شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 17 باب القراءة في الظهر والعصر ) · حديث 1180
1115 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسي قال ثنا سعيد وحماد أنا زيد عن أبي جهضم موسى بن سالم عن عبد الله بن عبيد الله بن عباس رضي الله عنهم قال كنا جلوسا في فتيان من بني هاشم إلى بن عباس رضي الله عنهما فقال له رجل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في الظهر والعصر قال لا قال فلعله كان يقرأ فيما بينه وبين نفسه في حديث سعيد قال لا وفي حديث حماد هي شر من الأولى ثم قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم عبدا لله أمره الله عز و جل فبلغ والله ما أمر به
عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ہاشم کے چند نوجوان ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ اس نے کہا شاید آپ اپنے دل میں پڑھ لیتے ہوں یہ سعید کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا نہیں اور حماد کی روایت میں ہے یہ پہلی سے بھی زیادہ بری بات ہے پھر کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مامور بندے تھے اللہ کی قسم آپ کو جو حکم ملا آپ نے پہنچا دیا ۔
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَهْضَمٍ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، ← زيد1 ← سعيد وحماد ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1180
