شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 973
919 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا عاصم بن بهدلة عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أخر عشاء الآخرة حتى كان ثلث الليل أو قربه ثم جاء وفي الناس رقد وهم عرون فغضب غضبا شديدا ثم قال لو أن رجلا ندب الناس إلى عرق أو مرماتين لأجابوا له وهم يتخلفون عن هذه الصلاة لقد هممت أن آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أتخلف على أهل هذه الدورة الذين يتخلفون عن هذه الصلاة فأضرمها عليهم بالنيران
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ رات کا ثلث حصہ گزر گیا یا گزرنے کے قریب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بعض لوگ سو رہے تھے اور وہ کپڑوں سے ننگے تھے آپ سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا اگر لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو پائے کی طرف بلایا جاتا تو وہ ضرور جاتے مگر اس نماز سے وہ پیچھے رہنے والے ہیں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کو آگ سے جلا دوں ۔
لَوْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق
Hadith 973
