شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1063
1005 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن المثنى قال ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال ثنا معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية عن جبير بن نفير قال صلى بنا معاوية الصبح بغلس فقال أبو الدرداء أسفروا بهذه الصلاة فإنه أفقه لكم إنما تريدون أن تخلوا بحوائجكم فهذا عندنا والله تعالى أعلم من أبي الدرداء علي إنكاره عليهم ترك المد بالقراءة إلى وقت الإسفار لا على إنكاره عليهم وقت الدخول فيها فلما كان ما روينا عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الإسفار الذي يكون الانصراف من الصلاة فيه مع ما روينا عنه من إطالة القراءة في تلك الصلاة ثبت أن الإسفار بصلاة الصبح لا ينبغي لأحد تركه وأن التغليس لا يفعل إلا ومعه الإسفار فيكون هذا في أول الصلاة وهذا في آخرها فإن قال قائل فما معنى ما روى عن عائشة رضي الله عنها أن النساء كن يصلين الصبح مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم ينصرفن وما يعرفن من الغلس قيل له يحتمل أن يكون هذا قبل أن يؤمر بإطالة القراءة فيها فإنه قد
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز غلس میں پڑھائی تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نےکہا اس نماز کو اسفار میں پڑھو یہ زیادہ یاد آخرت دلانے والی ہے تم چاہتے ہو کہ جلدی سے حوائج دنیا میں مصروفیات اختیار کریں ۔ہمارے نزدیک حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے ان پر یہ اعتراض اسی وجہ سے کیا کہ انہوں نے روشنی تک قراء ت کو لمبا نہیں کیا اندھیرے میں شروع کرنے پر اعتراض نہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایات ہم نے ذکر کر دیں کہ وہ سپیدے میں نماز سے فارغ ہوتے اور یہ بھی روایت کر دیا کہ وہ اس میں لمبی قراءت کرتے تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ نماز صبح کو سپیدے میں چھوڑنا یہ کسی کے مناسب نہیں اندھیرے میں پڑھنا اس وقت ہے جب اس کے ساتھ اسفار ہو گویا اندھیرا نماز کی ابتداء میں اور اسفاراس کے اختتام میں تھا اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا کیا مطلب ہے کہ وہ عورتوں کے لوٹنے کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں " وما یعرفن من الغلس" کہ وہ اندھیرے کی وجہ سے پہنچانی نہیں جاتی تھیں تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ عین ممکن ہے کہ یہ طویل قراءت کے حکم سے پہلے کا حکم ہو جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔ علامہ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا یہ نکیر فرمانا ہمارے نزدیک اسی وجہ سے تھا کہ انہوں نے قراءت کو طویل نہ کیا تھا آپ کا مقصد یہ تھا کہ قراءت کو طویل کرو تاکہ اسفار میں داخل ہو جاؤ یہ مطلب نہ تھا کہ تم غلس میں کیونکر نماز ادا کرتے ہو واللہ اعلم ۔
جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1063
