Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1333

1265 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا إسرائيل عن منصور عن إبراهيم عن علقمة والأسود أنهما دخلا على عبد الله فقال أصلى هؤلاء خلفكم فقالا نعم فقام بينهما وجعل أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله ثم ركعنا فوضعنا أيدينا على ركبنا فضرب أيدينا فطبق ثم طبق بيديه فجعلهما بين فخذيه فلما صلى قال هكذا فعل النبي صلى الله عليه و سلم

ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے نقل کیا کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے تو آپ نے فرمایا کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز ادا کر لی ہے ؟ یعنی امراء نے تو ان دونوں نے کہا جی ہاں! تو آپ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے ایک کو دائیں اور دوسرے کو بائیں جانب کھڑا کر لیا پھر ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پر ضرب لگائی اور ان کو جمع کر دیا پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمع کر کے دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا جب وہ نماز پڑھ چکے تو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1333

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1334

1266 - حدثنا علي قال ثنا عبيد الله قال ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة والأسود أنهما كانا مع عبد الله ثم ذكر نحوه

عبداللہ بن الاسود نے علقمہ اور اسود دونوں سے نقل کیا کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

نَحْوَهُ ← علقمة والأسود أنهما كانا مع عبد الله ثم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1334

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1335

1267 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال حدثني إبراهيم عن الأسود قال دخلت أنا وعلقمة على عبد الله فقال أصلى هؤلاء خلفكم فقلنا نعم قال فصلوا فصلى بنا فلم يأمرنا بأذان ولا إقامة فقمنا خلفه فقدمنا فقام أحدنا عن يمينه والآخر عن شماله فلما ركع وضع يديه بين رجليه وحنا قال وضرب يدي على ركبتي وقال هكذا وأشار بيده فلما صلى قال إذا كنتم ثلاثة فصلوا جميعا وإذا كنتم أكثر من ذلك فقدموا أحدكم فإذا ركع أحدكم هكذا وطبق يديه ثم ليفرش ذراعيه بين فخذيه فكأني أنظر إلى أصابع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا واحتجوا بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينبغي له إذا ركع أن يضع يديه على ركبتيه شبه القابض عليهما ويفرق بين أصابعه واحتجوا في ذلك بما

ابراہیم نے اسود سے نقل کیا کہ میں اور علقمہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے تو آپ نے فرمایا کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز ادا کر لی ہے َ؟ ہم نے کہا جی ہاں تو فرمایا پس تم نماز پڑھو(یعنی میرے ساتھ نفلی نماز) چانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی ہمیں اذان واقامت کا حکم نہیں فرمایا ہم ان کےپیچھے کھڑے ہوئے تو انہوں نے ہمیں آگے بڑھایا ایک کو دائیں اور ایک کو بائیں جانب کھڑا کیا جب انہوں نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو اپنی ٹانگوں کے مابین رکھا اور جھکے اسود کہتے ہیں انہوں نے میرے دونوں ہاتھوں کو میرے گھٹنو ں پر مارا اور اپنے ہاتھ سے ملانے کا اشارہ کیا جب نماز پڑھا چکے تو فرمانے لگے۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1335

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1336

1268 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بشر بن عمر وحيان بن هلال قالا ثنا شعبة قال أخبرني أبو حصين عن أبي عبد الرحمن قال قال عمر أمسوا فقد سنت لكم الركب

ابو حصن نے ابو عبدالرحمن سے نقل کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اپنے ہاتھوں کو اس انداز سے گھٹنوں پر رکھو کہ وہ اسے تھام لیں اور اس طرح گھٹنوںکا پکڑنا آسان کر دیا گیا ۔

عمر أمسوا فقد سنت لكم الركب ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو حُصَيْنٍ، ← شُعْبَةُ، ← بشر بن عمر وحيان بن هلال ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1336

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1337

1269 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا همام قال ثنا عطاء بن السائب قال ثنا سالم البراد قال وكان عندي أوثق من نفسي قال قال لنا أبو مسعود البدري ألا أريكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر حديثا طويلا قال ثم ركع فوضع كفيه على ركبتيه وفصلت أصابعه على ساقيه

عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھے سالم البراد نے ( جو میرے ہا ں اپنے سے زیادہ قابل اعتماد ہے ) بیان کیا کہ ہمیں ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ دکھلاؤں پھر انہوں نے طویل روایت ذکر کی عطاء کہتے ہیں پھر انہوں نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو دونوں پنڈلیوں پر کھول دیا۔

سَالِمٍ الْبَرَّادِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1337

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1338

1270 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا فليح بن سليمان عن عباس بن سهل قال اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فيما يظن بن مرزوق فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا ركع وضع يديه على ركبتيه كأنه قابض عليهما

عباس بن سہل کہتے ہیں کہ ابو حمید،ابو سید اور سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ جمع ہوئے جیسا کہ ابن مروزق راوی کا خیال ہے تو ابو حمید کہنے لگے کیا میں تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ سکھاؤں چنانچہ وہ جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے گویا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے والے ہیں۔

عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1338

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1339

1271 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال ثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حميد الساعدي في عشرة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أحدهم أبو قتادة فذكر مثله قال فقالوا جميعا صدقت

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی سے دس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یہ سنا ان میں ابو قتادہ بھی تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے انہوں نے ان کی بات سن کر کہا تم نے سچ کہا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کچھ لوگوں نے اس روایت کو اختیار کیا جبکہ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ رکوع میں ہاتھوں کو ملانا نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اپنے گھٹنوں پر اس طرح رکھے جیسے ان کو پکڑنے والا ہے اور اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1339

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1340

1272 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ركع وضع يديه على ركبتيه

عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے انہوں نے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب وہ رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1340

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1341

1273 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال أنا حيوة قال سمعت بن عجلان يحدث من سمى عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال اشتكى الناس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم التفرج في الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم استعينوا بالركب فكانت هذه الآثار معارضة للأثر الأول ومعها من التواتر ما ليس معه فأردنا أن ننظر هل في شيء من هذه الآثار ما يدل على نسخ أحد الأمرين بصاحبه فاعتبرنا ذلك

سمی نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں کھل جانے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھٹنوں سے معاونت لو۔ پس یہ آثار پہلی روایت کے معارض ہیں اور ان کے ساتھ عمل کا تواتر بھی موجود ہے جو اس روایت کے ساتھ نہیں ہے پس ہم چاہتے ہیں کہ ان آثار پر نگاہ ڈال کر ایسی روایت تلاش کریں جو کسی ایک کے نسخے پر دلالت کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← من سمى ← بن عَجْلَانَ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1341

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1342

1274 - فإذا أبو بكرة قد حدثنا قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا شعبة عن أبي يعفور قال سمعت مصعب بن سعد يقول صليت إلى جنب أبي فجعلت يدي بين ركبتى فضرب يدي فقال يا بني إنا كنا نفعل هذا فأمرنا أن نضرب بالأكف على الركب

ابو یعفور سے روایت ہے کہ میں نے مصعب بن سعید کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی تو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان میں کر لیا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارکر فرمایا اے بیٹے ہم اس کو کیا کرتے تھے پھر ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہوا۔

يَا بُنَيٌّ. ← صليت إلى جنب أبي فجعلت يدي بين ركبتى فضرب يدي ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← اَبِیْ یَعْفُورٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← فإذا أبو بكرة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1342

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1343

1275 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أبو عوانة عن أبي يعفور فذكر بإسناده مثله

ابو عوانہ نے ابو یعفور سے پھر اس نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبي يعفور فذكر بإسناده مثله ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1343

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 22 باب التطبيق في الركوع ) · حديث 1344

1276 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق عن مصعب بن سعد قال صليت مع سعد فلما أردت الركوع طبقت فنهاني عنه وقال كنا نفعله حتى نهى عنه فقد ثبت بما ذكرنا نسخ التطبيق وأنه كان متقدما لما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم من وضع اليدين على الركبتين ثم التمسنا حكم ذلك من طريق النظر كيف هو فرأينا التطبيق فيه التقاء اليدين ورأينا وضع اليدين على الركبتين فيه تفريقهما فأردنا أن ننظر في حكم أشكال ذلك في الصلاة كيف هو فرأينا السنة جاءت عن النبي صلى الله عليه و سلم بالتجافى في الركوع والسجود واجمع المسلمون على ذلك فكان ذلك من تفريق الأعضاء وكمن قام في الصلاة أمر أن يراوح بين قدميه وقد روى ذلك عن بن مسعود وهو الذي روي التطبيق فلما رأينا تفريق الأعضاء في هذا بعضها من بعض أولى من إلصاق بعضها ببعض واختلفوا في إلصاقها وتفريقها في الركوع كان النظر على ذلك أن يكون ما اختلفوا فيه من ذلك معطوفا على ما أجمعوا عليه منه فيكون كما كان التفريق فيما ذكرنا أفضل يكون في سائر الأعضاء كذلك وقد روى التجافي في السجود ما

ابو اسحاق نے مصعب بن سعد سے نقل کیا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز ادا کی جب میں نے رکوع کا ارادہ کیا تو میں نے تطبیق کی تو انہوں نے اس سے منع فرمایا اور کہا ہم اس سے پہلے کیا کرتے تھے پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا ۔ مندرجہ بالا روایات سے تطبیق کا منسوخ ہونا ثابت ہو گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے والے عمل سے پہلے کا عمل ہے ۔ پھر ہم نے نظر و فکر کے طور پراس کی کیفیت معلوم کرنا چاہی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تطبیق دونوں ہاتھوں کے ملانےکو کہتے ہیں اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے میں دونوں ہاتھوں کی تفریق ہے پس ہم نے چاہا کہ اسکا حکم نماز میں اس کے ہم شکلوں کے ساتھ معلوم کریں چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ رکوع اور سجدہ میں اعضاء کو الگ الگ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجماعی سنت ہے ۔ اور یہ اعضاء کو الگ الگ رکھنے سے ادا ہوتی ہے جیسا کہ نماز میں کھڑے ہونے والے کو دونوں قدموں کے درمیان فاصلے کا حکم دیا گیا ۔ اور اسی روایت کے راوی حضرت عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور تطبیق والی روایت کے راوی بھی خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جب ہم نے غور کیا تو رکوع میں اعضاء کا جدا جدا رکھنا ایک دوسرے کے ساتھ ملانے سے زیادہ بہتر ہے اختلاف تو اس کے ملانے اور جدا رکھنے میں ہے تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اختلافی حالت ہے اس کی اجماعی حالت کی طرف پھیر دیا جائے ۔ پس ان کو ہاتھوں کو جدا رکھنا دیگر تمام اعضاء کے جدا جدا رکھنے کی طرف افضل ٹھہرا۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1344

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter