Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 973

919 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا عاصم بن بهدلة عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أخر عشاء الآخرة حتى كان ثلث الليل أو قربه ثم جاء وفي الناس رقد وهم عرون فغضب غضبا شديدا ثم قال لو أن رجلا ندب الناس إلى عرق أو مرماتين لأجابوا له وهم يتخلفون عن هذه الصلاة لقد هممت أن آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أتخلف على أهل هذه الدورة الذين يتخلفون عن هذه الصلاة فأضرمها عليهم بالنيران

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ رات کا ثلث حصہ گزر گیا یا گزرنے کے قریب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بعض لوگ سو رہے تھے اور وہ کپڑوں سے ننگے تھے آپ سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا اگر لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو پائے کی طرف بلایا جاتا تو وہ ضرور جاتے مگر اس نماز سے وہ پیچھے رہنے والے ہیں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کو آگ سے جلا دوں ۔

لَوْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Hadith 973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 974

920 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر عن عاصم فذكر مثله بإسناده فهذا أبو هريرة رضي الله عنه يخبر أن الصلاة التي قال فيها النبي صلى الله عليه و سلم هذا القول هي العشاء ولم يدله ذلك على أنها هي الصلاة الوسطى بل وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك مما سنذكره في موضعه إن شاء الله تعالى وقد وافق أبا هريرة رضي الله عنه من التابعين على ما قال من ذلك سعيد بن المسيب

ابو بکر نے عاصم سے اور اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ اور سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس بات میں موافقت کی ہے ۔ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ نماز جس کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے وہ نماز عشاء ہے اور انہوں نے اس طرح قطعا راہنمائی نہیں فرمائی کہ وہ درمیانی نماز کامصداق ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف روایت وارد ہے جس کو ہم اپنے مقام پر انشاء اللہ ذکر کریں گے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس سلسلہ میں تابعین نے موافقت کی ہے جیسا کہ ابن میسب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔

Hadith 974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 975

921 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد قال أنا عطاء الخراساني عن سعيد بن المسيب قال كانت الصلاة التي أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحرق علي من تخلف عنها صلاة العشاء الآخرة وقد روى عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه خلاف ذلك كله وأن ذلك القول لم يكن من النبي صلى الله عليه و سلم لحال الصلاة وإنما كان لحال أخرى

عطاء خراسانی سے سعید بن المسیب نے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر جلانے کی دھمکی جس نماز کے متعلق دی وہ نماز عشاء ہے اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس سب کے خلاف روایت آئی ہے کہ آپ کا یہ قول نماز کے لیے نہ تھا بلکہ اور حاجت کےلیے تھا ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Hadith 975

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 976

922 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا عبد الله بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير قال سألت جابرا أقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لولا شيء لأمرت رجلا أن يصلي بالناس ثم حرقت بيوتا على ما فيها قال جابر إنما قال ذلك من أجل رجل بلغه عنه شيء فقال لئن لم ينته لأحرقن بيته على ما فيه فهذا جابر يخبر أن ذلك القول من النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان للتخلف عما لا ينبغي التخلف عنه فليس في هذا ولا في شيء مما تقدمه الدليل على الصلاة الوسطى ماهي فلما انتفى بما ذكرنا أن يكون فيما روينا عن زيد بن ثابت في شيء من ذلك دليل رجعنا إلى ما روى عن بن عمر فإذا ليس فيه حكاية عن النبي صلى الله عليه و سلم وإنما هو من قوله لأنه قال هي الصلاة التي وجه فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة وقد روى عنه من غير هذا الوجه خلاف ذلك

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سےپوچھا کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو میں ایک آدمی کو کہتا کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائے پھر گھروں کو سب چیزوں سمیت جلا ڈالتا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمائی جس کے متعلق کوئی بات پہنچی تو فرمایا اگر وہ باز نہ آیا تو میں اس کا گھر ہر چیز سمیت جلا دوں گا۔ یہ جابر رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں یہ کسی ایسی چیز سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے تھا جس سے تخلف درست نہیں اور دھمکی اس سے متعلق ہے ۔ یہ جابر رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس شخص سے متعلق تھا جو ایسی چیزوں سے جان بوجھ کر پیچھے رہنے والے تھے جس سے پیچھے رہنا درست نہیں ۔ ان روایات اور ان سے پہلے مذکورہ روایات میں کوئی بھی نماز وسطیٰ کی حقیقت میں نشاندہی نہیں کرتی جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول میں کوئی دلیل نہ ملی تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف رجوع کیا ۔ اس میں عمر رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تو مذکور ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی چیز بیان نہیں کی گئی ۔ خود ان کا قول یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکعبہ کی طرف رخ فرمایا اور دوسری سند سے ان سے اختلاف کی اور صورت منقول ہے ۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← عبد الله بن لهيعة ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Hadith 976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 977

923 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث ح

عبداللہ بن صالح نے لیث سے اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے ۔

اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Hadith 977

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 978

وحدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا الليث قال حدثني بن الهاد عن بن شهاب عن سالم عن أبيه قال الصلاة الوسطى صلاة العصر فلما تضاد ما روى في ذلك عن بن عمر دل هذا على أنه لم يكن عنده فيه شيء عن النبي صلى الله عليه و سلم ورجعنا إلى ما روى عن غيره فإذا أبو بكرة قد

ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ صلاۃ وسطی صلاۃ عصر ہے ۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہ سے متضاد روایات وارد ہوئیں تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اس سلسلہ میں ان کوجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ پہنچی تھی اب ان کے علاوہ اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات کودیکھتے ہیں ۔

غيره فإذا أبو بكرة قد ← النبي صلى الله عليه و سلم ورجعنا إلى ما روى ← بن عمر دل هذا على أنه لم يكن عنده فيه شيء ← الصلاة الوسطى صلاة العصر فلما تضاد ما روى في ذلك ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وحدثنا يونس

Hadith 978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 979

924 - حدثنا قال ثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد عن عوف عن أبي رجاء قال صليت خلف بن عباس رضي الله عنهما الغداة فقنت قبل الركوع وقال هذه الصلاة الوسطى

ابورجاء کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو انہوں نے رکوع سے پہلے قتوت پڑھی اور فرمایا یہ نماز صلاۃ وسطیٰ ہے ۔

صليت خلف بن عباس الغداة فقنت قبل الركوع وقال هذه الصلاة الوسطى ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 980

925 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا قرة قال ثنا أبو رجاء عن بن عباس رضي الله عنهما قال هي صلاة الصبح

ابو رجاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نماز فجر یہی صلاۃ وسطیٰ ہے ۔

«هِيَ صَلَاةُ الصُّبْحِ» ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← قُرَّۃَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 981

926 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان عن همام عن قتادة عن أبي الخليل عن جابر بن زيد عن بن عباس رضي الله عنهما مثله

قتادہ نے ابو الخلیل اور انہوں نے جابر بن زید سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن عباس مثله ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Hadith 981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 982

927 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن عفير قال ثنا داود بن عبد الرحمن عن عمرو بن دينار عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما مثله

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔

بن عباس مثله ← مُجَاهِدٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← بن أبي داود

Hadith 982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 983

928 - حدثني أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا عبد الله بن المبارك عن الربيع بن أنس عن أبي العالية قال صليت خلف أبي موسى الأشعري صلاة الصبح فقال رجل إلى جنبي من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم هذه الصلاة الوسطى فكان ما ذهب إليه بن عباس رضي الله عنهما من هذا هو قول الله عز و جل حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين فكان ذلك القنوت عنده هو قنوت الصبح فجعل بذلك الصلاة الوسطى هي الصلاة التي فيها القنوت عنده وقد خولف بن عباس رضي الله عنه في هذه الآية فيم نزلت

ابو العالیہ کہتے ہیں میں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز صبح ادا کی ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو میرے پہلو میں تھے کہنے لگے یہ صلاۃ وسطیٰ ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے استدلال میں آیت " حافظواعلی الصلوات" کو پیش کیا اور ان کے ہاں قنوت سے صبح مراد ہے جب قنوت سے صبح کا قنوت مراد ہے تو جس نماز میں وہ قنوت پایا جاتا ہے وہ نماز صلوۃ وسطیٰ ہے ۔ اس آیت کے شان نزول میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف روایات بھی موجود ہیں ملاحظہ ہوں ۔

صليت خلف أبي موسى الأشعري صلاة الصبح ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 983

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 984

929 - فحدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل بن أبي خالد عن الحارث بن شبيل عن أبي عمرو الشيباني عن زيد بن أرقم قال كنا نتكلم في الصلاة حتى نزلت حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين فأمرنا بالسكوت

ابو عمرو شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ہم نماز میں بات کر لیا کرتے تھے یہاں تک کہ (وقومواللہ قانتین) اتری پس ہمیں نماز میں خاموشی کا حکم دیا گیا ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 984

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter