شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1015
959 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت كنا نساءا من المؤمنات يصلين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الصبح متلفعات بمروطهن ثم يرجعن إلى أهلهن وما يعرفهن أحد
زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہےکہ ہم مومن عورتیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوتیں پھر اپنے گھرواپس لوٹتیں تو ( اندھیرے کی وجہ سے ) ان کو کوئی پہچان نہ سکتا تھا ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1015
