شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1136
1072 - فإذا فهد بن سليمان قد حدثنا قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا شريك عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فرأيته يرفع يديه حذاء أذنيه إذا كبر وإذا رفع وإذا سجد فذكر من هذا ما شاء الله قال ثم أتيته من العام المقبل وعليهم الأكسية والبرانس فكانوا يرفعون أيديهم فيها وأشار شريك إلى صدره فأخبر وائل بن حجر في حديثه هذا أن رفعهم إلى مناكبهم إنما كان لأن أيديهم كانت حينئذ في ثيابهم وأخبر أنهم كانوا يرفعون إذا كانت أيديهم ليست في ثيابهم إلى حذو آذانهم فاعلمنا روايته كلها فجعلنا الرفع إذا كانت اليدان في الثياب لعلة البرد إلى منتهى ما يستطاع الرفع إليه وهو المنكبان وإذا كانتا باديتين رفعهما إلى الأذنين كما فعل صلى الله عليه و سلم ولم يجز أن يجعل حديث بن عمر رضي الله عنه عنهما وما أشبهه الذي فيه ذكر رفع اليدين إلى المنكبين كان ذلك واليدان باديتان إذا كان قد يجوز أن تكونا كانتا في الثياب فيكون ذلك مخالفا لما روى وائل بن حجر فيتضاد الحديثان ولكنا نحملهما على الاتفاق فنجعل حديث بن عمر رضي الله عنهما على أن ذلك كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم ويداه في ثوبه على ما حكاه وائل في حديثه ونجعل ما روى وائل عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه فعله في غير حال البرد من رفع يديه إلى أذنيه فيستحب القول به وترك خلافه وأما ما رويناه عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك فهو خطأ وسنبين ذلك في
عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت وائل حجررضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ افتتاح صلاۃ کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تکبیر کہتے ہوئے بلند کرتے ہیں اور جب آپ اٹھتے اور سجدہ کرتے ہیں پھر اسی طرح انہوں نے بیان کیا ابن حجر کہتے ہیں میں پھر آئندہ سال آیا تو صحابہ کرام نے چادریں اور ٹوپیاں اوڑھ رکھی تھیں وہ انہی چادروں میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے تھے شریک راوی نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا ۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں بتلایا کہ کندھوں تک ہاتھوں کا اٹھانا اس بنا پر تھا کہ ان کے ہاتھ کپڑوں پر تھے انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ وہ اپنے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھاتے تھے جبکہ وہ کپڑوں میں نہ ہوتے تھے پس ہم نے ان کی روایت پر مکمل طور پر اس طرح عمل کیا جب ہاتھ کپڑوں میں ہوں تو اس حدتک اٹھائے جائیں جہاں تک آدمی اٹھا سکتاہو اور وہ کندھے ہیں اور جب دونوں ہاتھ کپڑوں سے باہر ہوں تو ان کو کانوں تک اٹھایا جائے گاجیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور وہ روایت جس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات نے روایت کیا جس میں کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ ہے جبکہ وہ کھلے ہوں تو یہ روایت اس کے خلاف نہیں ۔ اس لیے کہ یہ کہنا درست ہے کہ دونوں ہاتھ کپڑوں میں تھے تو اس صورت میں یہ روایت وائل بن حجر کی روایت کے مخالف بن گئی۔ مگر ہم ان کو اتفاق پر اس طرح محمول کریں گے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت اس موقع کے لئے ہے جبکہ آپ کے ہاتھ کپڑوں میں تھے جیسا کہ حضرت وائل کی روایت میں آیا ہے اور وائل بن حجر کی روایت میں آپ کا جو فعل وارد ہوا ہے جس میں کانوں تک ہاتھ اٹھانا مذکور ہے وہ سردی کے علاوہ وقت سے متعلق ہے۔ پس اس کا اختیار کرنا مستحب ہے اور اس کی مخالفت کو ترک کر دینا بہتر ہے بقیہ جو روایت علی المرتضی سے مروی ہے اس کی کمزوری باب رفع الیدین فی الرکوع میں ذکر کریں گے ان شاء اللہ۔ اس باب میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت اور دیگر روایات جن کی ہم نے تفصیل کی جس سے آپ کی سردیوں کی حالت اور سردیوں کے علاوہ حالت کی تفصیل ہوئی ہی امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فإذا فهد بن سليمان قد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1136
