Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1326

1259 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبي حمزة عن إياس بن قتادة عن قيس بن عباد قال قال لي أبي بن كعب قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم كونوا في الصف الذي يليني قال أبو جعفر فعبد الله من أولئك الذين كانوا يقربون من النبي صلى الله عليه و سلم ليعلموا أفعاله في الصلاة كيف هي ليعلموا الناس ذلك فما حكوا من ذلك فهو أولى مما جاء به من كان أبعد منه منهم في الصلاة فإن قالوا ما ذكرتموه عن إبراهيم عن عبد الله غير متصل قيل لهم كان إبراهيم إذا أرسل عن عبد الله لم يرسله إلا بعد صحته عنده وتواتر الرواية عن عبد الله قد قال له الأعمش إذا حدثتني فأسند فقال إذا قلت لك قال عبد الله فلم أقل ذلك حتى حدثنيه جماعة عن عبد الله وإذا قلت حدثني فلان عن عبد الله فهو الذي حدثني

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس صف میں ہوا کرو جو مجھ سے قریب تر ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہتے تھے تاکہ وہ نماز والے افعال کی کیفیت جان کر دوسروں کو سکھائیں ۔ پس جو ان حضرات نے بیان کیا وہ ان حضرات کے بیان سے اولیٰ و بہتر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہنے والے تھے ( اور ا ن کو بھی کبھی کبھی حاضری کا موقعہ میسر آتا ) اگر وہ کہیں جو تم نے ابراہیم سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ متصل نہیں، تو ان کو یہ جواب دیا جائے گا کہ ابراہیم جب عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ارسال کرتے ہیں تو وہ روایت ان کے نزدیک تو اتر و صحت سے پہنچی ہوئی ہوتی ہے ۔ اعمش نے ان کو کہا کہ مجھے روایت بیان کرتے ہوئے سند بیان کیا کرو تو انہوں نے فرمایا جب میں تم سے کہو کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو سمجھ لو کہ یہ بات اسی وقت کہتا ہوں جب وہ بات ایک جماعت مجھ سے بیان کرتی ہے اور جب میں کہوں: حدثنی فلان عن عبداللہ رضی اللہ عنہ تو وہ مجھے فقط اسی شخص نے بیان کی ہوتی ہے ۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← إياس بن قتادة ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1326

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1327

1260 - حدثنا بذلك إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب أو بشر بن عمر شك أبو جعفر عن شعبة عن الأعمش بذلك قال أبو جعفر فأخبر أن ما أرسله عن عبد الله فمخرجه عنده أصح من مخرج ما ذكره عن رجل بعينه عن عبد الله فكذلك هذا الذي أرسله عن عبد الله لم يرسله إلا ومخرجه عنده أصح من مخرج ما يرويه عن رجل بعينه عن عبد الله ومع ذلك فقد رويناه متصلا في حديث عبد الرحمن بن الأسود وكذلك كان عبد الله يفعل في سائر صلاته كما

وہب یا بشر بن عمر نے بیان کیا کہ یہ ابو جعفر کو شک ہے انہوں نے شعبہ اور انہوں نے اعمش سے اس کو نقل کیا ۔ ابو جعفر کہتا ہے کہ ابراہیم نخعی نے بتلایا کہ عبداللہ سے میرا ارسال کرنا وہ معینہ آدمی سے روایت ذکر کرنے سے زیادہ مضبوط ہے یہ روایت اسی طرح کی مرسل ہے اور یہ اس متصل سے اعلیٰ ہے جو ایک معینہ آدمی سے نقل کی جائے اور عبداللہ کی طرف نسبت کی جائے ان تمام خوبیوں کے باوجود یہ روایت عبدالرحمن بن اسود کی سند سے متصل بھی منقول ہے اور حضرت عبداللہ اپنی تمام نمازوں میں اسی طرح کرتے تھے ۔

رجل بعينه ← عبد الله لم يرسله إلا ومخرجه عنده أصح من مخرج ما يرويه ← عبد الله فكذلك هذا الذي أرسله ← رجل بعينه ← عبد الله فمخرجه عنده أصح من مخرج ما ذكره ← أبو جعفر فأخبر أن ما أرسله ← الأعمش بذلك ← شُعْبَةُ، ← وهب أو بشر بن عمر شك أبو جعفر ← بذلك إبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1327

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1328

1261 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو الأحوص عن حصين عن إبراهيم قال كان عبد الله لا يرفع يديه في شيء من الصلاة إلا في الافتتاح وقد روى مثل ذلك أيضا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كما

ابراہیم کہتے ہیں کہ عبداللہ نماز کے کسی بھی جز ء میں ابتدائی تکبیر کے علاوہ نماز میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے ۔ حاصل روایت یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر افتتاح کے علاوہ نماز میں کہیں رفع یدین نہ فرماتے تھے ۔ پس ابراہیم نخعی (۔) کے ارسال کی وضاحت کے بعد ابن ان کے ارسال پر اعتراض بے جا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی عدم رفع کی کی روایت ملاحظہ ہو۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حُصَيْنٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1328

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1329

1262 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الحماني قال ثنا يحيى بن آدم عن الحسن بن عياش عن عبد الملك بن أبحر عن الزبير بن عدي عن إبراهيم عن الأسود قال رأيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يرفع يديه في أول تكبيرة ثم لا يعود قال ورأيت إبراهيم والشعبي يفعلان ذلك قال أبو جعفر فهذا عمر رضي الله عنه لم يكن يرفع يديه أيضا إلا في التكبيرة الأولى في هذا الحديث وهو حديث صحيح لأن الحسن بن عياش وإن كان هذا الحديث إنما دار عليه فإنه ثقة حجة قد ذكر ذلك يحيى بن معين وغيره أفترى عمر بن الخطاب رضي الله عنه خفي عليه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يرفع يديه في الركوع والسجود وعلم بذلك من دونه ومن هو معه يراه يفعل غير ما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل ثم لا ينكر ذلك عليه هذا عندنا محال وفعل عمر رضي الله عنه هذا وترك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه علي ذلك دليل صحيح أن ذلك هو الحق الذي لا ينبغي لأحد خلافه وأما ما رووه عن أبي هريرة رضي الله عنه من ذلك فإنما هو من حديث إسماعيل بن عياش عن صالح بن كيسان وهم لا يجعلون إسماعيل فيما روى عن غير الشاميين حجة فكيف يحتجون على خصمهم بما لو احتج بمثله عليهم لم يسوغوه إياه وأما حديث أنس بن مالك رضي الله عنه فهم يزعمون أنه خطأ وأنه لم يرفعه أحد إلا عبد الوهاب الثقفي خاصة والحفاظ يوقفونه على أنس رضي الله عنه وأما حديث عبد الحميد بن جعفر فإنهم يضعفون عبد الحميد فلا يقيمون به حجة فكيف يحتجون به في مثل هذا ومع ذلك فإن محمد بن عمرو بن عطاء لم يسمع ذلك الحديث من أبي حميد ولا ممن ذكر معه في ذلك الحديث بينهما رجل مجهول قد ذكر ذلك العطاف بن خالد عنه عن رجل وأنا ذاكر ذلك في باب الجلوس في الصلاة إن شاء الله تعالى وحديث أبي عاصم عن عبد الحميد هذا ففيه فقالوا جميعا صدقت فليس يقول ذلك أحد غير أبي عاصم

ابراہیم نے اسود سے نقل کی ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ پہلی تکبیر میں صرف ہاتھ اٹھاتے پھر دوبارہ ہاتھ نہ اٹھاتے تھے اور میں نے ابراہیم نخعی اور شعبی کو اسی طرح کرتے دیکھا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے مطابق صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یہ روایت صحیح ہے کیونکہ اس کا دارو مدار حسن بن عیاش راوی پر ہے ۔ اور وہ قابل اعتماد پختہ راوی ہے ۔ جیسا کہ یحییٰ بن معین وغیرہ نے بیان کیا ہے ۔ یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں ہاتھ اُٹھاتے ہوں اور عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ ہوں اور دوسروں کو معلوم ہو جائیں جو ان سے کم صحبت والے ہوں۔ اور آپ کے ساتھی آپ کو ایسا فعل کرتے دیکھیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو پھر وہ اس کا انکار نہ کریں، ہمارے نزدیک تو یہ بات ناممکنات سے ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کو چھوڑنا اس بات کی پکی دلیل ہے کہ یہ ایسا حق ہے کہ کسی عاقل کو اس کے خلاف کرنا مناسب نہیں ۔ رہی وہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جس کو اسماعیل بن عیاش نے نقل کیا ہے ۔ تو وہ خود اسماعیل کو شامیوں کے علاوہ کی جانے والی روایت مین حجت قرار نہیں دیتے تو ایسی روایت سے اپنے مخالف پر بطور دلیل کے کس طرح پیش کر سکتے ہیں کہ اگر اس جیسی روایت سے ان کے خلاف دلیل پیش کی جائے تو وہ کبھی اسے برداشت نہ کریں گے ۔ رہی روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو وہ مخالفین خود اس کے غلط قرار دیتے ہیں ۔ عبدالوہاب ثقفی کے علاوہ اور کسی نے اس کو مرفوع بیان نہیں کیا ۔ بلکہ حفاظ تو اسے انس پر موقوف قرار دیتے ہیں ۔ باقی روایت عبدالحمید بن جعفر تو وہ (مخالفین ) اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں تو ایسے موقعہ پر ایسے شخص کی روایت کو بطور حجت (ہمارے خلاف) کیسے پیش کرتے ہیں حالانکہ محمد بن عمرو نے اس کو ابو حمید سے نہیں سنا اور نہ ہی ان سے جن کا تذکرہ اس کے ساتھ ہو ۔ اس روایت میں ان کے درمیان ایک مجہول شخص ہے ۔اس بات کو ایک آدمی سے بیان کیا ہے ۔ میں باب الجلوس فی الصلوۃ میں انشاء اللہ اسکا تذکرہ کروں گا ۔ اور ابو عاصم کی عبدالحمید سے روایت تو اس میں یہ الفاظ ہیں " فقالو ا جمیعا صدقت " یہ اضافہ ابو عاصم کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت کہ وہ صرف تکبیر افتتاح کے وقت ہاتھ اٹھاتے یہ صحیح روایت ہے اس کا دارومدار حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ پر ہے اور ان کے متعلق یحییٰ بن معین نے حجۃ ثقہ " فرمایا ہے اس سے ظاہر ہو گیا کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں ۔ اب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو رسالت مآب کے اس قدر قریب رہتے والے تھے ان پر یہ چیز مخفی کیسے رہ سکتی تھی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود کے موقعہ پر رفع یدن کرتے ہوں اور انکو معلوم ہی نہ ہو اور ان لوگوں کو معلوم ہو گیا جو ان سے کم درجہ تھے اور جو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے خلاف عمل کرتا دیکھیں جو عمل کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتا دیکھتے ہوں پھر وہ ان پر کوئی نکیر نہیں کرتے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان سب کے ہاں رفع نہ رکنا ہی صحیح تھا ہمارے نزدیک یہ بات ناممکن ہے کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف عمل کریں اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اس پر چھوڑ دیں پس یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رفع یدین نہ کرنا ہی ایسا حق ہے کہ جس کی مخالفت کسی کو درست نہیں ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الزبير بن عدي ← عَبد الملك بن أبحر، ← الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الحماني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1329

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1330

1263 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى قال ثنا هشيم ح

یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں ہمیں ہشیم نے نقل کیا پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ۔

هُشَيْمٌ ← يَحْيَى ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1330

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1331

وحدثنا بن أبي عمران قال ثنا القواريري قال ثنا يحيى بن سعيد قالا ثنا عبد الحميد فذكراه بإسناده ولم يقولا فقالوا جميعا صدقت وهكذا رواه غير عبد الحميد وقد ذكرنا في باب الجلوس في الصلاة فما نرى كشف هذه الآثار يوجب لما وقف على حقائقها وكشف مخارجها إلا ترك الرفع في الركوع فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار قال أبو جعفر فما أردت بشيء من ذلك تضعيف أحد من أهل العلم وما هكذا مذهبى ولكني أردت بيان ظلم الخصم لنا وأما وجه هذا الباب من طريق النظر فإنهم قد أجمعوا أن التكبيرة الأولى معها رفع والتكبيرة بين السجدتين لارفع معها واختلفوا في تكبيرة النهوض وتكبيرة الركوع فقال قوم حكمها حكم تكبيرة الافتتاح وفيهما الرفع كما فيها الرفع وقال آخرون حكمها حكم التكبيرة بين السجدتين ولا رفع فيهما كما لارفع فيها وقد رأينا تكبيرة الافتتاح من صلب الصلاة لا تجزئ الصلاة إلا بإصابتها ورأينا التكبيرة بين السجدتين ليست كذلك لأنه لو تركها تارك لم تفسد عليه صلاته ورأينا تكبيرة الركوع وتكبيرة النهوض ليستا من صلب الصلاة لأنه لو تركها تارك لم تفسد عليه صلاته وهما من سننها فلما كانت من سنة الصلاة كما أن التكبيرة بين السجدتين من سنة الصلاة كانتا كهى في أن لا رفع فيهما كما لارفع فيها فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى ولقد

یحییٰ بن سعید اور ہشیم دونوں کہتے ہیں ہمیں عبدالحمید نے اپنی سند سے روایت کیا ان دونوں نے فقالواجمیعا" کے الفاظ نقل نہیں کئے بلکہ عبدالحمید کے علاوہ نے بھی ان الفاظ کے بغیر روایت نقل کی ہے چنانچہ باب الجلوس فی الصلوۃ میں ملاحظہ کر لیں۔ رفع یدین کی حمایت میں پیش کردہ روایات کی حقیقت سامنے آنے اور ان کے مخارج ظاہر ہرنے کے بعد رکوع اور سجدہ میں ترک رفع یدین کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ یہ تو آثار کے پیش نظر بات ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس سے کسی عالم راوی کی کمزوری ظاہر کرنا مقصود نہیں اور نہ یہ میرا طریقہ ہے لیکن میرا مقصود صرف مخالف فریق کی زیادتی واضح کرنا ہے ۔ اب بطور نظرو فکر کے اس بات پر غور کریں کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ تکبیر افتتاح میں رفع یدین ہے ۔ اور دونوں سجدوں کے درمیان والی تکبیر میں رفع یدین نہیں ۔ اٹھنے اور رکوع کی تکبیر میں اختلاف ہے ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کا حکم تکبیر افتتاح والا ہے ۔ جیسا اس میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اسی طرح ان میں بھی ہاتھ اٹھائیں گے ۔جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ ان کا حکم دونوں سجدوں کے مابین تکبیر والا ہے ۔ جیسا اس میں رفع دین نہیں ان دونوں میں بھی رفع یدین نہیں ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تکبیر افتتاح تو نماز کا اصل حصہ ہے کہ اس کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں ۔ اور دونوں سجدوں کے مابین تکبیر وہ یہ حکم نہیں رکھتی کیونکہ بالفرض اگر اس کو کوئی ترک کر دے تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی اور وہ دونوں نماز کے ستن سے ہے ۔ پس جب وہ نماز کی سنت میں سے ہے جیسا کہ اٹھنے کی تکبیر نماز کے ارکان میں سے نہیں اس لیے کہ بالفرض اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کی نماز نہ توٹے گی یہ دونوں تکبیرات نماز کی سنتوں میں سے ہے ۔ تو نماز کی سنت کا جو حکم ہے جیسا کہ دونوں سجدوں کے درمیان والی تکبیر تو وہی حکم ان کا ہے تو ان دونوں میں بھی رفع یدین نہیں ۔ جیسا کہ اس میں رفع یدین نہیں ۔ اس باب میں نظر و فکر کا یہی تقاضا ہے ۔ ہمارے امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی معمول ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1331

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 21 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا ) · حديث 1332

1264 - حدثني بن أبي داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو بكر بن عياش قال ما رأيت فقيها قط يفعله يرفع يديه في غير التكبيرة الأولى

ابن ابی داؤد نے احمد بن یونس سے انہوں نے امام ابو بکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ میں نے کسی عالم فقیہ کو کبھی تکبیر افتتاح کے علاوہ رفع یدین کرتے نہیں پایا ۔ واللہ علم

ما رأيت فقيها قط يفعله يرفع يديه في غير التكبيرة الأولى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1332

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter