Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1051

993 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال صلى بنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه بمكة صلاة الصبح فقرأ في الركعة الأولى بيوسف حتى بلغ وابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم ثم ركع ثم قام فقرأ في الركعة الثانية بالنجم فسجد ثم قام فقرأ إذا زلزلت الأرض زلزالها ورفع صوته بالقراءة حتى لو كان في الوادي أحد لأسمعه

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں نماز فجرپڑھائی اور پہلی رکعت میں سورۃ یوسف پڑھی جب اس آیت پر پہنچے (وابیضت عیناۃ من الحزن فھو کظیم) پھر رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں سورۃ نجم پڑھی اور سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے پھر اذا زلزلت الارض ۔ پڑھی اور آواز کو اس قدر بلند کیایہاں تک کہ اگر کوئی وادی مکہ میں ہوتا تو ضروراس آواز کو سن پاتا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1051

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1052

994 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم التيمي عن أبيه أنه صلى مع عمر رضي الله عنه الفجر فقرأ في الركعة الأولى بيوسف وفي الثانية بالنجم فسجد

ابراہیم تیمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی آپ نے پہلی رکعت میں سورۃ یوسف پڑھی اور دوسری میں سورۃ نجم پڑھی اور سجدہ کیا ۔

إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1052

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1053

995 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا أبي قال سمعت الأعمش يحدث عن إبراهيم التيمي عن حصين بن سبرة قال صلى بنا عمر رضي الله عنه فذكر مثله قال أبو جعفر فلما روى ما ذكرنا عن عمرو رضي الله عنه في حديث عبد الله بن عامر أن قراءته تلك كانت قراءة بطية لم نر والله أعلم أن يكون دخوله فيها كان إلا بغلس ولا خروجه كان منها إلا وقد أسفر إسفارا شديدا وكذلك كان يكتب الى عماله

ابراہیم تیمی نے حصین بن ہبرہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل ہوئیں اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرتے ہمارے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ اندھیرے میں نماز شروع کرتے اور نہایت سپیدے میں اس سے فارغ ہوتے اور اپنے عمال کو بھی یہی لکھتے ۔

أبو جعفر فلما روى ما ذكرنا ← مِثْلَہُ ← صلى بنا عمر ← حُصَيْنِ بْنِ سَبْرَةَ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1053

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1054

996 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا يزيد بن إبراهيم قال ثنا محمد بن سيرين عن المهاجر أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إلى أبي موسى أن صل الفجر بسواد أو قال بغلس وأطل القراءة

محمد بن سیرین نے مہاجر سے نقل کیا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ فجر کی نماز غلس میں پڑھو اور قراءت طویل کرو۔

بغلس وأطل القراءة ← إلى أبي موسى أن صل الفجر بسواد أو ← المهاجر أن عمر بن الخطاب ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1054

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1055

997 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا بن عون عن محمد عن المهاجر عن عمر رضي الله عنه مثله أفلا تراه يأمرهم أن يكون دخولهم فيها بغلس وأن يطيلوا القراءة فكذلك عندنا أراد منه أن يدركوا الإسفار وكذلك كل من روينا عنه في هذا شيئا سوى عمر رضي الله عنه قد كان ذهب إلى هذا المذهب أيضا

یزید بن ہاروں کہتے ہیں کہ ہمیں ابن عون نے بتلایا اور انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے مہاجر سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ آپ ان کو اندھیرے میں نماز شروع کرنے کا حکم دیتے اور قراءت کو لمبا کرنے کے لیے کہتے ۔ ہمارے ہاں آپ کا مقصد یہی تھا کہ وہ سپیدے کو پا لیں ۔ اسی طرح وہ تمام حضرات جن کے بارے میں ہم نے کوئی روایت کی ہے سوائے عمر رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس راہ پر بہت دور جاتے ۔

الْمُهَاجِرِ، ← مُحَمَّدٍ ← بن عون ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1055

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1056

998 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال صلى بنا أبو بكر رضي الله عنه صلاة الصبح فقرأ بسورة آل عمران فقالوا قد كادت الشمس تطلع فقال لو طلعت لم تجدنا غافلين

قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہمیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز صبح پڑھائی اور اس میں سورۃ آل عمران پڑھی لوگوں نے کہا قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا تو آپ نے فرمایا اگر وہ طلوع ہو جاتا تو ہمیں غفلت میں نہ پاتا۔

لو طلعت لم تجدنا غافلين. ← قد كادت الشمس تطلع ← صلى بنا أبو بكر صلاة الصبح فقرأ بسورة آل عمران ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1056

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1057

999 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أنا بن لهيعة قال ثنا عبيد الله بن المغيرة عن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي قال صلى بنا أبو بكر رضي الله عنه صلاة الصبح فقرأ بسورة البقرة في الركعتين جميعا فلما انصرف قال له عمر رضي الله عنه كادت الشمس تطلع فقال لو طلعت لم تجدنا غافلين قال أبو جعفر فهذا أبو بكر الصديق رضي الله عنه قد دخل فيها في وقت غير الأسفار ثم مد القراءة فيها حتى خيف عليه طلوع الشمس وهذا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وبقرب عهدهم من رسول الله صلى الله عليه و سلم وبفعله لا ينكر ذلك عليه منهم منكر فذلك دليل علي متابعتهم له ثم فعل ذلك عمر رضي الله عنه من بعده فلم ينكره عليه من حضره منهم فثبت بذلك أن هكذا يفعل في صلاة الفجر وأن ما علموا من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم فغير مخالف لذلك فإن قال قائل فما معنى قول بن عمر لمغيث بن سمي لما غلس بالفجر هذه صلاتنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع أبي بكر رضي الله عنه ومع عمر رضي الله عنه فلما قتل عمر رضي الله عنه أسفر بها عثمان رضي الله عنه قيل له قد يحتمل أن يكون أراد بذلك وقت الدخول فيها لا وقت الخروج منها حتى يتفق ذلك وما روينا قبله ويكون قوله ثم أسفر بها عثمان أي ليكون خروجهم في وقت يأمنون فيه ولا يخافون فيه أن يغتالوا كما أغتيل عمر رضي الله عنه وقد روى عن عثمان رضي الله عنه أيضا ما يدل أنه كان يدخل فيها بسواد لإطالته القراءة فيها

عبداللہ بن حارث بن جزء الزبیدی کہتے ہیں ہمیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز صبح پڑھائی تو آپ نے دور کعتوں میں مکمل سورۃ بقرہ پڑھی جب نماز سے واپس لوٹے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا تو انہوں نے جواب دیا اگر وہ طلوع ہو جاتا تو ہمیں غافل نہ پاتا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے اندھیرے میں نماز کو شروع کیا پھر قراءت کو طویل کیا یہاں تک آفتاب کے طلوع ہونے کا خطرہ ہو گیا یہ سب عمل اصحاب رسول کی موجودگی میں ہوا جبکہ ابھی انہوں نے عہد نبوت کو پایا اور کسی انکار کرنے والے نے بھی ان کی اس بات سے انکار نہیں کیا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سچی پیروی کرنے والے تھے پھر عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے بعد ایسا کیا اور حاضرین میں سے کسی نے انکار کیا اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نماز فجر میں اسی طرح کیا جاتا تھا۔ رہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل تو وہ اس کے خلاف نہں اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ پھر مغیث ابن سمیر کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا جب انہوں نے فجر کو اندھیرے کے اندر ادا کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہماری نماز اسی طرح تھی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو سپیدے میں شروع فرمایا تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اس بات کا بالکل احتمال ہے کہ اس سے داخل ہونے کا وقت مراد ہو نکلنے کا وقت مراد نہ ہوتا کہ روایات کا مفہوم ان روایات سے متفق ہوجائے جو اس سے پہلے ہم نے روایت کی ہیں پھر ان کا قول " ہم اسفر بھا عثمان" یعنی تاکہ ان کا نکلنا ایسے وقت میں ہو جس میں امن و سکون ہو اور دھوکے سے حملہ کا خطرہ نہ ہوجیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دھوکہ سے شہید کیا گیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ارشادات مروی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ اندھیرے میں اس میں داخل ہوئے ۔

عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بن لهيعة ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1057

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1058

1000 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد وربيعة بن أبي عبد الرحمن عن القاسم بن محمد أن الفرافصة بن عمير الحنفي أخبره قال ما أخذت سورة يوسف إلا من قراءة عثمان بن عفان رضي الله عنه إياها في الصبح من كثرة ما كان يرددها فهذا يدل أيضا أنه قد كان يحذو فيها حذو من كان قبله من الدخول فيها بسواد والخروج منها في حال الإسفار وقد كان عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ينصرف منها مسفرا

افرافصہ بن عمیر الحنفی نے بتلایا کہ میں نے سورۃ یوسف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی قراءت سے یاد کی وہ خاص طور پر اس سورت کو فجر میں کثرت سےپڑھتے تھے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنے پہلے اپنے پہلے والے حضرات کے مقدم بقدم چلتے تھے ، اندھیرے میں داخل ہوتے اور سپیدے کی حالت میں اس سے نکلتے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی خوب روشنی کے وقت نماز سے فارغ ہوتے۔

القاسم بن محمد أن الفرافصة بن عمير الحنفي ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1058

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1059

1001 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي عن الأعمش قال حدثني إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد أنه كان يصلي مع إمامهم في التيم فيقرأ بهم سورة من المئين ثم يأتي عبد الله فيجده في صلاة الفجر

حارث بن سوید کہتے ہیں کہ میں اپنے امام کے ساتھ قبیلہ بنو تیم میں نماز فجر پڑھتا اور امام مئین کو کوئی سورت پڑھ کرنماز پڑھا تا پھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آتا تو ان کو نما ز فجر میں مصروف پاتا۔

إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1059

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1060

1002 - حدثنا أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري قال ثنا آدم بن أبي إياس قال ثنا إسرائيل قال ثنا أبو إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال كنا نصلي مع بن مسعود رضي الله عنه فكان يسفر بصلاة الصبح فقد عقلنا بهذا أن عبد الله كان يسفر فعلمنا بذلك أن خروجه منها كان حينئذ ولم يذكر في هذه الأحاديث دخوله فيها في أي وقت كان فذلك عندنا والله أعلم على مثل ما روى عن غيره من أصحابه وقد كان يفعل أيضا مثل هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز ادا کرتے وہ نماز صبح اسفار میں ادا کرتے۔ اس اثر سے ہم نے معلوم کر لیا کہ عبداللہ خوب سیپدے میں نماز پڑھتے اور اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ نماز سے ان کو فراغت کا وقت تھا مگر نماز میں ان کے داخلے کا وقت مذکور نہیں اور یہ چیز ہمارے ہاں (واللہ اعلم ) اسی طرح ہے جیسے ان کے علاوہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسی طرح کیا جاتا تھا جیسا کہ ان روایات میں ہے ۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← اِسْرَائِیْلُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1060

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1061

1003 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال أنا سفيان بن عيينة قال ثنا عثمان بن أبي سليمان قال سمعت عراك بن مالك يقول سمعت أبا هريرة رضي الله عنه يقول قدمت المدينة ورسول الله صلى الله عليه و سلم بخيبر ورجل من بني غفار يؤم الناس فسمعته يقرأ في صلاة الصبح في الركعة الأولى بسورة مريم وفي الثانية بويل للمطففين

عراک بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں جب مدینہ میں آیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر میں تھے بنی غفار کا ایک آدمی لوگوں کو امامت کراتا تھا میں نے اسے سنا کہ وہ نماز صبح کی رکعت اولیٰ میں سورہ مریم اور دوسری میں ویل للمطفقین پڑھتا تھا ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1061

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1062

1004 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا فضيل بن سليمان عن خثيم بن عراك عن أبيه عن أبي هريرة مثله غير أنه قال فاستخلف على المدينة سباع بن عرفطة الغفاري فصليت خلفه فهذا سباع بن عرفطة قد كان في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم باستخلاف رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه يصلي بالناس صلاة الصبح هكذا يطيل فيها القراءة حتى يصيب فيها التغليس والإسفار جميعا وقد روى أيضا عن أبي الدرداء من هذا شيء

عراک بن مالک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر سباع بن عرفطہ غفاری کو حاکم مقر ر کر رکھا تھا میں نے ان کے پیچھے نما زپڑھی یہ سباع ابن عرفطہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں لوگوں کونماز پڑھاتے اور اس میں قراءت طویل کرتے تاکہ غلس اور اسفار دونوں کو پالیں اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی سلسلے میں روایت آئی ہے ۔

أبي هريرة مثله غير ← أَبِيهِ ← خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1062

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter