شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 24 باب ما ينبغي أن يقال في الركوع والسجود ) · حديث 1373
1304 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا الفرج بن فضالة عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها فقدت النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة فظننت أنه أتى جاريته فالتمسته بيدي فوقعت يدي على صدور قدميه وهو ساجد يقول اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ بك منك لا أحصى ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے میں نے ایک رات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی لونڈی کے قریب گئے ہوں گے پس میں نے اپنے ہاتھ سے تلاش کیا تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے درمیان میں لگا آپ اس وقت سجدہ ریز تھے اور دعا فرمارہے تھے ۔ اللھم انی اعوذبرضاک من سخطک واعوذبعفرک من عقابک واعو ذبک منک لا احصی ثناء علیک کما انت اثنیت علی نفسک اے اللہ ! میں آپ کی ناراضی سے آپ کی رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور آپ کی معافی کے واسطہ سے آپ کے عقاب سے پناہ مانگتا ہوں اور آپ کی ذات کا واسطہ دے کر آپ کی (ناراضگی سے) پناہ مانگتا ہوں میں آپ کی اس طرح تعریف نہیں کر سکتا جیسی آپ نے اپنی تعریف کی ہے ۔
عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن
Hadith 1373
