شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 1009
وحدثنا علي بن معبد قال ثنا روح قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذه آثار قد تواترت وجاءت مجيئا صحيحا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الصلاة الوسطى هي العصر وقد قال بذلك أيضا جلة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم
ابو عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حسن عن سمرہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہ آثار متواتر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کر رہے ہیں کہ اس سے نماز عصر مراد ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم الشان جماعت نے یہ قول کیا ہے ۔
سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحٌ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Hadith 1009
