Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1113

1050 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبي صدقة مولى أنس رضي الله عنه عن أنس أنه سئل عن مواقيت الصلاة فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى صلاة العصر ما بين صلاتيكم هاتين فذلك محتمل أن يكون أراد بقوله فيما بين صلاتيكم هاتين ما بين صلاة الظهر وصلاة المغرب فذلك دليل على تأخيره العصر ويحتمل أن يكون أراد فيما بين تعجيلكم وتأخيركم فذلك دليل على التأخير أيضا وليس بالتأخير الشديد فلما احتمل ذلك ما ذكرنا وكان في حديث أبي الأبيض عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصليها والشمس بيضاء محلقة دل على أنه قد كان يؤخرها فإن قال قائل وكيف ذلك كذلك وقد روى عن أنس رضي الله عنه في ذم من يؤخر العصر فذكر في ذلك

شعبہ نے ابو صدقہ مولیٰ انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ان (انس رضی اللہ عنہ) سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری ان دونوں نمازوں کے درمیان نماز عصر ادا فرماتے ۔ اس روایت میں یہ احتمال ہے کہ روایت کے الفاظ((فی مابین صلوتیکم ھاتین۔۔۔۔۔۔۔) اس سے ظہر اورمغرب کی نماز یں مراد ہیں ۔ یہ تاخیر عصر کی دلیل ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تمہاری عجلت اور تاخیر کے درمیان مراد ہے پس یہ تاخیر کی دلیل بن گئی۔ مگر اس تاخیرسے قسم کی تاخیر مراد نہیں ۔ جب روایت میں مذکورہ احتمال پیدا ہو گیا اور ابو الا بیض والی روایت کہ آپ نماز عصر کو ایسے وقت میں ادا فرماتے جب سورج سفید اور رشن ہوتا وہ تاخیر کو ثابت کر رہی ہے اگر کوئی اس کےمتلق یہ کہے کہ آپ اس سے تاخیر کیسے مراد لیتے ہیں جبکہ حضرت انس رضی اللہ علیہ کی یہ روایت موجود ہے ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1113

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1114

ما حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن العلاء بن عبد الرحمن أنه قال دخلت على أنس بن مالك رضي الله عنه بعد الظهر فقام يصلي العصر فلما فرغ من صلاته ذكرنا تعجيل الصلاة أو ذكرها فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول تلك صلاة المنافقين قالها ثلاثا يجلس أحدهم حتى إذا اصفرت الشمس وكانت بين قرني الشيطان قام فنقرأ ربعا لا يذكر الله فيهن إلا قليلا قيل له فقد بين أنس رضي الله عنه في هذا الحديث التأخير المكروه ما هو وإنما هو التأخير الذي لا يمكن بعده أن يصلى العصر إلا أربعا لا يذكر الله إلا قليلا فأما صلاة يصليها متمكنا ويذكر الله تعالى فيها متمكنا قبل تغير الشمس فليس ذلك من الأول في شيء والأولى بنا في هذه الآثار لما جاءت هذا المجيء أن نحملها ونخرج وجوهها على الاتفاق لا على الخلاف والتضاد فنجعل التأخير المكروه فيها هو ما بينه العلاء عن أنس ونجعل الوقت المستحب من وقتها أن يصلى فيه هو ما بينه أبو الأبيض عن أنس ووافقه على ذلك أبو مسعود فإن قال قائل فقد روى عن عائشة رضي الله عنها ما يدل على التعجيل بها فذكر

علاء بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ظہر کے بعد گیا تو ذرا دیر کے بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز عصر کی عجلت کا تذکرہ کیا تو فرمانے لگے یہ منافقین کی نماز ہے یہ تین بار دہرایا کہ ان میں سے کوئی بیٹھ رہتا ہے جب سورج پیلازرد پڑ جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو پھر چارٹھونگے مارتا ہے اور ان میں معمولی سا الله تعالی کا ذکر کرتا ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ اس روایت میں تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس تاخیر کی وضاحت کی جو کہ ناپسندیدہ ہے اور وہ اسی تاخیر ہے کہ جس کے بعد فقط چار رکعتیں عصر کی پڑھی جاسکتی ہوں اور الله تعالی کا معمولی ذکر کیا جاسکتا ہو۔ اطمینان کے ساتھ ذکر والی نماز تو سورج کے زرد پڑنے سے پہلے ہے۔ اس وعید اور ڈراوے کا تعلق اس بات سے نہیں ہے ۔ پس ہمارے لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ اس روایت کا ایسا معنی لیں جس سے ان کا باہمی تضاد ختم ہو کر مطابقت پیدا ہو جائے ۔ چنانچہ ہم عرض کریں گے کہ علاء والی روایت سے مراد مکروہ تاخیر ہے اور ابو الا بیض والی روایات سے مصر کا مستحب وقت مراد ہے چنانچہ ابو مسعود والی روایت بھی اسی کے موافق ہے اور اگر کوئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم کی ان روایات سے استدلال کرے۔ اس کا جواب گزر چکا ان آثار کو مجموعی طور پر دیکھو اور ان کی صحت کا لحاظ رکھا جائے تو تاخیر عصر پر دلالت کرتے ہیں ان میں کوئی روایت بھی عصر کی تاخیر کو مستحب قرار دیا کہ اس کو ایسے وقت میں پڑھا جائے جبکہ سورج اچھی طرح روشن ہوا اور غروب سے پہلے وقت بچتا ہو ۔ اگر ہم غور کریں تو تمام نمازوں کا جلدی پڑھنا افضل نظر آتا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو باتیں روایات میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہو رہی ہیں ان کی پیروی اولیٰ ہے چنانچہ یہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1114

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1115

ما حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة قال حدثتني عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها قبل أن تظهر

عروہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرماتے تھے جبکہ سورج کی دھوپ میرے حجرہ میں ہوتی اور سایہ خوب نمایاں نہ ہوتا تھا ۔

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1115

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1116

1053 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا سفيان عن الزهري سمع عروة يحدث عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها لم يفيء الفيء بعد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے جبکہ سورج کی دھوپ میرے حجرہ میں ہوتی اور اس کا سایہ دیواروں پرظاہر و نمایاں نہ ہوتا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1116

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1117

1054 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي صلاة العصر والشمس طالعة في حجرتي قيل له قد يجوز أن يكون ذلك كذلك وقد أخر العصر لقصر حجرتها فلم يكن الشمس قد تنقطع منها إلا بقرب غروبها فلا دلالة في هذا الحديث علي تعجيل العصر وذكر في ذلك ما حدثنا عبد الغني بن أبي عقيل قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة ح

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرفاتے جبکہ سورج میرے حجرہ میں چمکنے والا ہوتا۔ تو ان سے ہم جواب میں یہ عرض کریں گے کہ عین ممکن ہے کہ آپ نے کبھی عصر کوکچھ مؤخر کیا ہو کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ چھوٹا تھا تو سورج کی شعاعیں غروب کے قریب تک اس سے منقطع نہیں ہوتی تھیں۔ پس ان روایات میں عصر کو جلدی پڑھنے میں کوئی دلیل نہیں ہے اس سلسلے میں یہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1117

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1118

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن يسار بن سلامة قال دخلت مع أبي علي أبي برزة فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى العصر فيرجع الرجل إلى أقصى المدينة والشمس حية قيل له قد مضى جوابنا في هذا فيما تقدم من هذا الباب فلم نجد في هذه الآثار لما صححت وجمعت ما يدل إلا على تأخير العصر ولم نجد شيئا منها يدل علي تعجيلها إلا قد عارضه غيره فاستحببنا بذلك تأخير العصر إلا أنها تصلى والشمس بيضاء في وقت يبقى بعده من وقتها مدة قبل تغيب الشمس ولو خلينا والنظر لكان تعجيل الصلوات كلها في أوائل أوقاتها أفضل ولكن اتباع ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما تواترت به الآثار أولى وقد روي عن أصحابه من بعده ما يدل على ذلك أيضا

یسار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ ابو برزہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمانے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرماتے اور نماز سے فارغ ہو کر آدمی شہر کی انتہا تک چلا جاتا اس حال میں کہ سورج ابھی چمکدار ہوتا تھا ۔ اگر ہم روایات سے قطع نظر قیاس کو دیکھیں تو تمام نمازوں کا اول وقت میں پڑھنا افضل نظر آتا ہے اس کی خواہ وہ وجہ تسلیم کریں کہ تعمیل امر الہی میں مسارعت ہے اور تاخیر میں عمل منافقین کی مشابہت ہے جس کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ مگر تاخیر کی روایات اس قدر کثرت سے پائی جاتی ہیں جو تاخیر کی افضلیت کو نمایاں کرتی ہے اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین سے اسکی تائید ہوتی ہے۔

دخلت مع أبي على أبي برزة ← يسار بْنِ سَلاَمَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1118

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1119

1056 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عمر رضي الله عنه كتب إلى عماله إن أهم أمركم عندي الصلاة من حفظها وحافظ عليها حفظ دينه ومن ضيعها فهو لما سواها أضيع صلوا العصر والشمس مرتفعة بيضاء نقية قدر ما يسير الراكب فرسخين أو ثلثه

نافع نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے اپنے حکام کو تحریر کیا کہ میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم ترین مسئلہ نماز ہے ۔ جس نے اس کی حفاظت کی اور دوسروں سے حفاظت کروائی اس نے اپنے دین کی حفاظت کی اور جس نے اس کو ضائع کیا وہ دین کے دوسرے اعمال کو اور زیادہ ضائع کرنے والا ہے عصر کی نماز ادا کرو جبکہ سورج بلند ،سفید صاف ہو اتنی دیر غروب سے پہلے ہو کہ سوار دو یا تین فرسخ جا سکے ۔

نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1119

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1120

1057 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا يزيد بن أبي حكيم عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال كنا مع أبي هريرة رضي الله عنه في جنازة فلم يصل العصر وسكت حتى راجعناه مرارا فلم يصل العصر حتى رأينا الشمس علي رأس أطول جبل بالمدينة

عکرمہ کہتے ہیں ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازہ میں شرکت کی انہوں نے عصر کی نماز ادا نہ کی اور خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے بار بار یہ بات دھرائی ہم نے دیکھا کہ اس وقت سورج مدینہ منورہ کے سب سے طویل پہاڑ کی چوٹی پر تھا ۔

عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1120

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1121

1058 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال كان من قبلكم أشد تعجيلا للظهر وأشد تأخيرا للعصر منكم فهذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه يكتب إلى عماله وهم أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرهم بأن يصلوا العصر والشمس بيضاء مرتفعة ثم أبو هريرة رضي الله عنه قد أخرها حتى رآها عكرمة على رأس أطول جبل بالمدينة ثم إبراهيم يخبر عمن كان قبله يعني من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحاب عبد الله أنهم كانوا أشد تأخيرا للعصر ممن بعدهم فلما جاء هذا من أفعالهم ومن أقوالهم مؤتلفا على ما ذكرنا وروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يصليها والشمس مرتفعة وفي بعض الآثار محلقة وجب التمسك بهذه الآثار وترك خلافها وأن يؤخروا العصر حتى لا يكون تأخيرها يدخل مؤخرها في الوقت الذي أخبر أنس بن مالك رضي الله عنه في حديث العلاء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال تلك صلاة المنافقين فإن ذلك الوقت هو الوقت المكروه تأخير صلاة العصر إليه فأما ما قبله من وقتها مما لم تدخل الشمس فيه صفرة وكان الرجل يمكنه أن يصلي فيه صلاة العصر ويذكر الله فيها متمكنا ويخرج من الصلاة والشمس كذلك فلا بأس بتأخير العصر إلى ذلك الوقت وذلك أفضل لما قد تواترت به الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه من بعده ولقد روى عن أبي قلابة أنه قال إنما سميت العصر لتعصر أي تأخر

منصور نے روایت کی کہ ابراہیم کہنے لگے تم سے پہلے لوگ ظہر تم سے زیادہ جلدی پڑھتے اور عصر تم سے زیادہ مؤخر کر کے پڑھتے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنے عمال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ عصر کی نماز ایسے وقت ادا کریں جبکہ سورج سفید او ربلند ہو پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو مؤخر کر رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ عکرمہ نے سورج کو مدینہ کی سب سے بلند چوٹی سے دیکھا اور ابراہیم بھی دیگر اصحاب رسول کے بارے میں خبر دے رہے ہیں اسی طرح اصحاب عبداللہ کہ وہ عصر کی بہت زیادہ تاخیر کیا کرتے تھے ۔ جب ان کے یہ افعال اور اقوال اسی طرح آئے ہیں جیسے ہم نے ذکر کیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ روایت آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ایسے حال میں پڑھتے بلند ہوتا اور بعض روایات میں (( محلقہ))کا لفظ بھی آیا ہے تو ان آثار کو اپنا نا ضروری ہوا اور اس کےخلاف کو چھوڑنا لازم ہوا ۔ پس نماز عصر کو اتنا مؤخر کیا جائے کہ وہ تاخیر ایسے وقت میں داخل نہ ہوجائے جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین والی مکروہ نماز قرار دیا ۔ اس سے پہلے پہلے وہ عصر کا ہی وقت جبکہ سورج میں زرد نہ آئے اس میں آدمی کے لیے ممکن ہے کہ نماز عصر ادا کرے اور اللہ کا اطمینان سے ذکر کرے اور نماز سے ایسے وقت میں فارغ ہو جائے کہ سورج ابھی چمکدار ہی ہو ۔ پس اس وقت تک نماز عصر کی تاخیر میں کچھ حرج نہیں اور یہ افضل ہے ۔ اس لیے کہ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے کثیر روایات آئی ہیں اورحضری ابو قلابہ کا بیان اس کی تائید کرتا ہے کہ اس کو عصر تعصر تاخیر کی وجہ سے کہا جاتا ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1121

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1122

1059 - حدثنا بذلك صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا خالد عن أبي قلابة قال إنما سميت العصر لتعصر فأخبر أبو قلابة أن اسمها هذا إنما لأن سبيلها أن تعصر وهذا الذي استحببناه من تأخير العصر من غير أن يكون ذلك إلى وقت قد تغيرت فيه الشمس أو دخلتها صفرة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وبه نأخذ فإن احتج محتج في التكبير بها أيضا بما

خالد نے ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عصر کا نما عصر رکھنے کی وجہ اس کا متاخر کرنا ہے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بذلك صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1122

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1123

1060 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال حدثني أبو النجاشي قال حدثني رافع بن خديج قال كنا نصلى العصر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ننحر الجزور فنقسمه عشر قسم ثم نطبخ فنأكل لحما نضيجا قبل أن تغيب الشمس قيل له قد يجوز أن يكونوا يفعلون ذلك بسرعة عمل وقد أخرت العصر فليس في هذا الحديث عندنا حجة على من يرى تأخير العصر وقد ذكرنا في باب مواقيت الصلاة في حديث بريدة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سئل عن مواقيت الصلاة صلى العصر في اليوم الأول والشمس بيضاء مرتفعة نقية ثم صلاها في اليوم الثاني والشمس مرتفعة أخرها فوق الذي قد كان أخرها في اليوم الأول فكان قد أخرها في اليومين جميعا ولم يعجلها في أول وقتها كما فعل في غيرها فثبت بذلك أن وقت العصر الذي ينبغي أن يصلى فيه هو ما ذهب إليه الآخرون آخر كتاب الأذان والمواقيت

ابوالنجاشی نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرتے پھر اونٹ ذبح کر کے اس کو دس حصوں میں تقسیم کرتے پھر پکا کر اس کا گوشت غروب آفتاب سےپہلے کھا لیتے تھے اس کو یہ کہا جائے گا کہ عین ممکن ہے وہ اس کام کوجلدی انجام دے لیتے ہوں اور عصر کو مؤخر پڑھتے ہوں ہمارے نزدیک اس روایت میں کوئی ایسی دلالت نہیں جو تاخیر عصر کےخلاف ہو۔ ہم باب المواقیت میں حضرت بریدہ کی روایت نقل کر آئے کہ انہوں نے پہلے دن عصر کی نماز اس حال میں پڑھی کہ سورج سفید بلند، صاف ستھرا تھا اور دوسرے دن عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھی جب سورج بلند تھا یعنی اس کو پہلے دن سے زیادہ مؤخر کر کے پڑھا جبکہ آپ نے دونوں دنوں میں ہی مؤخر کر کے پڑھی اور اول وقت میں جلدی کر کے نہیں پڑھی جیسا کہ دوسری نمازوں میں آپ نے کیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ نماز عصر کے ادا کرنے کا وقت وہی ہے جس کی طرف تاخیر عصر والے لوگ گئے ہیں نہ وہ جس کی طرف تعجیل والے گئے ۔ مکمل وضاحت مواقیت میں دیکھیں ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُو النَّجَاشِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1123

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter