Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1090

1029 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال ثنا عمي قال ثنا عمرو بن الحارث عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن بشر بن سعيد وسلمان الأغر عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا كان اليوم الحار فأبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم

بشر بن سعید اور سلمان الاغر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سخت گرمی کا دن ہوتو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو بے شک حرارت کی شدت یہ جہنم کی بھڑک سے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بشر بن سعيد وسلمان الأغر ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1090

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1091

1030 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا هشام بن حسان عن بن سيرين عن أبي هريرة رضي الله عنه وعن عوف عن الحسن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن شدة الحر من فيح جهنم فأبردوا بالصلاة

ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور عوف عن الحسن کے واسطہ سے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حرارت کی تیزی یہ جہنم کی بھڑک سے ہے پس تم نماز کوٹھنڈا کر کے پڑھو۔

الْحَسَنِ، ← أبي هريرة وعن عوف ← بن سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1091

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1092

1031 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي عن الحسن بن عبيد الله عن إبراهيم عن يزيد بن أوس عن ثابت بن قيس عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم ح

ثابت بن قیس نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1092

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1093

وعن أبي زرعة عن ثابت بن قيس عن أبي موسى يرفعه قال أبردوا بالظهر فإن الذي تجدون من الحر من فيح من جهنم ففي هذه الآثار الأمر بالإبراد بالظهر من شدة الحر وذلك لا يكون إلا في الصيف فقد خالف ذلك ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من تعجيل الظهر في الحر على ما ذكرنا من الآثار الأول فإن قال قائل فما دل أن أحد الأمرين أولى من الآخر قيل له لأنه قد روى أن تعجيل الظهر في الحر قد كان يفعل ثم نسخ

ثابت بن قیس نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے مرفوع نقل کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا فرمان گرامی ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو جو حرارت تم پا رہے ہو وہ جہنم کی بھڑک سے ہے ۔ ان آثار میں ظہر کو سخت حرارت کی وجہ سے ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا ، یہ حکم صرف گرمیوں میں ہے ۔ ہم نے پہلے جو آثار نقل کیے ہیں جن میں ظہر کو جلدی پڑھنے کا حکم ہے وہ اس کے خلاف ہیں اب کوئی شخص یہ کہے کہ یہاں تو دونوں میں سے کسی کے دوسرے سے افضل ہونے کی کوئی دلالت نہیں تو ہم عرض کریں گے پہلے ظہر کو جلدی پڑھنے والے حکم پر عمل رہا پھرمنسوخ ہو گیا جیسا یہ روایت اس پر دلالت کر رہی ہے ۔

أَبِي مُوسَى يَرْفَعُهُ ← ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ← أَبِي زُرْعَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1093

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1094

1032 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا يحيى بن معين وتميم بن المنتصر قالا ثنا إسحاق بن يوسف قال ثنا شريك عن بيان عن قيس بن أبي حازم عن المغيرة بن شعبة قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر بالهجير ثم قال إن شدة الحر من فيح جهنم فأبردوا بالصلاة فأخبر المغيرة في حديثه هذا أن أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالإبراد بالظهر بعد أن كان يصليها في الحر فثبت بذلك نسخ تعجيل الظهر في شدة الحر ووجب استعمال الإبراد في شدة الحر وقد روى عن أنس بن مالك وأبي مسعود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعجلها في الشتاء ويؤخرها في الصيف

قیس بن ابی حازم نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھائی پھر فرمایا بے شک گرمی کی شدت یہ جہنم کے ابال سےہے پس تم نماز کوٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنےاثر میں بتلایا کہ آپ پہلے سخت گرمی میں پڑھتے تھے پھر آپ نے ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ظہر میں جلدی کرنے والا عمل منسوخ ہو چکا اور شدید گرمی کے وقت میں اسے ٹھنڈا کر کے پڑھنا لازم ہوگیا اور حضرت انس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایات وارد ہیں کہ آپ اس نماز کو سردیوں میں جلدی ادا فرما لیتے اور گرمیوں میں اس میں تاخیر فرماتے ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← يحيى بن معين وتميم بن المنتصر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1094

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1095

1033 - حدثنا بذلك بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني يزيد بن أبي حبيب عن أسامة بن زيد عن محمد بن شهاب عن عروة بن الزبير قال أخبرني بشير بن أبي مسعود عن أبي مسعود أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر حين تزيغ الشمس وربما أخرها في شدة الحر وبإسناده عن أبي مسعود أنه رأي رسول الله صلى الله عليه و سلم يعجلها في الشتاء ويؤخرها في الصيف

عروہ بن الزبیر کہتے ہیں کہ مجھے بشیربن ابی مسعود نے بتلایا انہوں نے ابو مسعود سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے دیکھا جب سورج زوال پذیر ہوجاتا ہے اور بسااوقات اس کو سخت گرمی میں مؤخر فرمایا ۔ اور اسی سند سے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردیوں میں جلدی کرتے اور گرمیوں میں مؤخر کرکے پڑھتے ہوئے دیکھا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1095

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1096

1034 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا حرمي بن عمارة قال ثنى أبو خالدة قال ثنا أنس بن مالك قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا اشتد البرد بكر بالصلاة وإذا اشتد الحر أبرد بالصلاة

ابو خالد نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سخت سردی ہوتی تو نماز کوجلد ادا فرماتے اور جب سخت گرمی ہوتی تو نماز کوٹھنڈا کرکے پڑھتے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو خالدة ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1096

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1097

1035 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن ثابت قال ثنا أبو خالدة عن أنس رضي الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا كان الشتاء بكر بالظهر وإذا كان الصيف أبرد بها قال أبو جعفر فهكذا السنة عندنا في صلاة الظهر على ما يذكر أبو مسعود رضي الله عنه وأنس رضي الله عنه من صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم وليس فيما قدمنا ذكره في الفصل الأول ما يجب به خلاف شيء من هذا لأن حديث أسامة وعائشة رضي الله عنها وخباب وأبي برزة كلها عندنا منسوخة بحديث المغيرة الذي رويناه في الفصل الآخر وأما حديث بن مسعود في صلاة الظهر حين زالت الشمس وحلفه أن ذلك وقتها فليس في ذلك الحديث أن ذلك كان منه في الصيف ولا أنه كان منه في الشتاء ولا دلالة في ذلك على خلاف غيره وهذا أنس بن مالك رضي الله عنه قد روى عنه الزهري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الظهر حين زالت الشمس ثم جاء أبو خالدة ففسر عنه أنه كان يصليها في الشتاء معجلا وفي الصيف مؤخرا فاحتمل أن يكون ما روى بن مسعود رضي الله عنه هو كذلك أيضا فإن احتج محتج في تعجيل الظهر بما

ابو خالد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی کا موسم ہوتا تو نماز ظہر کو جلد ادا فرماتے اور جب گرمی ہوتی تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے ہاں یہی سنت ہے جس کو حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابی مسعود رضی اللہ عنہ نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ اور فصل اول میں مذکور روایات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سےا س کی مخالفت لازم ہوتی ۔ البتہ ہمار ے ہمارے کیا ہے اور فصل اول میں مذکور روایات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے اس کی مخالفت لازم ہوتی ۔ البتہ ہمارے ہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، خباب ابو برزہ اسامہ رضی اللہ عنہم کی تمام روایات منسوخ ہیں اور دوسری فصل میں ہم نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی ہے وہ ان کی ناسخ ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت جو ظہر کے سلسلہ میں اس کےخلاف کسی کو دلالت بھی نہیں ملتی یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں جن سےزہری نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت ادا فرمائی جب سورج ڈھل گیا ۔ پھر ابو خالدہ راوی نے اس کی تفسیر زہری سے یہ نقل کی کہ اس سے سردیوں کی ظہر مراد ہے ۔ گرمیوں کی ظہر دیر سے ادا کی جاتی تھی پس اس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت میں میں بھی احتمال پیدا ہو یا کہ ممکن ہے اس کا مطلب بھی یہی ہو۔ پھر اگر کوئی اس روایت کو ظہر جلدی پڑھنے میں بطور حجت پیش کرے۔

أَنَسٍ، ← أبو خالدة ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1097

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1098

1036 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة قال سمع الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه فقال ما هذه الصلاة قال صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان رضي الله عنهم جين زالت الشمس قال فصرفه وقال لا تؤذن ولا تؤم قيل له ليس في هذا الحديث أن الوقت الذي رآهم فيه سويد كان في الصيف وقد يجوز أن يكون كان في الشتاء ويكون حكم الصيف عندهم بخلاف ذلك والدليل على ذلك

ابو حصین نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حجاج نے میری ظہر کی اذان سنی جبکہ وہ مقام جبانہ ( یہ مدینہ سے شام کی جانب ذہاب کے قریب مقام ہے یا بلند زرخیز زمین کو کہتے ہیں ) میں تھا اس نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور پوچھا یہ کون سی نماز ہے ؟ تو میں نےجواب دیا میں نے ابو بکر و عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس وقت نماز ظہر ادا کی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا ( اس پرحجاج نے میری بات کو قبول نہ کیا بلکہ مسترد کردیا)اور اذان و نماز سےمعزول کر دیا اورکہا آئندہ نہ اذان دینا اور نہ جماعت کرانا اسے کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو ایسی کوئی دلیل نہیں کہ حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے ان کو جس وقت میں دیکھا وہ موسم گرماہی تھا ۔ عین ممکن ہے کہ وہ موسم سرما ہواور گرمیوں کا حکم ان کے ہاں اس کےخلاف ہو۔ اس کاثبوت بن سنان کی راویت میں موجود ہے ۔

فصرفه ← صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان جين زالت الشمس ← ما هذه الصلاة ← الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1098

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1099

1037 - أن يزيد بن سنان قد حدثنا قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر أن عمر قال لأبي محذورة بمكة إنك بأرض حارة شديدة الحر فأبرد ثم أبرد بالأذان للصلاة أفلا ترى أن عمر رضي الله عنه قد أمر أبا محذورة في هذا الحديث بالإبراد لشدة الحر وأولى الأشياء بنا أن نحمل ما رواه عنه سويد علي غير خلاف ذلك فيكون ذلك كان منه في وقت لا حر فيه فإن قال قائل إن حكم الظهر أن يعجل في سائر الزمان ولا يؤخر كما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث خباب وعائشة رضي الله عنها وجابر وأبي برزة وإنما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كان من أمره إياهم بالإبراد رخصة منه لهم لشدة الحر لأن مسجدهم لم يكن له ظلال وذكر في ذلك ما روى عن ميمون بن مهران

حضرت نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےمکہ میں ابو محذور رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تم گرم سخت حرارت والی سر زمین میں رہتے ہو پس ٹھنڈا کرو ٹھنڈا کرو پھر نماز ظہر کی اذان دو۔ کیا تم توجہ نہیں کرتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو سخت حرارت کی وجہ سے ٹھنڈے وقت میں نماز کا حکم دیا۔ پس بہترین طریق تو یہ ہے کہ حضرت سویدرضی اللہ عنہ والی روایت کو اس کے ظاہر کے علاوہ محمول کیا جائے گا اور اس سے وہی وقت مراد ہو گا کہ جس میں شدت حرارت نہ ہو۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، خباب اور جابر و ابو برزہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں تو ظہر کو تمام موسموں میں جلدی پڑھنے کا حکم وراد ہوا ہے اور آپ کا اسے ٹھنڈے وقت وقت میں پڑھنے کا حکم رخصت و سہولت کے لیے ہے اس کا سبب گرمی کی شدت بھی کیونکہ وہاں سایہ نایاب تھا ۔ چنانچہ اس کے متعلق یہ اثر ملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1100

1038 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا أبو المليح عن ميمون بن مهران قال لا بأس بالصلاة نصف النهار وإنما كانوا يكرهون الصلاة نصف النهار لأنهم كانوا يصلون بمكة وكانت شديدة الحر ولم يكن لهم ظلال فقال أبردوا بها قيل له هذا كلام يستحيل لأن هذا لو كان كما ذكرت لما أخرها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في السفر حيث لا كن ولا ظل على ما في حديث أبي ذر ويصليها حينئذ لأنه في أول وقتها من غير كن ولا ظل فتركه الصلاة حينئذ دليل على أن ما كان منه من الأمر بالإبراد ليس لأن يكونوا في شدة الحر في الكن ثم يخرجون فيصلون الظهر في حال ذهاب الحر لأنه لو كان ذلك كذلك لصلاها حيث لا كن في أول وقتها ولكن ما كان منه في هذا القول عندنا والله أعلم إيجاب منه أن ذلك هو سنتها كان الكن موجودا أو معدوما وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو المنیح نے بیان کیا کہ میمون بن مہران نے بتلایا کہ نصف النہار کے قریب نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں دراصل وہ نصف النہار کے وقت نماز کو اس لیے ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ مکہ میں نماز پڑھتے اور وہ شدید گرم جگہ ہے اور اس وقت مناسب سائے بھی نہ ہوتے تھے اسی لیے فرمایا تم ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ ناممکن ہے اگر اسی طرح ہو جس طرح آپ نے ذکر کیا تو آپ سفر میں اس کو مؤخر نہ فرماتے ۔جبکہ وہاں نہ سایہ ہے اور نہ کوئی جھونپڑا۔ جیسا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے آپ نے اسے پہلے ہی وقت میں پڑھا کیونکہ وہاں سایہ وغیرہ کا معاملہ نہ تھا ۔ تو آپ کا اس وقت میں اس کو چھوڑدینا اس کو ثابت کرتا ہے کہ آپ نے ٹھنڈا کرکے جو پڑھنے کا حکم دیا وہ اس بناء پر نہیں تھا کہ سخت گرمی کے وقت میں سوہ سائے میں رہیں اور پھر نکل کر گرمی کے چلے جانے پر ظہر کی نماز ادا کریں ۔ اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو جہاں سایہ نہیں تھا وہاں آپ پہلے ہی وقت میں ادا فرماتے لیکن ہمارے نزدیک آپ کا یہ ارشاد (واللہ اعلم) وجوب کے لیے تھا اور یہی آپ کا طریقہ تھا ۔ خواہ سایہ ہو یا نہ ہو اور یہی قول امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے ۔ میمون بن مہران کی بات سے معلوم ہوتا ہے ظہر میں تعجیل ہی ہر زمانے میں افضل ہے جیسا کہ شروع باب میں حدیث عائشہ ، جناب جابر ، ابو برزہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے یہ ابراد کا حکم آپکی طرف رخصت تھی کیونکہ گرمی سخت تھی ابراد حکم نہ تھا کہ اس کو افضل قرار دیا جائے ۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو الْمَلِيحِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1100

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter