکر کر رہے ہیں جو حسن نے ان سے نقل کی ہے عاصم تو رکوع کے بعد قنوت کا بالکل انکار کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ نے صرف ایک ماہ قنوت پڑھی اور وہ بھی رکعت سے پہلے تھی ۔ چنانچہ یہ روایت بھی عمرو کی روایت کے برعکس ہے ۔ پس حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کسی کو استدلال کا حق نہیں کیونکہ دوسرا فریق انہی کی دوسری سند والی روایت کو پیش کر دے گا۔باقی روایت کا یہ جملہ " لکن القنوت قبل الرکوع " انہوں نے اسے مرفوع نقل نہیں کیا عین ممکن ہے کہ یہ ان کی رائے ہو یا بعد والوں سے لیا ہو۔ اس لیے کہ دیگر صحابہ کرام کی رائے اس کے خلاف ہے پس ان کا قول ان کے بالمقابل دوسرے لوگوں سے واضح دلیل کے بغیر اولیت اختیار نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کر لے حضرت ربیع بن انس کہتے ہیں میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ان سے پوچھا کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی ہے تو انس کہنےلگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک قنوت پڑھی ہے ۔ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہ حسن کی روایت والی قنوت ہے اگر بات اسی طرح ہو ۔ تو یہ مذکورہ بالا روایت سے متضاد ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رکوع سے پہلے والی قنوت ہو جو عاصم کی روایت میں ہے ۔ حالانکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رکوع سے پہلے قنوت میں ایک روایت بھی ان سے ثابت نہیں بلکہ رکوع کے بعد قنوت کا نسخ ان سے ثابت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی قنوت کے روایت سے ہیں اور قنوت فجر کے راوی ہیں جو کہ یک قوم کے خلاف بدعا تھی اور اسی روایت میں موجود ہے ہے کہ آیت ( لیس لک من الامر القرآن) کے نزول کے بعد آپ نے اسے ترک کر دیا اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ اس طرح ہو جبکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ۔ جیسا کہ یونس کی یہ روایت ہے ۔

مثله إلا ← الْقُنُوتِ، ← سئل بن عمر ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1435

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1436

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قالا ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة عن الأعرج قال كان أبو هريرة رضي الله عنه يقنت في صلاة الصبح قال أبو جعفر فدل ذلك على أن المنسوخ عند أبي هريرة رضي الله عنه إنما كان هو الدعاء على من دعا عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما القنوت الذي كان مع ذلك فلا قيل له إن يونس بن يزيد قد روى عن الزهري في حديث القنوت الذي رويناه في أول هذا الباب ما قد حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب فذكر ذلك الحديث بطوله ثم قال فيه ثم قد بلغنا أنه ترك ذلك حين أنزل عليه ليس لك من الأمر شيء الآية فصار ذكر نزول هذه الآية الذي كان به النسخ من كلام الزهري لا مما رواه عن سعيد وأبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه فقد يحتمل أن يكون نزول هذه الآية لم يكن أبو هريرة رضي الله عنه علمه فكان يعمل على ما علم من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم وقنوته إلى أن مات لأن الحجة لم تثبت عنده بخلاف ذلك وعلم عبد الله بن عمر رضي الله عنه عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر أن نزول هذه الآية كان نسخا لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعله فانتهينا إلى ذلك وتركا به المنسوخ المتقدم وحجة أخرى أن في حديث بن إيماء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حين رفع رأسه من الركعة غفار غفر الله لها حتى ذكر ما ذكر في حديثه ثم قال الله أكبر وخر ساجدا فثبت بذلك أن جميع ما كان يقوله هو ما ترك بنزول تلك الآية وما كان يدعو به مع ذلك من دعائه للأسرى الذين كانوا بمكة ثم ترك ذلك عندما قدموا وقد روى أبو هريرة رضي الله عنه أيضا في حديث يحيى بن كثير الذي قد رويناه فيما تقدم منا في هذا الباب عنه عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه فذكر القنوت وفيه قال أبو هريرة رضي الله عنه وأصبح ذات يوم ولم يدع لهم فذكرت ذلك فقال أو ما تراهم قد قدموا علي ففي ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول ذلك القنوت في العشاء الآخرة كما كان يقوله في الصبح وقد أجمعوا أن ذلك منسوخ من صلاة العشاء الآخرة بكماله لا إلى قنوت غيره فالفجر أيضا في النسخ كذلك فلما كشفنا وجوه هذه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في القنوت فلم نجدها تدل على وجوبه الآن في صلاة الفجر لم نأمر به فيها وأمرنا بتركه مع أن بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أنكره أصلا كما

جعفر بن ربیعہ نے ارج سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز صبح میں قنوت کرتے تھے ۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کے ہاں بدعا تو منسوخ ہوئی مگر اصل قنت اسی طرح باقی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ منسوخ بددعا ہوئی ،قنوت منسوخ نہیں ہوئی تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یونس نے زہری سے اس باب کے شروع میں جو طویل روایت نقل کی اس میں یہ ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ آیت (لیس لک من الامر) کے نزول کے بعد اس کو چھوڑ دیا تھا ۔ تو اس کے مطابق آیت نسخ والا کلام زہری کا ہے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام نہ بنا ۔ اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نزول آیت کا علم نہ ہوا ہو اور وہ آپکی وفات تک آپ کے گزشتہ فعل اور قنوت پر عمل کرتے رہے ہوں، کیونکہ ان کے ہاں اس کے خلاف دلیل نہیں ملی ۔ جب کہ ابن عمراور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم تھا کہ یہ آیت (لیس لک) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی ناسخ ہے ۔ اسی وجہ سے وہ اس پر عمل پیرا رہے اور اس کے ذریعہ جس عمل کو منسوخ کیا گیا تھا اسے چھوڑ دیا ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت خفاف رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ غفار قبیلہ کی مغفرت کرے۔ روایت کے آخرتک ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول آیت کے بعد ان کلمات کو نہیں چھوڑا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مقید و پابند لوگوں کے لیے دعا کا سلسلہ جاری رہا ۔ جب وہ رہا ہو کر آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کو ترک کر دیا ۔ باقی اس سے قبل یحییٰ بن کثیر کی منقولہ روایت جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہے اس میں بھی قنوت کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس میں یہ ہے کہ ایک صبح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کے لیے دعا مانگی ۔ میں نے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ میرے پاس آچکے ہیں ۔اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے اسی طرح عشاء کی نماز میں بھی پڑھتے تھے ۔اور اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ عشاء کی نماز میں یہ قنوت مکمل طور پر منسوخ ہے ۔ کسی اور قنوت کو بھی اس کی جگہ اختیار نہیں کیا ۔ پس فجر کی قنوت بھی اسی حکم میں ہے جب ہم نے قنوت کے سلسلہ ان روایت کی حقیقت کو کھول دیا تو اب ہم فجر میں قنوت کے واجب ہونےکی کوئی دلیل نہیں پاتے ،اسی وجہ سے ہم اس نماز میں اس کے پڑھنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ چھوڑنے کا کہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات اپنے مقام پر ہے کہ بعض صحابہ کرام اس کا بالکل انکار کرتے ہیں ۔

أبو جعفر فدل ذلك على ← كان أبو هريرة يقنت في صلاة الصبح ← الْأَعْرَجِ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 1436

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter